A. Hameed (1928-2011) Urdu Novelist, Short Story Writer, Columnist, Children’s Author

 A Hameed-01 Cropped 1MB

گلاب کی ٹہنی سے لکھنے والا

تحریر :  طلعت افروز

About Talat Afroze, PhD

یہ کالم ۱۴ مئی، ۲۰۱۱ کو گوُگل بلوگ  سپاٹ   ’’نئی منزل ، نئی راہیں ! ‘‘ پر طلعت افروز نے شایع کیا جس کا انٹرنیٹ لنک یہ ہے 

  ہیلو ؟ !! السلام علیکم ! مسعود ، مَیں طلعت بات کر رہا ہو ُں ، ٹورونٹو سے 

دوسری طرف سے مسعود حمید کی مخصوص آواز آئی جو اُس کے ابو اور امی دونوں سے ملتی جلتی تھی

’’ ہاں ! طلعت ! وعلیکم السلام 

’’مسعود ، بڑا دُکھ ہؤا خبر سُن کر ! ہمارا ایک بہت بڑا اثاثہ ہم سے کھو گیا ہے ‘‘

ہاں ، بالکل ! ‘‘ مسعود کھوئی کھوئی سی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ ’’مجھے بھی یقین نہیں آ رہا۔ لگتا ہے ابّو ُ ابھی بھی اپنے کمرے میں ہیں اور ابھی اُٹھ کر ہمارے پاس آ جائیں گے ۔ امی تو بالکل تنہا رہ گئی ہیں ۔ کوشش کرتا ہو ُں کہ اُنہیں اکیلا نہ چھوڑو ُں ۔‘‘ کچھ دیر مزید بات ہوتی رہی اور پھر مَیں نے اجازت چاہی اور فون رکھ دیا۔ میرے بڑے ماموں جان ، محترم اے۔حمید ، اردو ادب کے ایک کامیاب ناول نگار، 28 اور 29 ایپرل، 2011 کی درمیانی شب کو دنیا سے رُخصت ہو چکے تھے ۔

اپنے ماموں کے دنیا سے جانے پر آج مجھے مجید امجد ؔ کی نظم ’’دوام ‘‘ کی ایک سطر یاد آ رہی ہے

  کوئی دَم توڑتی صدیوں کے گِرتے چَوکھٹے سے جھانکتا چہرہ

پوری نظم کچھ یوں ہے

دوام

کڑکتے زلزلے اُمڈے ، فلک کی چھت گِری ، جلتے نگر ڈولے

قیامت آ گئی ، سورج کی کالی ڈھال سے ٹکرا گئی دنیا

کہیِں بجھتے ستاروں ، راکھ ہوتی کائناتوں کے

رُکے انبوہ میں کروٹ ، دو سایوں کی

کہیِں اِس کھَولتے لاوے میں بَل کھاتے جہانوں کے

سیہ پُشتے کے اوجھل ، اَدھ کھُلی کھڑکی

کوئی دَم توڑتی صدیوں کے گِرتے چَوکھٹے سے جھانکتا چہرا

زمینوں آسمانوں کی دہکتی گرد میں لِتھڑے

خنک ہونٹوں سے یوں پیوست ہے اب بھی

ابھی جیسے سحر بستی پہ جیتی دھو ُپ کی مایا اُنڈیلے گی

گلی جاگے گی ، آنگن ہُمہمائیں گے

کوئی نیندوں لدی پلکوں کے سنگ اُٹھ کر

کہے گا ’’ رات کتنی تیز تھی آندھی

مجید امجد ؔ ۔ مارچ ، 1961 ۔

مشہور صحافی خالد حسن    (ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکریٹری ) اپنے ایک انٹرنیٹ کالم میں لکھتے  ہیں کہ 1948 میں جب سعادت حسن منٹو نے اے۔ حمید کا پہلا افسانہ پڑھا تو کہنے لگے ’’ یہ کیا ہے؟! اے۔ حمید تو بجلی کا کھمبا بھی دیکھ لے تو اُس پر روُمان کا دورہ پڑ جاتا ہے 

منٹو کی یہ بات اے۔ حمید کے اکثر ناولوں اور کہانیوں کے لئے کہی جا سکتی ہے۔

و ُہ اردو افسانے اور ناول میں حقیقت نگاری اور رو ُمان کے ملاپ سے نثر لکھنے کے قائل تھے۔

اُن کے مہکتے طرز ِ تحریر کے بارے میں کرشن چندر نے لکھا ’’ اے۔ حمید گلاب کی ٹہنی سے لکھتا ہے 

اے۔ حمید کے دیرینہ ساتھی اکمل علیمی نے 13 مئی 2011 کے ہفتہ وار اخبار “فرائیڈے ٹائمز” میں لکھا ہے کہ   اے۔ حمید اپنے  آبائی شہر  امرتسر  کو  کبھی نہ بھُلا  سکے۔    جب  اے۔ حمید “وائیس اف امےریکا” کے لیے کام کرنے دو سال کے لئے واشنگٹن گئے تو ایک دن اکمل علیمی سے کہنے لگےامرتسر میرا کھویا ہؤا فلسطین ہے اور مَیں اُس کی دیوار ِ الم ہو ُں ! مَیں امرتسر کو یاد نہیں کرتا کیونکہ یاد تو و ُہ کرتا ہے جو بھو ُل چکا ہو ! امرتسر میرے خون میں رچ بس چکا ہے۔ مَیں سونے لگتا ہو ُں تو وُہ میری آنکھوں میں ہوتا ہے اور مَیں جاگتا ہوُں تو وہی میرے سامنے ہوتا ہے۔  مَیں چلتا ہوُں تو کمپنی باغ میرے ساتھ چلتا ہے اور مَیں بیٹھتا ہو ُں تو سکتّری باغ کے درخت مجھ پہ سایہ فگن ہوتے ہیں۔ مَیں بولنے لگتا ہو ُں تو امرتسر کے مؤذنوں کی صدائیں میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہیں اور چُپ ہوتا ہو ُں تو امرتسر کی نہر کے پانی کی آواز میرے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہے۔ مَیں ایک ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتا ہو ُں تو اُس میں میرے بچپن کی گلیاں سوئی ہوئی مِلتی ہیں اور دوسرے ہاتھ کو دیکھتا ہو ُ ں تو اُس میں پھوُل، درخت اور بہاریں جھونکے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ ایک دوست امرتسر جاتے سمے مجھ سے پوچھنے لگا کہ تمہارے لئے وہاں سے کیا لاؤں ؟ میَں نے کہا میرے لئے کمپنی باغ کا ایک پھول   لیتے آنا 

مجھے یاد ہے کہ 1966 میں جب ہم سمن آباد، لاہور کے مغربی کنارے پر ایک کرائے کے مکان میں رہنے کو آئے تو میں پہلی جماعت کا طالبعلم تھا۔ رات کو صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے بعد چارپائیاں بچھ جاتیں اور سفید چادروں پہ لیٹ کر ہم ریڈیو پاکستان سے گیت اور ڈرامے سُنا کرتے تھے۔ انتظار حسین کا لکھا کھیل آخری آدمی بھی میں نے انہیں راتوں میں سُنا ۔ ابّو ُ فیروز سنز سے میرے لئے بچوں کے ناول لا کر دیتے تھے جن میں ـ’’گوریلا ! ‘‘ (افریقہ کے جنگلوں میں رہتے گوریلوں کی کہانی) ، ’’ لنگڑا فرشتہ ‘‘ (جبار توقیر کا ناول جو ایک لڑکے اور ایک ڈاکو کی دوستی کے بارے میں تھا ) ، ’’شاہین محاذ ِ جنگ پر‘‘ (جو کہ 1965 کی جنگ کے دوران ایک لڑکے کی بہادری کے بارے میں تھا ) اور ’’بوستان ِ سعدی ‘‘ مجھے اب تک یاد ہیں ۔ سمن آباد آ کر رہنے سے ہم اپنے ماموں اے۔ حمید کے قریب آ گئے جو سمن آباد میں کچھ سال پہلے اپنی رہائش کے لئے ایک کوٹھی بنوا چکے تھے ۔ وُہ اپنے بچوں مسعود اور لالہ رُخ اور ہماری ممانی جان (ریحانہ قمر صاحبہ ) کے ساتھ ہمیں ملنے آئے اور اپنے صحن کے باغیچے میں، انار کے پیڑ کے پاس ، ہم سب نے اُن کے ساتھ فوٹو کھنچوائے ۔

A Hameed Family 37 www_dareechah_com

اُوپر دکھائی گئی تصویر میں میَں اپنی امّی کے بالکل آگے کھڑا ہوُں

A Hameed Family 09 www_dareechah_com

میری امّی بیگم عشرت شفیع اپنے بڑے بھائی اے۔ حمید کے ساتھ

A Hameed Family 11 www_dareechah_com

اے۔ حمید اپنی اہلیہ بیگم  ریحانہ قمر کے ساتھ  اپنے فلیمنگ روڈ والے گھر کی چھت پہ

پھر و ُہ گاہے بہ گاہے ، جب بھی انہیں ریڈیو کی نوکری سے فرصت ملتی، میری امّی جان سے ملنے آ جاتے۔ میرے ابّو ُ کی طرح میری امّی کو بھی ادب سے خاص لگاؤ تھا اور ماموں اور امّی کی گاڑھی چھنتی تھی ۔ کئی دوپہریں یہ دونوں بہن بھائی ہمارے گھر کے چھوٹے سے کچن میں بیٹھے نمکین ، گلابی رنگت والی ، خوشبو ُ دار کشمیری چائے پیتے رہتے اور اردو ادب ، گیتوں اور آرٹ فلموں کے بارے میں ، ریڈیو کی دنیا کی شخصیتوں کے بارے میں باتیں چلتی رہتیں جنہیں ہم بچّے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بیچ بیچ میں کچن میں آ آ کر سنتے رہتے ! مجھے یاد ہے کہ اُس سال برسات میں ایک دن ماموں ہمارے لئے بہت سے ’’ ٹپکا ‘‘ آم لے کر آئے جنہیں بالٹی میں برف ڈال کر ٹھنڈا کیا گیا اور پھر ہم سب نے مزے سے اُن کا رس چو ُسا اور بعد میں ٹھنڈا دودھ پیا ۔ اُن دنوں ہمیں معلوم ہؤا کہ ہمارے بڑے ماموں ریڈیو پاکستان کے لئے کام کرتے ہیں اور افسانے اور ناول لکھتے ہیں۔

اگلے سال ہم سمن آباد کی کھُلی فضا اور مضافات کو چھوڑ کر اندرون شہر (لوہاری دروازہ) کی ایک تنگ گلی (کوچہ پیر شیرازی) میں بنے پانچ چھ منزلہ مکانوں میں سے ایک نسبتاً نئی بلڈنگ کے فلیٹ میں چلے آئے ۔ یہ ہمارے بچپن کا وُہ زمانہ تھا جب ہم نے دس سالوں میں دس مکان بدلے ۔ اِس گھٹن والے ماحول میں اور ان تنگ تنگ گلیوں میں سے روز سکول (کیتھیڈرل سکول ) کے لئے تانگے میں جاتے ہوئے اور واپسی پر ڈبل ڈیکر بس میں ہال روڈ سے واپس آتے ہوئے مَیں نے اپنے بدلے ہوئے حالات کو محسوس کیا۔ اُن دنوں میں دوسری جماعت میں تھا۔ اُنہی دنوں مَیں نے اپنے ماموں کا پہلا ناول ’’ڈربے ‘‘ پڑھا جو ایسی ہی تنگ گلیوں اور گھٹن بھرے مکانوں میں بستے لوگوں کے بارے میں تھا۔ اِس ناول کا مجھ پر اِتنا اثر ہؤا کہ مَیں نے ابّو ُ سے کہہ کر ایک موٹا سا رجسٹر منگوایا اور اپنی زندگی کی کہانی لکھنی شروع کر دی جس کی پہلی سطر کچھ یو ُں تھی ’’ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ بچّے کیسے پیدا ہوتے ہیں

Talat-LawrenceGardens-1967-300pixels

بچپن کی ایک تصویر ، جن دنوں میَں نے پہلی بار اپنے ماموں کا ناول ’’ڈربے ‘‘ پڑھا    (لارنس باغ، لاہور، 1967 )

اے۔ حمید کا پہلا اردو ناول ’’ ڈربے ‘‘ تقسیم ِ ہند کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور میں آ بسنے والے ایک پنجابی کشمیری مہاجر خاندان کے بارے میں ہے اور درحقیقت میرے ماموں کے گھر والوں اور رشتے داروں کی سچی کہانی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ’’ آرٹسٹ بھائی ‘‘ میرے ماموں سے چند سال چھوٹے بھائی مقصود احمد (جو کہ اُن کے لنگوٹئے یار بھی تھے ) کی ذات پر مبنی ہے اور ناول کا راوی میرے سب سے چھوٹے ماموں ، (پروفیسر ارشاد غالب ) کو بنایا گیا ہے۔ میری رائے میں یہ ناول اے۔ حمید کا سب سے اہم ناول ہے

Maqsood-Maamoon-Circa1955-300pixels

میرے ماموں مقصود احمد  ناول ڈربے کے کردار آرٹسٹ بھائی

Ghalib-Maamoon-Murree-Circa1955-300pixels

 اے۔ حمید کے ناول ’’ڈربے ‘‘ کا ایک اور کردار، میرے چھوٹے ماموں پروفیسر ارشاد غالب ، مری 1955 

اے۔ حمید اپنے ایک افسانے ’’چاندنی اور جزیرے ‘‘ میں اپنے اِس آرٹسٹ بھائی کے بارے میں ہمیں مزید باتیں بتاتے ہیں۔ یہ افسانہ سری لنکا کے جنگلوں اور اُس کے ایک چھوٹے سے گائوں میں بسنے والی لڑکی کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ و ُہ کردار ہے جسے غالباً اے۔ حمید اُس وقت مِلے جب و ُہ دوسری جنگ ِ عظیم کے دنوں میں گھر سے بھاگ کر پہلے امرتسر سے  کلکتہ   ،  پھر  بمبئی اور پھر اپنی بڑی بہن اور بہنوئی (کیپٹن ممتاز ملک) کے پاس سری لنکا کے شہر کولمبو چلے گئے تھے ۔ کیپٹن ممتاز ملک اُس وقت برطانوی فوج میں ریڈیو کولمبو سے جنگی پروپیگنڈا نشر کرنے پر مامور تھے ۔ اُن دنوں اے۔ حمید برما کے شہر رنگون میں بھی کچھ وقت گزار کر آئے۔ وُہ اپنی والدہ اور اپنے آرٹسٹ بھائی کے بارے میں اِس افسانے میں لکھتے ہیں

کولمبو سے انّا پو ُرنا کا ایک اور خط آیا ہے۔ یہ خط انتہائی شکستہ ہندی میں لکھا ہے اور میرے سامنے میز پر کھُلا پڑا ہے۔ کھڑکی کے باہر جنوری کی سرد رات ٹھٹھر رہی ہے اور میں سگریٹ سلگائے نیم وا آنکھوں سے انّا پو ُرنا کے جو ُڑے میں لگی ہوئی کنول کی زرد کلیوں کو دیکھ رہا ہو ُں۔ میرے اِردگرد میرا کنبہ سو رہا ہے۔ میز پر جلتے لیمپ کی روشنی مدّھم ہے۔ میں اِس کی بتّی زیادہ اونچی نہیں کر سکتا۔ میری ماں کی آنکھیں خراب ہیں اور و ُہ زیادہ تیز روشنی میں سو نہیں سکتی۔ مَیں نے لیمپ کے دونوں پہلو ئوں کو کتابوں سے ڈھانپ کر سونے والوں کی جانب اندھیرا کر دیا ہے۔ اِس کے باوجود ماں کو نیند نہیں آ رہی۔ آنکھوں کی خرابی کے علاوہ اُسے درد ِ ریح کا بھی عارضہ ہے۔ و ُہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد درد سے نڈھا ل ہو کر لمبی سی ’ہائے ‘ کرتی ہے اور انّا پو ُرنا کے جو ُڑے سے کنول کے پھو ُل زمین پر گر پڑتے ہیں اور بانس کے جنگلوں پر چمکنے والا چاند ایک دم ڈو ُب جاتا ہے اور میَں لنکا کے گُل پوش جزیرے سے ایک بار پھر اِس گُھٹے ہوئے نیم روشن کمرے میں آ جاتا ہو ُں جہاں دن بھر خچروں کی طرح محنت کرنے والے اب لکڑی کے شہتیروں کی مانند بے سُدھ پڑے ہیں۔

دائیں جانب آرٹسٹ بھائی مسعود کا بستر خالی ہے۔ و ُہ ابھی تک نہیں آیا ۔ اُسے یقیناً پرسی  مِل گیا ہو گا۔ پرسی لدھیانے کا عیسائی لڑکا ہے اور اِن دونوں کا آپس میں بہت یارانہ ہے۔ مسعود ایک مقامی سینما کے بورڈوں پر تصویریں بناتا ہے اور پرسی باٹا کی فیکڑی میں کمپنی کی طرف سے بھیجے ہوئے پبلسٹی کے نمونوں کی نقلیں تیار کرنے پر ملازم ہے۔ ہفتے کی شام کو دونوں ضرور مِلتے ہیں ۔ پہلے و ُہ کسی سستے سے ہوٹل میں جا کر چائے کا ایک پیالہ پیتے ہیں  “پاسنگ شو سگریٹ کی ایک ڈبی لیتے ہیں اور کوئی نہ کوئی انگریزی فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد و ُہ سینما ہال سے باہر نکل کر لارنس باغ میں آ جاتے ہیں اور باغ کی پُر سکوں، سایہ دار روشوں پر قدم قدم چلتے ہوئے فلم کے قدرتی مناظر اور اُس کے ساتھ دکھائے گئے کارٹون کے شوخ اور تر و تازہ رنگوں پر آہستہ آہستہ باتیں کرتے جاتے ہیں۔ پھر و ُہ دونوں خاموش ہو جاتے ہیں اور تاروں کی چھائوں میں نیم روشن دھندلا راستہ خاموشی سے طَے کرتے ہیں۔ پھر کسی جگہ گھاس پر سگریٹ پھینک کر یا گھنے درختوں کے نیچے سے گزرتے ہوئے اپنے آپ ہی پرسی دھیمی اور خواب ایسی آواز میں مسعود کو اپنے وطن کے گلی کوچوں کی باتیں سنانا شروع کر دے گا۔ اُس کا لہجہ آہستہ آہستہ سوگوار ہوتا جائے گا اور گھنی گھنی پیازی آنکھیں اندھیرے میں انگاروں کی طرح چمکنے لگیں گی۔

مسعود اور پرسی ایک دوسرے کی ضرورتوں کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ ایک روز پرسی کو تین روپوں کی ضرورت تھی۔ مسعود کی جیب خالی تھی اور اُن دنوں و ُہ دن میں صرف دو سگریٹ پیا کرتا تھا۔ لیکن و ُہ پرسی کو پریشان نہ دیکھ سکا۔ اُس نے گھر آ کر سب کے سامنے ٹِفن کیر ئیر اُٹھا یا اور بازار جا کر ساڑھے چار روپوں میں بیچ ڈالا۔ تین روپے اُس نے پرسی کو دے دئیے اور باقی پیسوں میں کیک کے چند ٹکڑے اور پاسنگ شو کی دو ڈِبیاں لیتا آیا۔ آتے ہی اُس نے خوشی کا ایک نعرہ مارا اور سماوار میں چائے ڈال کر سب کے درمیان بیٹھ کر زور شور سے باتیں شروع کر دِیں۔ اُس نے بڑے زور دار الفاظ میں ماں کو یقین دلایا کہ و ُہ اگلی تنخواہ پر ایک ٹِفن کیرئیر ضرور خرید لائے گا۔ ماں کو یقین آ گیا۔ و ُہ اگر کمزور الفاظ بھی استعمال کرتا تو ماں یقین کر لیتی۔ مائیں جلد یقین کر لیتی ہیں۔ پھر چائے کی تین پیالیاں پی کر مسعود نے بالٹی گود میں رکھی اور اُسے طبلے کی طرح بجاتے ہوئے گانے لگا

 رہا کر دے مجھے صیّاد ابھی فصل ِ بہاری ہے

کسی وقت و ُہ بے حد اُداس ہو جاتا ہے۔ سگریٹ سلگا کر و ُہ ٹانگیں باورچی خانے کی دیوار سے لگا دیتا ہے   اور بڑے خاموش گِلہ آمیز لہجے میں بول اُٹھتا ہے : ’’ یہاں جب بھی آؤ   دال پکی ہوتی ہے۔ کیسا انقلاب آیا ہے ۔ ہماری یہاں کوئی قدر نہیں ہے۔ اب مَیں ضرور رنگو ُن چلا جاؤُں گا۔

اُس رات و ُہ میرے پاس بیٹھا گھنٹوں مجھ سے رنگو ُن کی بارش میں بھیگی ہوئی سڑکوں ، سبزے سے ڈھکی ہوئی جھیلوں اور دریا میں لہرانے والے بانس کی لمبی لمبی شاخوں کی باتیں سنتا رہا۔ پھر جب اُس پر پاسپورٹ کی اُلجھنوں ، برما کی سیاسی صورت ِ حال اور رنگون کی شدید مہنگائی کا اِنکشاف ہؤا   تو  اُس  نے   نااُمید ہو کر سر دیوار سے لگا دیا   اور صرف اِتنا کہہ کر چُپ ہو گیا

اب تو اِسی ڈربے میں عمر گزرے گی 

اے۔ حمید اپنے پہلے ناول ’’ڈربے ‘‘ کے شروع میں ایک منظر بیان کرتے ہیں جہاں آرٹسٹ بھائی کسی انگریزی فلم کی کہانی اپنے گھر والوں کو سُنا رہا ہے 

بارش کے قطرے پتوں کا منہ دھو رہے تھے ، ہوا میں ٹہنیاں دوہری ہوئی جا رہی تھیں اور ہیرو ایک کھوہ میں بیٹھا چُپ چاپ گیلا سگریٹ پی رہا تھا ۔ مَیں کہتا  ہوُں ہمارے ہاں کبھی ایسی فلمیں نہیں بن سکتیِں۔ یہ لوگ . . . اِن کی

اور و ُہ بلا تکلف اپنی چھوٹی بہن کے سامنے دیسی فلم سازوں کو ایک آدھ گالی مرحمت کر دیتا۔ اُسے انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ و ُہ صرف چوتھی جماعت تک سکول میں پڑھا تھا مگر اُسے دعوٰی تھا کہ و ُہ انگریزی فلموں کی کہانیاں بہ خوبی سمجھ لیتا ہے اور جتنا مزہ و ُہ لیتا ہے اور کوئی شخص نہیں لے سکتا۔ والٹ ڈزنی کے رنگین کارٹونوں سے اُسے والہانہ عشق تھا ۔ اُس کے خیال میں والٹ ڈزنی کو رنگ استعمال کرنے کا صحیح شعور تھا۔ باقی لوگ محض بدّھو ُ تھے۔ اُسے لاہور چھائونی والے سینما کی دو باتیں بے حد بھاتی تھیں۔ پہلی یہ کہ وہاں تک پہنچنے کا راستہ درختوں کی دو رویہ قطاروں اور باغوں میں سے ہو کر گزرتا تھا اور برسات کے بعد وہاں ایک دل فریب سماں بندھ جاتا ۔ اور دوسری بات یہ کہ سینما کا ہال ہر شو میں تقریباً خالی رہتا تھا۔ و ُہ بڑے مزے سے آ کر سُناتا آج ہال میں محض آٹھ آدمی تھے۔ آہا ! کتنا لطف آیا۔ جی چاہتا تھا وہیں بیٹھے رہیے

اُسے دیسی فلموں سے دِلی بَیر تھا اور یہ بَیر اور نفرت اُس وقت دو چند ہو جاتی جب و ُہ چھائونی سے انگریزی فلم دیکھ کر آ رہا ہوتا۔ اُس سمے دیسی سینما کے سامنے سے گزرتے ہوئے و ُہ منہ دوسری طرف کر لیا کرتا تھا۔ مگر اُسے ہندی فلموں کے گانوں سے لگائو تھا۔ اُس کی آواز رسیلی تھی مگر و ُہ کسی کے سامنے نہ گاتا تھا۔ ’چتر لیکھا ‘ ، ’وِدّیا پتی ‘ ، ’سڑیٹ سنگر ‘ ، ’زندگی ‘ اور دیگر کئی پُرانی فلموں کے گیت اُسے ازبر تھے۔ نئی فلموں میں موسیقی کا بدلتا ہُؤا رُحجان اُسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ اُس کے خیال میں اِن گانوں میں شور زیادہ اور موسیقی کم تھی۔ جب و ُہ کبھی گھر کے آنگن میں اکیلا ایک طرف بیٹھا ’چتر لیکھا ‘ کی ایک آدھ تان ہلکے سُروں میں اُڑا دیتا تو اُس کے چوڑے چہرے پر ایک دل فریب موہنی جھلکنے لگتی۔ آنکھیں نشے کی ترنگ میں بند سی ہو جاتیں اور و ُہ مزے میں آ کر سگریٹ سلگا لیتا۔

  اُنیس  سو  سینتالیس کے فسادات کے دوران دن بھر گھر میں پڑے پڑے اُس کی طبیعت میں چڑ چڑا پن آ گیا تھا۔ لیکن بہت جلد اُس نے اِس کا علاج ڈھونڈھ نکالا۔ محلّے کے ایک آدھ دوستوں سے اُس کی بے تکلفی تھی۔ و ُہ وقت بے وقت اُن کے ہاں چلا جاتا اور دیر تک بیٹھا گپّیں مارتا رہتا ۔ چونکہ اُس نے اپنے ایک میراثی دوست سے ڈھولک بجانا بھی سیکھ لیا تھا اِس لئے وہاں فوراً ڈھولک آ جاتی ، انگیٹھی پر چائے اُبلنے لگتی ، سگریٹ پان منگوائے جاتے اور رات گئے تک خوب موج میلہ رہتا۔ ــ

اے۔ حمید نے اِس کے بعد بہت سے ناول لکھے جن میں ’’ برف باری کی رات ‘‘ (ماموں کے ادبی اور فلمی دنیا کے دوستوں کے ساتھ گزری مری کے ہوٹل کی ایک رات کی کہانی)، ’’ زرد گلاب ‘‘ (کشمیر سے ہجرت کر کے لاہور میں آنے والی ایک لڑکی کی کہانی )، ’’جنگل روتے ہیں ‘‘ (ایک پہاڑی لڑکی کی رسوائی اور طوائف بننے کی کہانی ) ، ’’ مَیں خزاں میں آؤُں گا ‘‘ اور ’’ بارش میں جدائی ‘‘ (دِلّی دروازے کے ایک سکول ماسٹر کی ناکام شادی ،  بعد ازاں ٹیوشن پڑھنے والی ایک لڑکی سے خاموش محبت اور سکول ماسٹر کی قربانی اور تباہی کی کہانی) قابل ِ ذکر ہیں۔

اے۔ حمید نے ناولوں کے علاوہ افسانے بھی لکھے جن کا مجموعہ ’’ منزل منزل‘‘ کے نام سے چھپا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے لئے ہفتہ وار کالم ’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ اور بعد میں ہفتہ وار کالم ’’ لاہور کی یادیں ‘‘ بھی لکھا جسے محترم خالد حسن نے انگریزی میں ترجمہ کر کے انٹرنیٹ پر اکیڈیمی آف پنجاب اِن نارتھ امےریکا کی ویب سائیٹ سے شائع بھی کیا ہے۔

کچھ یادیں، کچھ آنسو ‘‘ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے شروع کے دَور اور اُس میں مِلنے والے بہت سے لوگوں کو کہانیوں میں پرویا۔ اُن کی تحریروں میں بھانت بھانت کے کردار بھر ے ہوئے ہیں جو ہمیں آزادی کے بعد کے پاکستان اور اِس میں بسنے والوں کے جیتے جاگتے ، چلتے پھرتے اور سانس لیتے عکس پیش کرتے ہیں جو ہمارے دماغ میں کھُبتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی کردار نگاری میں مزاح سے بہت کام لیتے ہیں۔ اُن کے افسانے ’’چاندنی اور جزیرے ‘‘ میں لاہور کی ایک حویلی کے اندر بنیں چھوٹی چھوٹی اندھیری کوٹھڑیوں میں رہنے والے نچلے طبقے کے لوگوں کی تصویر کچھ یوں پیش کی گئی ہے 

سپاہی کی بیوی نٹ کھٹ ہے۔ اُس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے ۔ و ُہ ہر دوسرے روز اپنے خاوند کے ساتھ سینما دیکھنے چل دیتی ہے اور بطخ کی طرح کو ُلھے مٹکا مٹکا کر چلتی اِس چڑیا گھر سے باہر نکل جاتی ہے۔ اگلے دن و ُہ اِس کٹڑی کی ہر عورت کے پاس بیٹھ کر کسی نہ کسی طریقے سے رات والی فلم کا ذکر چھیڑ دیتی ہے اور ہیروئین کے کپڑوں اور زیوروں کی تعریفیں شروع کر دیتی ہے۔ و ُہ بار بار اِس واقعے کا ذکر کرتی ہے 

جب و ُہ مجھے اندر لے جانے لگے تو گیٹ کیپر نے کچھ نہ کہا۔ اپنی وردی میں تھے نا . . . ہم نے تو کبھی ٹکٹ نہیں خریدا بہن عیشاں ۔ تم فکر نہ کرو مَیں  تمہیں  ایک پاس منگوا دو ُں گی

صبح سے شام تک و ُہ چھابڑی والوں سے گلے سڑے پھل خرید کر کھاتی رہتی ہے اور دن میں کئی بار منہ دھو کر آنکھوں میں چمچوں سے سُرمہ ڈالتی ہے۔ کسی وقت و ُہ چارپائی پر لیٹے لیٹے نہ معلوم کس خیال کے تحت پُر شکم انگڑائی لیتی ہے اور ترکھان کی بیوی کو آنکھ مار کر کہتی ہے 

’’ہائے دولتے ! میرا تو سارا بدن دُکھ رہا ہے ‘‘

اُس کا بدن دُکھے نہ دُکھے لیکن اُسے دیکھ کر لوکو شاپ کے چمرّخ مِستری کی دھوتی ضرور کھُل جاتی ہے۔ درزی کی ناک کٹی بیوی سپاہن کے ترو تازہ جسم اور خوبصورت پتلے ناک سے جلتی رہتی ہے۔ ایک دن اُسے فلم ’’لچّھی ‘‘ کا کوئی گیت گنگناتے دیکھ کر اُس نے موٹی موچن کے کان میں کہا 

’’دیکھا   بؤا ! کتنی اجاش (عیاش) عورت ہے

لوکو ورکشاپ کے دُبلے پتلے مِستری کو دیکھ کر نہ جانے مجھے گنجے بٹیروں کا خیال کیوں آ جاتا ہے۔ و ُہ مٹیالی رنگت اور لمبے جبڑوں والا درمیانی عمر کا آدمی ہے جو منہ اندھیرے ہی ورکشاپ کے بھونپو ُ کی آواز پر اُٹھ بیٹھتا ہے ۔ اُس کی بیوی پہلے سے ہی کھانا تیّار کر رہی ہوتی ہے۔ اندر دھؤاں ہی دھؤاں بھر جاتا ہے اور مِستری پمپ پر منہ ہاتھ دھوتے ہوئے گنگنائے جاتا ہے 

  تیرے در تے دھو ُنی لائی یار وٹا لے دیوا

کسی وقت و ُہ جبڑے پھیلا کر غُرّا اُٹھتا ہے 

’’ او بھو ُتنی دی اے . . . ! تیرے دھوئیں نے ساڈیاں اکھّا ں کڈھ چھڈیاں نیں ۔ بُجھا اے پیو ُ اپنے نو ُں 

روٹی تھیلے میں رکھ کر و ُہ کمبل میں اچھی طرح منہ سر لپیٹتا ہے او ر ڈاکوؤں ایسا حلیہ بنا کر کھڑ کھڑ کرتی سائیکل پر سوار ہو کر لوکو شاپ کی طرف چل دیتا ہے۔ چھُٹی کے دن و ُہ حقّہ لے کر اپنی کوٹھڑی کے باہر بیٹھ جاتا ہے اور دوسروں کی ہر بات ، ہر کا م میں ٹانگ اڑانے لگتا ہے۔ کسی وقت و ُہ اُردو بولتا ہے اور کسی وقت پنجابی۔ سب سے نازک وقت و ُہ ہوتا ہے جب و ُہ اُردو بول رہا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں و ُہ فوج میں نائیک رہ چکا ہے۔ اچھی بھلی پنجابی بولتے بولتے اُس پر اچانک اُردو بولنے کا دورہ پڑتا ہے اور و ُہ اُسے اُلٹی چُھری سے ذبح کرنے لگتا ہے۔ سپاہن کو منہ دھوتے دیکھ کر پہلے و ُہ دھوتی کَس کر باندھے گا اور پھر کہے گا

بھابھی یہ کونسا صابون ورتتی ہو ؟ لیف بائی ہے ؟ بڑا نامراد صابون ہے۔ میری مانو تو ’لک کس ‘ ورتا کرو ۔ ائیں ایسی کش بو چھوڑتا ہے کہ ہاضمہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔‘‘

پھر فوراً ہی ناک کٹی درزن کی طرف آ جائے گا 

  ماسی عیشاں ! تو ُ تو اِس دنیا میں عیش کرنے آئی ہے۔ پر خدا بھلا کرے کیلا کھا کر ’چِھلّڑ ‘ کو ُڑے میں پھینک دیا کرو۔ آدمی اِس پر سے ’تِلک‘ پڑے تو ’گِٹّا ‘ ضرور نکل جاتا ہے۔

پھر حقے کا دھؤاں چھوڑتے ہوئے یونہی جیسے ہَوا سے پو ُچھے گا 

’’وَجّا کیا ہو گا اِس وقت ؟ ‘‘

ہندوستانی موچن سے باتیں کرتے ہوئے و ُہ بڑے اہتمام سے اُردو بولتا ہے ۔ و ُہ اُسے جنگ کی باتیں بـڑے شوق سے سنایا کرتا ہے۔ گنجان بھنوئیں سکیڑ کر جیسے کچھ یاد کرتے ہوئے بٹیرے کی طرح اچانک بول اُٹھتا ہے 

انگریز لفٹین کی بیٹی مر گئی مگر زناب کیا مزال جو اُس کی میم کا ایک ’اتّھرو ُ ‘ بھی نکلا ہو۔ بس اٹن شن ہو کر قبر پر کھڑی تھی۔ بڑی ’صبرناک ‘ عورت تھی امّاں . . . اپنا بودی اُن دنوں چھوٹا سا تھا ۔ بس اُسے و ُہ میم اُٹھائے اُٹھائے لئے پھرتی تھی۔ ولائیتی بسکٹ اور کاچو ُلیٹ بہت کِھلایا کرتی تھی

اِسی طرح اپنے افسانے ’’ سماوار ‘‘ میں و ُہ اپنے پینٹر اُستاد اور یٰسین سینما آپریٹر کی تصویر کشی کچھ یو ُں کرتے ہیں 

و ُہ میرا اور لالی کا مُشترکہ اُستاد ہے اور سینما کا ہیڈ پینٹر ہے ۔ ہمارا اُستاد سینما کے ہر آدمی سے فحش مذاق کرنے کا عادی ہے۔ سینما کے آپریٹر یٰسین سے تو گالی گلوچ تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ یٰسین لمبا چوڑا بھاری بھرکم آدمی ہے جو اُونٹ کی طرح چلتا ہے اور ریچھ کی طرح سانس لیتا ہے۔ مشین کے اصلی کاربن بیچ کر نقلی کاربن سے کام چلانا اُس کا دل پسند مشغلہ ہے اور جب روشنی مدّھم ہو جانے پر ہال میں اُسے گالیاں پڑتی ہیں تو و ُہ غُصّے میں آ کر دیوار کے چورس سوراخ کے ساتھ منہ لگا کر چیخنے لگتا ہے 

چلو تمہاری ماں . . . تمہاری بہن . . . تمہاری 

سردیوں میں اُس کے ہاتھ ہمیشہ بغل میں ہوتے ہیں اور گرمیوں میں و ُہ صرف ایک دھوتی باندھتا ہے۔ ہمارے کمرے میں آ کر جب و ُہ تخت پر بیٹھتا ہے تو اُس کے تختے چرچرانے لگتے ہیں۔ و ُہ فلمی رقّاصہ ’’مِس کُکّو ‘‘ کا عاشق ہے اور اُسے ہمیشہ ’ بُلبُل ‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ’’ ربڑی کر دو ُں گا ‘‘ اُس کا تکیہ ئِ کلام ہے۔ ہمارے اُستاد کی پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر و ُہ پکار اُٹّھے گا 

’’حُقّہ پِلا اوئے خو ُشیئے ! نہیں تو ربڑی کر دو ُں گا ‘‘

یٰسین حُقّے کا رسیا ہے۔ و ُہ حُقّے کی نَے منہ میں رکھ کر سینما کی مشین سٹارٹ کرتا ہے۔ ہمارے اُستاد کے ہرفن مولا بڑے بھائی سے جنگ کی باتیں سُن سُن کر و ُہ بڑا حیران ہؤا کرتا ہے اور کان میں دِیا سلائی پھیرتے ہوئے پکار اُٹھتا ہے 

’’تم دیکھ لینا لالہ ! اب ہر جگہ انگریز وں کی ربڑی ہو گی ‘‘

  ہائے میری بُلبُل ! مَولا نے چاہا تو کبھی تیری بھی ربڑی کریں گے 

امے ری کانو ‘‘  اُن کے امریکا میں گزرے دنوں کا سفرنامہ ہے۔ اِس کے علاوہ ’’اردو ادب کی داستان ‘‘، ’’اردو شعر کی داستان‘‘ اور اشفاق احمد کے بارے میں کتاب ’’داستان گو ‘‘ تحریر کیں۔ اے۔ حمید نے مقبول اکیڈیمی کے ذریعے بچّوں کے لئے ’’ عنبر ناگ ماریا‘‘ دیو مالائی ناولوں کا ایک ضخیم سلسلہ بھی تحریر کیا۔ پھر پی۔ٹی۔وی۔ اور پروڈیوسر حفیظ طاہر کے ساتھ مل کر بچّوں کی ڈرامہ سیریز ’’ عینک والا جِن ‘‘ لکھی جو بہت مقبول ہوئی اور اِسے لاہور سٹیج پر بھی پیش کیا گیا ۔

اے۔ حمید کی بہت سی کتابیں انٹرنیٹ کے ذریعے سنگ ِ مِیل پبلی کیشنز سے یا  پھر  مقبول اکیڈیمی لاہور  سے  خرید ی جا سکتی ہیں جن میں مندرجہ ذیل کتب قابل ِ ذکر ہیں 

بارش میں جدائی (ناول )، طوفان کی رات (ناول )، منزل منزل (افسانے )، کچھ یادیں کچھ آنسو ُ (افسانے)، بارش اور خوشبو (کلیات افسانے)، خزاں کا گیت (افسانے )، مٹّی کی مونا لیزا (افسانے ) ، لاہور کی یادیں (تائثرات )، یادیں : نواں لاہور، پرانا لاہور (تائثرات )، امے ری کانو (سفر نامہ )، داستان گو (اشفاق احمد) ، بہار کا آخری پھو ُل (ناول )، اور چنار جلتے رہے (ناول) ، ناریل کا پھو ُل (ناول)، پیپل والی گلی (ناول)، پیلا اُداس چاند (ناول )،
ویران گلی میں لڑکی 
(ناول )، پھو ُل گرتے ہیں (ناول )، قصہ آخری درویش کا (طنز و مزاح)

امرتسر کی یادیں۔سن اشاعت:۱۹۹۱

چاند چہرے: فیض احمد فیض ، سیف الدین سیف، پروفیسر وقار عظیم، اخلاق احمد دہلوی، ابن انشاء،ناصر کاظمی، احمد ندیم قاسمی، عبدالمجید عدم، احمد راہی، ابراہیم جلیس، راجہ مہدی علی خان، چراغ حسن حسرت، مرزا سلطان بیگ وغیرہ پر خاکے۔

گلستان ادب کی سنہری یادیں: سنہری یادوں اور باتوں کا ایک مرقع ۔

اے۔حمید کی وفات پر کچھ دیگر احباب نے بھی انٹرنیٹ پر مضمون اور بلوگ پوسٹ چھاپے جن کی تفصیل یوں ہے

ثناء جمال کا مضمون

راشد اشرف کے  دو  مضامین

اے۔حمید کی علالت کے دوران لکھا مضمون  اور اے۔حمید کی وفات کے وقت لکھا مضمون

اکمل علیمی کا مضمون

  عرفان جاوید کا مضمون

 

 

Selected Poems of Fahmida Riaz فمہیدہ ریاض کی منتخب نظمیں

فمہیدہ ریاض (1946 – 2018) کی منتخب نظمیں

فہمیدہ ریاض سنہ 1946 کے برطانوی ہند  (برٹش  انڈیا )  میں اُتّر پردیش کے شہر میرٹھ کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ِ ہند کے بعد یہ کنبہ پاکستان  آیا  اور   سندھ کے شہر حیدرآباد میں آن بسا۔ فہمیدہ کے والد ریاض الدین احمد  پاکستان  آنے  کے  بعد  صوبہ سندھ کے محکمہ ءِ تعلیم سے وابستہ تھے اور سندھ کے سکولوں میں جدید تعلیمی نظام کے لیے کام کر رہے تھے۔ جب فہمیدہ چار برس کی تھیں تو   سنہ 1950 میں اُن کے والد اِس دنیا سے چل بسے اور فہمیدہ اور اِن کی بہن نجمہ کو والدہ نے پالا پوسا۔ فہمیدہ نے فارسی، سندھی اور اردو ادب کے بارے میں اپنے لڑکپن میں سیکھا۔ فہمیدہ نے 15 برس کی عمر میں سنہ 1961 میں اپنی پہلی نظم لکھی جسے احمد ندیم قاسمی نے اپنے ادبی جریدے فنون میں لاہور  سے  چھاپا۔

فہمیدہ ریاض نے سنہ 1966 میں بی۔ اے۔ کی ڈگری حاصل کی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے ملازمت شروع کی۔سنہ 1967 میں فہمیدہ ریاض نے گھر والوں کی پسند سے شادی کی۔ شادی کے دو ماہ بعد اُن کی شاعری کا پہلا مجموعہ پتھر کی زبان کراچی کے مشہور اردو ناشر ملک نورانی کے اشاعتی ادارے مکتبہ ءِ دانیال نے چھاپا۔ شادی کے بعد وُہ شوہر کے ساتھ لندن چلی گئیں جہاں اُنہوں نے فلم سازی میں ایک ڈپلومہ حاصل کیا اور بی۔بی۔سی۔ ریڈیو  کی  اُردو  سروس  میں ملازمت اختیار کی۔ اِس شادی سے ایک بیٹی، سارا ہاشمی پیدا ہوئی ۔ یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور معاملہ طلاق تک پہنچا۔ قیاس ہے کہ بیٹی کو مطلقہ شوہر نے اپنے پاس رکھا اور اب سارا ہاشمی امریکہ میں قیام پذیر ہیں ۔ 

سنہ  1973  میں  فہمیدہ  ریاض  واپس  پاکستان  آ  گئیں۔  اُن  کا  دوسرا  شعری  مجموعہ  بدن  دریدہ   سنہ  1973  ہی  میں  کراچی  سے  شائع  ہؤا    جس کی نظموں میں ایک نئی اور پُر اعتماد شاعرہ کی جھلک نظر آئی۔ اِس مجموعے میں نظموں کے موضوعات کا انتخاب اپنی جراءت میں باغیانہ حدوں کو چھوُ رہا تھا اور دوسری طرف الفاظ کا ماہرانہ چُناؤ اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک نئی اور جارہانہ زبان کو جنم دے رہا تھا جسے اِس سے پہلے اردو شاعری میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اِس مجموعے کی بہت سی نظموں مثلاً گڑیا، مقابلہ ءِ حُسن اور اقلیمہ نے پاکستان کے ادبی ماحول کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اِس نئی شعری روایت نے پاکستان میں بہادر خواتین ادیبوں اور شاعرات کی ایک پوری کھیپ کو متاءثر کیا اور اِن سب خواتین لکھاریوں کی جد و جہد کو مزید جِلا بخشی۔ اِن پاکستانی عورتوں کی جنگ عورت کی آزادی کے لیے تھی۔ یہ لڑائی پاکستانی عورت کے معاشرتی مقام کے نئے سرے سے تعین کے بارے میں تھی اور اِس محاذ پہ فہمیدہ ریاض اُن کی ایک دلیر ساتھی بن کے اُبھریں ۔ فہمیدہ ریاض کا نام ایک استعارہ بن رہا تھا۔ اِن نئی لکھاری عورتوں میں سندھی شاعرہ عطیہ داؤد، پنجابی شاعرہ نسرین انجم بھٹی، اردو نثری نظم کی باغی شاعرہ سارا شگفتہ، افسانہ نگاروں میں فرخندہ لودھی، جمیلہ ہاشمی، ناول نگاروں میں زاہدہ حِنا  (نہ جنوں رہا، نہ پری رہی) اور بہت سے دوسرے نام شامل ہیں۔

یہ  سنہ  ستّر  کی  دہائی  کا  آغاز  تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی انقلابی سوچ رنگ لا چکی تھی اور ملک کے نوجوانوں میں ایک سیاسی بیداری جنم لے چکی تھی۔ فہمیدہ ریاض کے سیاسی نظریات بائیں بازو کی سوشلسٹ مارکسسٹ سوچ کی طرف مائل تھے اور وُہ مارکس کے نظام ِ معیشت، انسانی برابری، انسانی آزادی اور سرمائے کو شکست دے کر عوام کو خود مُختار بنانے کی حامی تھیں۔ اِسی جد و جہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اور چھوٹے صوبوں کے سیاسی حقوق کے لیے لڑتے ہوئے اُن کی ملاقات ایک سندھی مارکسسٹ سیاسی کارکن ظفر علی اُجّن سے ہوئی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رُکن اور بعد میں بے نظیر بھٹو کے ایک قریبی ساتھی کے طور پر اُبھرے۔ کیونکہ فہمیدہ ریاض اور ظفر علی اُجّن کے سیاسی نظریات بہت حد تک مِلتے جُلتے تھے اِس لیے دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اِس شادی سے فہمیدہ کے دو بچّے پیدا ہوئے، بڑی بیٹی ویرتا علی اُجّن اور چھوٹا بیٹا کبیر علی اُجّن جو بعد میں جوانی میں سمندر میں تیرتے ہوئے فوت ہو گیا ۔

Zafar Ali Ujjanظفر  علی  اُجّن

فہمیدہ اور ظفر نے مِل کر ایک رسالہ آواز نکالا جو عوام میں سیاسی بیداری پھیلانے کے لیے مضمون، انقلابی شاعری کے تراجم وغیرہ شائع کرتا تھا۔ شاعرہ عشرت آفرین نے بھی کالج کے زمانے میں اِس رسالے کے لیے کام کیا۔ سنہ 1977 میں فہمیدہ کا تیسرا شعری مجموعہ دھوپ شائع ہؤا جس کی نظمیں اکیلا کمرہ اور روٹی، کپڑا اور مکان مارشل لاء کے خلاف اور نئی سیاسی بیداری کے بارے میں تھیں۔      جب بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹا گیا اور جرنیل ضیاءالحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو سنہ 1981 میں رسالہ آواز کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی۔ فہمیدہ اور اُن کے شوہر پر پاکستان سے غدّاری کا مقدمہ قائم کیا گیا جس کی کچھ پیشیاں بھی فہمیدہ نے بھُگتیں۔ ظفر کو قید کر لیا گیا اور اِس سے پہلے کہ فہمیدہ بھی حراست میں لے لی جاتیں، کچھ ہمدرد دوستوں کی مدد سے فہمیدہ، اپنے دونوں بچوں ویرتا اور کبیر اور اپنی چھوٹی بہن نجمہ کے ساتھ بھارت مشاعرے میں شرکت کے بہانے سے پاکستان سے نکلنے اور دہلی، بھارت پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ پنجابی شاعرہ امرتا پریتم نے اندرا گاندھی سے سفارش کی اور یوں فہمیدہ کو بھارت میں سیاسی پناہ مل گئی۔ پاکستان میں اُن کے شوہر جرنیل ضیاء کی قید میں تھے۔ بعد ازاں بین الاقوامی سیاسی دباؤ کے بڑھنے پر جرنیل ضیاء کو ظفر اُجّن کو بھی رہا کرنا پڑا اور وُہ بھی بھارت آ گئے۔ فہمیدہ کے کچھ رشتے دار بھارت میں تھے اور اُنہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ملازمت مل گئ۔ اپنی جلا وطنی کے دوران فہمیدہ کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔ کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے ایک طویل نظم ہے جس میں پاکستان پر جرنیل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے زہریلے اثرات کا بیان ہے۔ اپنا جرم ثابت ہے اور ہم رکاب دیگر مجموعے تھے جو جلاوطنی میں چھپے۔ یہ کنبہ سات برس جلا وطن رہا اور جرنیل ضیاء کے طیارہ حادثے میں مرنے کے بعد ہی سنہ 1988 میں پاکستان واپس آ سکا جہاں اِن کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ 

پاکستان آنے کے بعد سنہ 1988 میں فہمیدہ ریاض کی سنہ 1967 سے لے کر سنہ 1988 تک کی شاعری کو ایک کلیات کی صورت میں بہ عنوان میَں مٹّی کی موُرت ہوُں شائع کیا گیا۔ سنہ 1999 میں آدمی کی زندگی کے عنوان سے اُن کی سیاسی جد و جہد سے متعلق نظمیں چھاپی گئیں۔ سنہ 2011 میں سنگ ِ میل پبلی کیشنز لاہور نے اُن کی کلیات سب لعل و گہر کے عنوان سے شائع کیں جس میں سنہ 1967 س لے کر سنہ 2011 تک کا کلام شامل تھا اور یہ کلیات ادبی ویب سائٹ ریختہ پر الیکڑانک کتاب (ای۔ بُک ) کے طور پر مفت پڑھی جا سکتی ہے۔ کچھ سالوں سے وُہ شدید علیل تھیں جس کی وجہ سے اُن کا فیس بُک اکاؤنٹ بھی خاموش ہو چکا تھا۔ آخری چند سالوں میں ایک نیا شعری مجموعہ موسموں کے دائرے میں تیار کیا جا رہا تھا مگر اُنہیں اِسے مکمل کرنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اُن کے جانے سے جدید اُردو شاعری اور پاکستانی شاعری ایک اہم اور دلیر آواز سے محروم ہو گئی  ۔

01 - Achaa Dil-01J02 - Achaa Dil-02J03 - Baithaa Hai-01J04 - Baithaa Hai-02J05 - Baithaa Hai-03J06 - Kuch Loag-AJ07 - Kuch Loag-BJ

08 - Kuch Loag-CJ09 - Kuch Loag-DJ10 - Akhri Baar-01J11 - Akhri Baar-02J12 - Hawks Bay-01J13 - Hawks Bay-02J

17 - Gayyaa-01J

18 - Gayyaa-02J19 - Akaylaa Kamraa-01J

19 - Akaylaa Kamraa-02J

19 - Akaylaa Kamraa-03J

19 - Akaylaa Kamraa-04J

20 - PooraChand Select001aJ

20 - PooraChand Select001bJ20 - PooraChand Select002aJ

20 - PooraChand Select002bJ

20 - PooraChand Select003 J20 - PooraChand Select004JAik Larrkee Say -01J

Aik Larrkee Say -02J

Aik Larrkee Say -03J

Aik Larrkee Say -04J

2018 November Zafar Ali Ujjan Lahore

نومبر  2018  میں  فہمیدہ  ریاض  کی  وفات  کے  بعد لی گئی  ظفر علی اُجّن کی ایک تصویر

 

 

 

 

 

The Trial for the Murder of Sara Shaguftaسارا شگفتہ کے قتل کا مقدمہ تحریر آصف اکبر

Sara Shagufta Portrait Photo

   افسانہ   :       سارا شگفتہ کے قتل کا مقدمہ

تحریر: آصف اکبر              

سارہ شگفتہ نثری نظم کی اور جدید اُردو شاعری کی ایک معروف، بے باک اور باغی پاکستانی شاعرہ تھیں۔ وہ 31 اکتوبر 1954 کو پنجاب کے شہر گُجرانوالہ میں پیدا ہوئیں اور 4 جون 1984 کو تیس سال سے کچھ کم عمر میں اُنہوں نے کراچی میں ٹرین کی پٹڑی پر لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ یہ افسانہ سارہ کی زندگی اور موت کا احاطہ کرتا ہے۔

ابتدائیہ
امرتا پریتم نے سارہ شگفتہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی ایک تھی سارا۔ اُس کے پانچویں باب انسانی صحیفے کی آرزوُ کو امرتا نے یوں شروع کیا ہے
میں نہیں جانتی کہ کبھی میری طرح سارا نے بھی اس عدالت کی تمنّا کی ہو گی یا نہیں، جس عدالت میں کوئی نظم بھی گواہی دے سکے۔ میں نے ضرور کی ہے
صرف تمنّا ہی نہیں کی، تصوّر میں ایک عدالت بھی تعمیر کر لی اور دیکھا گواہ کے کٹہرے میں سارا کی نظم کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے

اگر انگلی کاٹ کر سوال پوچھا جائے گا
تو جواب بے پور ہوگا

سُنو
میَں عبادت کے لیے غار نہیں انسان چاہتی ہوں
اور تلاوت کے لیے انسانی صحیفہ

پس میں نے یعنی آصف اکبر نے بھی سارہ کا مقدمہ اپنے تصوّر کی عدالتوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ کارروائی ملاحظہ کیجیے۔

قانون کی عدالت میں
————-
پیشکار : مدّعی آصف اکبر بنام معاشرہ حاضر ہو۔
میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچتا ہوں۔ منصف کی کرسی پر ایک بے نام چہرے والا شخص، رخ پر بے حسی کی نقاب چڑھائے اور قانون کی عینک لگائے کسی سے فون پر بات کر رہا ہے۔ میں جتنی دیر میں میں اپنے اوسان بحال کرتا ہوں، وہ فون سے فارغ ہو کر مقدمے کے کاغذات پر ایک نظر ڈالتا ہے۔ کاغذ دیکھ کر جج ناگوار لہجے میں کہتا ہے یہ کیا مذاق ہے؟ مدّعی کون ہے اور کہاں ہے؟
میں مودّب کھڑا ہو کر کہتا ہوں عالیجاہ میں مدّعی ہوں میرا نام آصف اکبر ہے۔
جج: یہ قتل کب ہوا تھا۔
میں: جناب قتل ہونا تو شائد 1970 سے بھی پہلے شروع ہو گیا تھا مگر 1984 میں اس عورت کے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرنے پر یہ سلسلہ تکمیل کو پہنچا۔
جج: یہ آپ کیا پہیلیاں بھجوا رہے ہیں۔ یہ قانون کی عدالت ہے ، ٹی وی کا کوئی مارننگ شو نہیں ہے۔ آپ کا وکیل کہاں ہے؟
میں: عالیجاہ میرا کوئی وکیل نہیں۔ میں معزّز عدالت سے استدعا کروں گا کہ مجھے ہی اس مقدمے کی پیروی کی اجازت دی جائے۔
جج: دیکھیے صاحب، آپ ایک باشعور شہری لگ رہے ہیں۔ آپ کو شائد اندازہ نہیں ہے کہ آپ اس عدالت کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ میں اس مقدمے کو برخواست کر رہا ہوں۔
میں: حضور مجھے اندازہ ہے کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اور اس وقت بھی آپ کی عدالت میں سینکڑوں مقدمات زیرِ التوا ہوں گے۔ مگر میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اس مقدمے کو چلانے کی اجازت دیجیے، کیونکہ اگر آپ نے فارغ کر دیا تو میں یہ مقدمہ تاریخ کی عدالت میں لے جاؤں گا۔ وہاں شائد آپ کو گواہ کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑے۔
جج: (کچھ سوچ کر) چلیے ٹھیک ہے۔ میں آپ کی بات سنوں گا، مگر عدالت کا وقت ختم ہونے کے بعد۔ آپ شام 5 بجے یہیں آجائیے، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو ابھی وقت نہیں دے سکتا۔
———-
شام پانچ بجے کے لگ بھگ جج صاحب کا پیشکار آواز دیتا ہے مدّعی آصف اکبر حاضر ہو۔
میں بہ سرعت کمرہ عدالت میں پہنچ جاتا ہوں۔
جج: مجھے کاغذات دیکھنے کے بعد اس مقدمے میں کافی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج ہی اس مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کی کارروائی مکمّل کر لوں چاہے رات کے بارہ ہی کیوں نہ بج جائیں۔ آپ کو دشواری تو نہیں ہوگی؟ پھر اگر مقدمہ قابلِ سماعت قرار پایا تو قواعد کے مطابق ملزمان، وکیل صفائی اور گواہان کو طلب کرکے ان کی موجودی میں باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔
میں: جی نہیں عالیجاہ۔ میں بہت ممنون ہوں کہ آپ اتنا وقت دے رہے ہیں۔
جج: آپ کہتے ہیں کہ سارہ شگفتہ نامی اس عورت کو قتل کیا گیا مگر ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ اس نے خودکشی کی تھی، یہ کیا معمّہ ہے؟
میں: عالی جاہ یہ ایسا قتل ہے جس میں کسی شخص کو ذہنی طور پر اتنی اذیّت دی جاتی ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسے قتل ساری دنیا میں ہوتے ہیں، اور ہمارے معاشرے میں بھی بہت عام ہیں۔
جج: مگر قانون کی نظر میں یہ چیز قتل نہیں۔
میں: اسی بات کا تو رونا ہے۔ کسی شخص سے ہزار روپے چھین لیے جائیں تو یہ قانون کی نظر میں جرم ہے، مگر اس کی شخصیت چھین لی جائے یا مسخ کر دی جائے تو قانون کی نظر میں جرم نہیں، اور معاشرہ اس سے ہمدردی رکھتے ہوئے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
جج: مگر اس کرسی پر بیٹھ کر میں صرف قانون کے مطابق ہی فیصلہ دے سکتا ہوں۔

میں: جناب آپ مقدمے کی سماعت تو کیجیے، پھر آپ جو بھی فیصلہ دیں گے وہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔
جج: کیا اس جرم کی جسے آپ قتل کہہ رہے ہیں پولیس میں رپورٹ درج کروائی گئی؟
میں: جی نہیں جناب
جج: وہ کیوں، بغیر پولیس رپورٹ کے مقدمہ کیسے چل سکتا ہے؟ تفتیشی رپورٹ تو پولیس ہی دے گی۔
میں: جناب والا اجازت دیں تو اس سوال کا جواب کچھ دیر بعد دینا چاہوں گا۔
جج: ٹھیک ہے۔ مقتولہ کون تھی، کہاں کی رہنے والی تھی اور کیا کرتی تھی، عدالت کے سامنے کوائف پیش کیے جائیں۔
میں: مقتولہ کا نام سارہ تھا۔ 1954 میں گجرات میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ تانگہ چلاتا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے باپ سے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔ کچھ سالوں کے بعد اس کا باپ ڈھیر سارے بچّوں کو بے یار و مددگار اس کی ماں کے پاس چھوڑ کرگھر سے چلا گیا، اور اس نے کسی اور عورت سے شادی کر لی۔ اس کی ماں نے کسی صورت کپڑوں پر پھول وغیرہ بنا کر بچوں کو بڑا کیا۔ اور جیسے ہی سارہ کی عمر 14 سال ہوئی، یعنی قانونی طور پر شادی کی عمر کو پہنچنے سے بہت پہلے ہی، اس کی شادی کر دی۔ سارہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر اس کا یہ شوق گھٹ کر رہ گیا، اور اس کو شوہر کے گھر جانا پڑا۔
جج: آپ نے مدّعا علیہان کی ایک فہرست داخل کی ہے۔ کیا اس عورت کی ماں کا نام بھی قتل کے ملزموں میں شامل کیا ہے آپ نے؟
میں: جی نہیں جناب۔ اس کی ماں اس کی زندگی میں شامل شاید واحد انسان تھی جسے سارہ سے نہ صرف بھرپور ہمدردی تھی، بلکہ اس نے سارہ کی شادیوں کے بعد بھی اس کی بھرپور خدمت کی۔ یہ درست ہے کہ اس نے کم عمر سارہ کی شادی ایک خراب آدمی سے کردی، مگر یہ اس کے حالات کا جبر تھا اور اس میں کوئی بد نیّتی نہیں تھی۔
جج: آپ کا مرنے والی سے کیا رشتہ تھا۔
میں: جناب وہ انسانیت کے رشتے سے، اور اسلام کے رشتے سے اور ہموطنی کے رشتے سے اور کراچی کی شہری ہونے کی حیثیت سے، اور ادب و شاعری کے رشتے سے میری عزیزہ تھی۔
جج: آپ کی اس سے ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟
میں: میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس کا نام بھی میں نے کچھ عرصے پہلے ہی سنا ہے۔ یہ درست ہے کہ جس زمانے میں وہ ادب کی دنیا میں داخل ہوئی، میں بھی ایک شاعر اور ادیب کی حیثیت سے کراچی میں ہی اپنی شناخت بنا رہا تھا۔ مگر وہ جس ادبی دائرے کی فرد تھی وہ قمر جمیل کے گرد گھومتا تھا اور میری قمر جمیل سے بھی کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ اس حلقے کے دوسرے لوگوں سے۔ میری ملاقاتیں احسان دانش، سلیم احمد، ماہر القادری، حکیم سعید، رحمان کیانی، شکیل احمد ضیا، احمد ہمیش، سلیم کوثر اور ان جیسے بہت سےحضرات سے تو رہیں مگر سارہ شگفتہ کے حلقے سے میں ناواقف ہی رہا۔ لیکن میرا یہ ادبی دور تین چار سال تک ہی رہا۔ اس کے بعد تعلیمی مصروفیات اور پھر شہروں سے دور ملازمت کے سبب میں تمام حلقوں سے کٹ کر رہ گیا۔
جج: اگر آپ انسانیت اور ہم شہر ہونے کے رشتے سے یہ مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو اس کے مدّعی آپ اکیلے کیوں ہیں۔
میں: جنابِ والا، میں نے چاہا کہ کچھ اور لوگوں، خصوصاً اپنی خواتین شاگردوں کو بھی اس مقدمے کی مدعیت میں شامل کروں مگر وہ سب لوگ خوفزدہ سے ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ وہ شدّت پسند لوگوں کی نظروں میں نہ آ جائیں۔
جج: اچھا مقدمے کی طرف آئیے، پھر کیا ہوا۔
میں: اس شخص سے سارہ کے تین بچے ہوئے۔ وہ شخص مار مار کر سارہ کے جسم پر نیل ڈال دیتا تھا۔ جب سارہ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس شخص نے سارہ کو جنازے پر جانے سے روک دیا اور کہا کہ آج کوئی انسان نہیں ایک کتّا مرا ہے۔ سارہ کے ضد کرنے پر اسے پائپ سے مار مار کر بیہوش کر دیا۔ رات کسی وقت وہ ہوش میں آکر دیوار پھاند کر جنازے میں شرکت کے لیے چلی گئی۔ واپسی پر پھر اس کے شوہر نے اسے پائپ سے مارا ۔ ایک بار سارہ کی بہن کی نوخیز بیٹی اس کے گھر رہنے کے لیے آئی۔ رات اس بچی نے خوفزدہ ہو کر سارہ کو مدد کے لیے پکارا۔ یہ اس کے کمرے میں پہنچی تو دیکھا کہ اس کا شوہر اس لڑکی کے بستر پر تھا۔ سارہ مزاج کی تیز تھی۔ اس نے شوہر کو برا بھلا کہا۔ بچی کی عزت تو بچ گئی مگر سارہ خود طلاق کا داغ لے کر اپنی ماں کے گھر واپس آ گئی۔
جج: اس واقعے کا کوئی گواہ۔
میں: وہی بچی اس واقعے کی واحد گواہ ہے اور اب پتا نہیں کہاں ہو گی۔
جج: یہ بہت برا ہوا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں عدالتی نظام گواہوں اور گواہیوں کی بنیاد پر چلتا ہے۔ بسا اوقات عدالت کو یقین بھی ہوتا ہے کہ گواہی جھوٹی ہے، مگر وہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہے، اور بسا اوقات عدالت کو یقین ہوتا ہے کہ دعویٰ سچّا ہے مگر اس کے حق میں کوئی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے عدالت اس کو تسلیم نہیں کر سکتی۔
میں : درست کہا جنابِ عالی۔ عام طور پر جب کوئی جر م ہوتا ہے تو اوّل تو اس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، اور اگر کوئی گواہ ہوں بھی تو وہ سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کا ایک سبب تو یہ خوف ہوتا ہے کہ مجرم ان کو نقصان پہنچائیں گے، اور دوسرا سبب عدالتوں کی طول طویل کارروائیاں اور کارروائی کے دوران مخالف وکیلوں کی طرف سے جرح کے نام پر گواہوں کی تذلیل ہے۔ اس معاملے میں عورت کے ساتھ کیے جانے والے جرائم تو زیادہ تر پولیس میں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں قانون کی حکمرانی کا بول بالا سمجھا جاتا ہے، ہر چھ میں سے ایک عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا جاتا ہے۔ وہاں اندازاً سالانہ تیرہ لاکھ سے کچھ زیادہ ایسے جرائم ہوتے ہیں، جن میں سے بمشکل اسّی سے نوّے ہزار کی پولیس میں رپورٹ ہوتی ہے، اور گواہیوں کے پیچیدہ نظام کے سبب تیرہ لاکھ مجرموں میں سے مشکل سے ہزار بارہ سو کو سزا ملتی ہے۔
جج: اور پاکستان میں؟
میں: جناب پاکستان میں تو پولیس رپورٹ لکھانا ہی بہت مشکل کام ہے۔ عورتوں کے ساتھ مارپیٹ تو ہمارا قومی ورثہ ہی سمجھ لیجیے، اس لیے اس کی تو رپورٹ ہی کوئی نہیں ہوتی۔ ویسے تو مرد بھی محفوظ نہیں، مگر مرد کم از کم بھاگ کر کہیں دور تو جا سکتے ہیں۔
جج: اچھا آگے چلیے۔
میں: عالی جاہ اس کے پہلے شوہر کا نام ملزموں میں شامل ہے۔
جج: ٹھیک ہے، مگر طلاق دے دینے پر خواہ وہ بلا سبب یا ظالمانہ ہی کیوں نہ دی گئی ہو، شائد دنیا کے کسی قانون میں کوئی سزا نہیں۔ کیا آپ نے اس مقدمے میں گواہوں کی کوئی فہرست داخل کی ہے؟
میں: گواہ تو بہت سے ہو سکتے تھے، مگر اہم گواہوں میں اَمرِتا پریتم اور ممتاز رفیق کے نام شامل کرنے کی درخواست کروں گا۔
جج: کیا آپ ان گواہوں کی حاضری یقینی بنا سکتے ہیں؟
میں: جنابِ عالی، امرتا پریتم تو اب اس دنیا کی باسی نہیں رہیں، تاہم وہ اپنی گواہی سارا شگفتہ کے بارے لکھی اپنی ایک کتاب میں چھوڑ گئی ہیں۔
جج: کتاب کی گواہی تو اس عدالت کے لیے ایک نیا اور دلچسپ نکتہ ہے۔ عدالت کو بتایا جائے کہ ملکی قانون کے مطابق کسی کتاب کی گواہی کسی مقدمے میں کس حد تک قابلِ قبول ہے۔
میں: ملکی قانون کے اعتبار سے تو کسی فاضل وکیل سے دریافت کر کے ہی بتا سکوں گا۔ البتّہ فلپائن کے قانون کے مطابق خاندانی بائبل پر تحریر کی ہوئی کسی تحریر کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔
جج: ممتاز رفیق نامی گواہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے۔
میں: ممتاز رفیق ایک معروف ادیب و شاعر ہیں اور اس ادبی دائرے کے آدمی ہیں جس میں مقتولہ اور اس کے دو شوہر شامل تھے۔ وہ مقتولہ کے دوسرے نکاح کے گواہ بھی ہیں جو ایک معروف شاعر سے ہوا تھا۔
جج: کیا آپ ممتاز رفیق کو اس عدالت میں حاضر کر سکتے ہیں؟
میں: میرے کہنے سے شائد وہ نہ آئیں۔ پھر 33 سال پہلے قتل ہونے والی ایک عورت کے لیے وہ اپنے ان زندہ دوستوں کو کیوں ناراض کریں گے جو اس وقت بہت نیک نام ہیں۔ خاص کر اس صورت میں جب ان کو اس عورت سے کچھ زیادہ ہمدردی بھی نہ ہو۔
جج: پھر ان کی گواہی کیسے لی جائے گی؟
میں: انہوں نے بھی ایک خاکوں کی کتاب لکھی ہے، بہ عنوان تصویر خانہ، جس میں مقتولہ کا خاکہ بھی بھید بھری کے عنوان سے لکھا ہے۔ میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ اس کتاب کو بھی گواہی کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔
جج: اگر عدالت نے کتاب کی گواہی مانی تو جہاں تک امرتا پریتم کا سوال ہے ان کی بات کو تو گواہی کے طور پر قبول کیا ہی جائے گا، جس پر وکلا ءِ صفائی کو جرح کرنے کی اجازت ہوگی، مگر ممتاز رفیق کی کتاب کی گواہی؟ کیا آپ حلف اٹھائیں گے کہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ سچ لکھا ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں لکھا۔
میں: میں یہ حلف اٹھاؤں گا کہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ سچ اور ظن یعنی قیاس آرائی کا آمیزہ ہے۔ اور عدالت کے سامنے سچ اور ظن الگ ہو ہی جائے گا۔
جج: سارہ کے بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کیجیے۔
میں : پہلے شوہر سے طلاق پانے سے پہلے ہی اس نے اپنے طور پر کتابیں خرید کر، تعلیم کے مخالف شوہر کی مار کھا کھا کر بھی، نویں جماعت کا امتحان دیا اور ساتھ ہی خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر میں ایک معمولی ملازمت شروع کر دی، اس کے بعد شائدمیٹرک کا امتحان بھی پاس کیا۔ اس کے شوہر نے جب سارہ کو طلاق دی، تو اس کا حق ِ مہر بھی ادا نہیں کیا اور تینوں بچّوں کو لے کر میانوالی چلا گیا۔ سارہ حد سے زیادہ دلیر تھی۔ تنِ تنہا میانوالی جا پہنچی اور سابق شوہر سے حق مہر اور بچوں کا مطالبہ کیا۔ اس بد بخت نے اس پر اپنے لوگوں کے ذریعے فائر کھلوا دیے۔ سارہ بمشکل وہاں سے ایک فوجی افسر کی مدد سے جان بچا کر لوٹی۔ پھر اس نے عدالت میں بچّے حاصل کرنے کے لیے مقدمہ کیا۔ یہاں اس کے سابق شوہر نے اس پر بد چلنی کا الزام لگایا۔ سارہ نے بچّے حاصل کرنے کی خاطر عدالت کے سامنے اس الزام کو قبول کر لیا اور کہا کہ یہ بچے اس شخص کے نہیں کسی اور کے ہیں، اس لیے میرے حوالے کیے جائیں۔ پولیس کی مدد سے سارہ نے بچّے حاصل تو کر لیے مگر کچھ عرصے بعد اس کا سابق شوہر اس کے گھر آیا اور سارہ سے کہا کہ کچھ دن کے لیے بچّوں کو اس کے ساتھ جانے دے۔ اس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ خود چند روز بعد بچّوں کو واپس پہنچا جائے گا۔ مگر پھر بچّے کبھی بھی سارہ کو نہیں مل سکے۔ وہ ساری زندگی ان کی یاد میں تڑپتی رہی، اور آخری وقت تک اس حوالے سے بھی شدید ذہنی اذیّت کا شکار رہی۔ جنابِ والا یہ سارہ کا ایمانی قتل تھا۔
جج: ٹھیک۔ آگے چلیے۔
میں : سارہ جہاں کام کرتی تھی وہاں پندرہ بیس لڑکیاں ملازم تھیں اور مرد صرف ایک۔ ایک شرمیلا سا نوجوان جو شاعر بھی تھا اور شاعروں کے ایک حلقے سے بھی تعلّق رکھتا تھا۔ سارہ کی طلاق کے کچھ عرصے بعداس شاعر نے سارہ کو شادی کی پیشکش کی۔ ہمارے دوسرے گواہ ممتاز رفیق کا ذاتی اندازہ یا قیاس ہے کہ سارہ شگفتہ نے نوجوان شاعر کو پھانس لیا۔
جج: اوہو۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ سارہ نے شاعر کو پھانسا؟
میں: عالی جاہ اس بات کا مقدمے سے براہِ راست کوئی تعلّق نہیں۔ تاہم ہمارے قانونی اور فقہی نظام میں کسی عورت کا شادی کے لیے کسی مرد کو شادی کی پیش کش کرنا کوئی جرم نہیں، اور جدید اخلاقی نظام کی روُ سےبھی یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک وکیل اپنا موکّل تلاش کرتا ہے۔
جج: اچھا پھرکیا ہوا۔
میں: جناب ، شادی کے بعد سب سے پہلے تو شرمیلے شاعر نے سارہ کی ملازمت پر پابندی لگائی کہ یہ خاندانی روایت کے خلاف ہے۔ اس طرح اس کا معاشی قتل کیا، کیونکہ اس کی اپنی آمدنی محدود تھی اور اس کے گھر کا خرچ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب اس کی بیوی کا وضع حمل کا وقت آیا تو اس نے بیوی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ بیوی نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ شوہر نجانے کہاں غائب تھا۔ بیوی نے بچے کی لاش کو اسپتال میں چھوڑا۔ گھر آئی تو شوہر گھر میں تھا، اور روز کے معمول کے مطابق دو چار دانش ور دوست گھر میں بیٹھے ادبی مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ سارہ نے شوہر کو بچے کی اطلاع دی۔ شوہر اور اس کے دوستوں نے افسوس کا اظہار کیا، اور ایک دو منٹ کی خاموشی کے بعد پھر اپنی ادبی بات چیت میں محو ہو گئے۔ سارہ نے اکیلے جا کر کسی جاننے والی سے کچھ رقم ادھار لے کر اسپتال کازچگی کا بل چکایا۔ بچے کی تدفین کے لیے سارہ کے پاس پیسے نہیں تھے۔ سارا نے ڈاکٹر سے کہا کہ بچے کی لاش کو

خیراتی طور پر کہیں دفن کروا دے۔ یہ سارہ کا جذباتی قتل تھا۔

اس کے بعد سارہ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود بھی شاعری کرے گی اور ان لوگوں کو دکھائے گی کہ شاعری کیا ہوتی ہے۔
جنابِ عالی ہمارے معاشرے میں کسی عورت کو ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کے لیے پانچ سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں۔
سب سے پہلا مسئلہ اس کی تعلیم
دوسرا مسئلہ ا دبی حلقوں، محفلوں، اور تحریروں تک رسائی
تیسرا مسئلہ لکھی ہوئی چیز کی اشاعت کی اجازت
چوتھا مسئلہ مردوں کی دنیا میں خود کو منوانا
اور پانچواں مسئلہ مردوں کے قدم بقدم چلتے ہوئے اپنی عزّت، عصمت اور نیک نامی کی حفاظت۔

آج کی دنیا میں پہلا مسئلہ تو بڑی حد تک حل ہو گیا،لیکن دوسرا مسئلہ جوُں کا توُں ہے کیونکہ ایک لڑکی /عورت اس طرح روزانہ اپنے گھر سے نکل کر کسی کافی ہاؤس یا کسی دوست کے گھر نہیں جا سکتی جیسے ایک مرد جا سکتا ہے۔ تیسرا مسئلہ اشاعت کا ہے جو اب بھی قائم ہے۔ اوّل تو شادی سے پہلے بھی گھر والے اپنی بیٹی کی تحریروں کی اشاعت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، اور شادی کے بعد توشوہر بالکل پسند نہیں کرتے کہ ان کی بیوی کا نام رسالوں میں چھپے۔ چوتھا مرحلہ مردوں کے اِس سماج میں عورت لکھاری کا خود کو منوانا ہے جو اب بھی بہت دشوار ہے۔ عورتوں کو لوگ اپنے برابر آتے دیکھ کر عجب احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، کجا یہ کہ کوئی عورت ان کو بہت پیچھے چھوڑ جائے۔ یہ لوگ یہی سمجھتے اور افواہیں پھیلاتے ہیں کہ اچھا لکھنے والی ہر عورت کسی مرد سے لکھوا کر اپنے نام سے چھپواتی ہے۔ اور پانچویں آزمائش یعنی ایک عورت کا عملی زندگی میں رہتے ہوئے اپنی نیک نامی کی حفاظت کرنا پاکستانی معاشرے میں تقریباً ناممکن ہے ۔ عورت کتنی بھی باعصمت ہو لوگ تہمت لگانے سے باز نہیں آتے۔ ہاں ان عورتوں کو استثنا حاصل ہے جو گھر کی چاردیواری میں رہ کر اسلامی قسم کی تحریریں اسلامی قسم کے رسالوں میں چھپواتی ہیں۔
جج: کیا آپ کے بیان کا مقدمہ سے کوئی تعلّق ہے؟
میں: جی جناب بالکل ہے اور ابھی یہ بات واضح ہو جائے گی۔ سارہ ایک بہت باصلاحیت عورت تھی۔ اُس میں سمجھنے کا مادہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور سیکھنے کا بھی۔ ساتھ ہی اُس میں اظہار کی بھی صلاحیت بے پناہ تھی۔ تعلیم سے محرومی کو اس نے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا اور اپنے طور پر مطالعہ کر کے اس نے اپنے علم کے معیار کو بلند کیا۔ اور ساتھ ساتھ شاعری شروع کر دی۔ صنفِ سخن کے طور پر اس نے نثری نظم کو چُنا جو اُس زمانے میں نئی نئی متعارف کروائی جا رہی تھی اور جہاں نام پیدا کرنے کی بہت گنجائش تھی۔ وہ فطری طور پر بیباک تھی اس لیے مردانہ محفلوں میں شمولیت اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنی، اور چونکہ اس زمانے میں نثری نظم کو قبول عام حاصل نہیں ہؤا تھا اس لیے اس پر یہ الزام بھی نہیں لگ سکا کہ وہ کسی سے لکھواتی ہے۔ لیکن جناب وہ بدنصیب عورت آخری مرحلے یعنی اپنی نیک نامی کی حفاظت میں ناکام ہو گئی۔مکمّل ناکام۔ وہ بلا کی فطین بھی تھی اور دلیر بھی۔اس کی یہی دلیری اس کو لے ڈوبی، جیسے جاپانیوں کی دلیری ناگا ساکی کو لے ڈوبی تھی۔
جج: کیا اس پر لگنے والے الزام بے بنیاد تھے یا ان میں کچھ سچّائی بھی تھی۔
میں: حضور میں اس معاملے میں کوئی معلومات نہیں رکھتا، اس لیے عدالت کی معاونت سے قاصر ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ فرد چاہے انتہائی پارسا ہو یا انتہائی بدکردار، اس کا قتل کسی بھی باشعور معاشرے میں روا نہیں رکھا جا سکتا۔ الّا یہ کہ کسی قانون کی عدالت نے اسے سزا سنا دی ہو۔
جج: عدالت کو آپ کے نکتے سے اتّفاق ہے۔ بیان جاری رکھیے۔
میں: سارہ کے شوہر کے دوستوں کا شوہر کی موجودگی میں اس کے گھر بلا تکلّف روز کا آنا جانا تھا۔ ایک دن ان میں سے ایک دوست نما صاحب نے سارہ سے، جی ہاں جناب شادی شدہ سارہ سے جو اس کے دوست کی بیوی تھی، عالی جاہ وہ کوئی رکھیل نہیں تھی، منکوحہ تھی، اس سے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان الفاظ کے پیچھے حقیقت کیا تھی۔ کسی کو نیچا دکھانے کی خواہش، کوئی شرط لگائی گئی تھی یا کوئی مقابلہ تھا۔ سارہ نے بہرحال دو ٹوک الفاظ میں اس بکواس کو وہیں مسترد کر دیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
سارہ عورت تھی نا، اور سادہ دل بھی۔ شائد کسی کو اپنے راز میں شریک کرنا چاہتی تھی۔ چند روز بعد شائد سارہ نے خود ہی یہ بات اپنی ایک ملنے والی کو بتائی، لیکن بقول سارہ کے اس نے خود بھانپ لی۔ عین ممکن ہے وہ کُٹنی باقاعدہ سازش کا حصّہ رہی ہو ۔ اس نے بات بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ وہ آدمی تم کو کیسا لگتا ہے؟ سارہ نادان بھی تھی اور بیحد دلیر بھی، کہہ بیٹھی کہ خوبصورت ہے، اسمارٹ ہے، اچھا لگتا ہے۔ مگر وہ عورت راز کو راز نہ رکھ سکی۔ بات کسی طرح سارہ کے شوہر تک پہنچ گئی۔ ایک شام اس کا شوہر اپنے دوست نما کو ساتھ لیے گھر پہنچا۔ سارہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ کیا تم نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ دلیر سارہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقرار کر لیا، اور مردانگی سے بھرے شوہر نے وہیں کھڑے کھڑے اسے تین طلاق دے دیں۔ یوں عالیجاہ اس آدمی نے سارہ کا سماجی اور فقہی قتل کیا۔ اب وہ عورت بے گھر بھی تھی، بے روزگار بھی اور بے سہارا بھی، اور بالکل اکیلی بھی۔ اس دوسری طلاق سے پہلے ہی سارہ ایک معروف شاعرہ بن چکی تھی۔ مختصر عرصے میں شہرت کی بلندی۔ اس کے مقابلے میں اس کا شوہر اور اس کے دوست رینگ رہے تھے۔ شاید طلاق کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو۔
جج: آپ جذباتی گفتگو کا فن خوب جانتے ہیں، مگر ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جسے قانون کی خلاف ورزی کہا جا سکے۔
میں: جناب والا وہ نکتہ اب میَں آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔ اس طلاق کے بعد وہ دوست نما جس کی وجہ سے یہ طلاق ہوئی تھی، بظاہر بہت شرمندہ تھا۔ اس نے عدّت ختم ہونے کے بعد سارہ کو شادی کی پیشکش کی۔ سارہ اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر بے سہارا ہونے کی وجہ سے مجبور تھی۔ اس شخص نے بھی گویا ضد باندھ لی تھی کہ سارہ سے شادی کر کے رہے گا۔ ہر طرح کی منّت خوشامد، دوستوں کا دباؤ، نتیجتاً سارہ مان گئی اور اس کا نکاح اس دوست نما سے ہو گیا۔ یہ شخص خود بھی نثری نظم کا شاعر تھا، اور آج بھی لوگ اس قاتل کا شمار نثری نظم کے بانیوں میں کرتے ہیں۔
جج: گویا یہ سارہ شگفتہ کی تیسری شادی تھی۔
میں: جی جناب۔ وہ شخص سارہ کو شادی کر کے اپنے گھر تو لے گیا مگر اس کی ماں اور بہنوں نے پہلے دن سے ہی سارہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس کی ماں کا خیال تھا کہ سارہ نے اس کے بیٹے کو پھانس لیا ہے۔ اسی دن سے ذہنی اذیّت کا آغاز ہو گیا۔ ایک ہفتے بعد اس کے شوہر کی سوچ بھی کھُل کر سامنے آ گئی۔ وہ سارہ کی شہرت اور مقبولیت سے حسد کرتا تھا۔ اس نے سارہ کو بے تحاشا مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس کے جسم کو اپنے پیروں سے کچل بھی دیتا تھا۔ ساتھ ہی شدید طنز آمیز باتیں۔ سارہ سے اپنے جوتے پالش کرواتا تھا اور کہتا تھا عظیم شاعرہ میرے جوتے پالش کر رہی ہے۔
جج: یہاں قانونی جرم کا آغاز ہوتا ہے، مگر یہ قتل نہیں، نہ اقدامِ قتل ہے۔
میں: جی جناب۔ مگر اُن چند ماہ میں جو سارہ نے اس شقی القلب درندے کے ساتھ طلاق لینے کی جد و جہد میں گزارے، وہ اپنا ذہنی سکون برقرار نہ رکھ سکی۔ یوں اس شخص نے ایک پہلے سے بہت دکھی عورت کو ایک ذہنی مریضہ بنا دیا۔ کسی طرح اس بھیڑیے سے طلاق لینے کے بعد سارہ نے پانچ بار خودکشی کی کوشش کی۔ کئی بار اسپتال میں داخل رہی۔ اسے بجلی کے جھٹکے دیے جاتے تھے۔ اس کو پاگل نہ ہوتے ہوئے بھی پاگلوں کے ساتھ رکھا گیا۔ عالیجاہ ان لوگوں کا نام بھی ملزمان میں شال کرنے کی درخواست ہے۔
جج: مگر اسپتال کے اسٹاف نے تو وہی کیا جو ان کی سمجھ میں آیا۔
میں: جناب ایک عام آدمی بھی ایک صحیح الدماغ اور ایک پاگل میں فرق کر سکتا ہے، تو کیا وہاں کے ڈاکٹرز اور اسٹاف کو اتنا اندازہ نہیں ہوگا۔ یہ لوگ اس کے قتل میں برابر کے شریک ہیں جناب۔ پاگل خانے میں رہنے سے اس کے مرض میں اور شدت آ گئی۔ اور اس کا خودکشی کا رجحان مزید بڑھ گیا۔ ایک اسپتال کے وارڈ بوائے نے اس کو پاگل سمجھ کر اس کو چھیڑا۔ سارہ نے اس کو ڈانٹ تو دیا مگر اسے ساری عمر اس بات کا قلق رہا کہ اسپتالوں کے لوگ اتنے گھٹیا بھی ہو سکتے ہیں۔
جج: مگر قانونی طور پر یہ بات صرف ماہر ڈاکٹروں کا ایک پینل ہی طے کر سکتا ہے کہ ڈاکٹروں نے کوئی غلط بات کی۔
میں: بہتر ہے جناب۔
جج: مزید کچھ
میں: جی جناب عالی۔ کسی ڈاکٹر نے نے اس کی ماں کو کہا کہ اس کا علاج شادی ہے۔ سارہ کی والدہ نے ایک بار پھر سارہ کی شادی کر دی۔ وہ ایک جاگیردار تھا۔ وہ بھی انتہائی اذیّت پسند اور تشدّد پسند نکلا۔ سارہ نے اس سے بمشکل طلاق لی۔ مگر وہ شخص سارہ کے پیچھے پڑا رہا۔ وہ بھی سارہ کی شاعری کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار تھا۔ جس اسپتال میں سارہ زیرِ علاج وہاں اس کے کمرے میں گھس گیا۔ گارڈز نے سارہ کو اس سے بچایا۔ پھر اس شخص نے کسی کو درمیان میں رکھ کر سارہ کو کراچی میں ایک گھر میں بلایا کہ کسی عزیزہ کی طبیعت بہت خراب ہے اور وہ سارہ سے ملنا چاہتی ہے۔ سارہ پھر بیوقوف بن کر وہاں چلی گئی۔ یہاں اس نے سارہ کو چاقو کے کئی وار کر کے لہو لہان کر دیا۔ آواز سن کر ایک پڑوسی دیوار کود کر اندر پہنچا۔ سارہ پھر موت کے منہ سے بمشکل نکل سکی۔ جناب والا، یہاں میں آپ کے اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں جو آپ نے ابتدا میں پوچھا تھا کہ اس جرم کی پولیس رپورٹ کیوں نہیں کروائی گئی۔ عالی جاہ زخمی شگفتہ جب اقدام قتل کا مقدمہ درج کروانے کے لیے تھانے گئی تو تھانیدار نے کہا کہ بی بی مقدمہ درج کرنے کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جج صاحب جب ایک زخمی عورت سے مقدمہ درج کرنے کے لیے گواہ مانگے جاتے ہیں تو آج 33 سال بعد کون سا پولیس والا میرا مقدمہ درج کرے گا۔
جج: یہ واقعہ واقعی بہت پرانا ہو گیا۔ اب اس کو زندہ کرنے کا کیا فائدہ۔
میں: عالی جاہ قتل جیسا جرم کتنا بھی پرانا ہو جائے قانون کی نظر میں ہمیشہ قابلِ سزا رہتا ہے، خواہ مجرم کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اور آج اگر آپ سارہ کے مجرموں کو سزا سنائیں گے تو کل کو دوسری عورتوں کو بھی انصاف مل سکے گا۔
جج: یہ نکتہ بھی درست ہے۔
میں: جناب والا، ان حالات میں وہ پاگل تو نہیں ہوئی، مگر اکثر اس پر پاگل پن کے دورے سے پڑتے تھے۔ جب اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائیوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ گویا ایک بار پھر اس کا سماجی قتل کر دیا گیا۔ چند سال یونہی گزرے۔ وہ بدنام ہوتی گئی۔ لوگوں نے اس پر اپنے گھروں کے دروازے بند کرنے شروع کر دیے۔ اتنی اچھی شاعرہ، اور اس کے ساتھ معاشرے کا یہ سلوک۔ یہ اس کا اخلاقی قتل تھا۔
جج: لوگوں کا حق ہے جس کو چاہیں اپنے گھر میں داخل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں۔ کیا وہ اخلاقی اعتبار سے بدنام ہو گئی تھی؟
میں: جی جناب، وہ بہت بدنام ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود وہ ایک انسان تو تھی۔ اس کے انسانی حقوق تو نہیں چھینے جا سکتے تھے۔ اس کے ساتھ تو یہ بھی ہوا کہ یونیورسٹی کے کسی طالب علم نے اس کے اعزاز میں ایک ادبی محفل رکھنے کے بہانے اسے ایک گھر میں بلایا، جہاں اس کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ سارہ اس کے ساتھ ایک رات گزارے۔ سارہ ششدر رہ گئی۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ اگر وہ اوباش ہوتی تو اس لڑکے کو کیوں انکار کرتی۔ جناب یہ تو ممکن ہے کہ کہیں کہیں اس نے اخلاقی حدود بھی پار کی ہوں، مگر کون تھا جو اس کا طلبگار نہیں تھا، اور کون تھا جو اسے بدنام کرنے میں پیش پیش نہیں تھا۔ مگر ہم کو یہ بات یاد رکھنی ہو گی کہ وہ شروع سے ایسی نہیں تھی۔ جب تک اس کو اس کے دوسرے شوہر نے کھڑے کھڑے طلاق نہیں دی تھی، وہ ایک پارسا گھریلو عورت تھی۔
جج: اس کے بعد کیا ہؤا؟
میں: بالآخر جون 1984 کی ایک صبح سارہ نے ایک ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے خودکشی کی، مگر عالیجاہ یہ قتل تھا۔ وہ اپنے بیٹے سے ملنے کوئٹہ گئی تھی۔ وہاں پتا نہیں اس سے کیا کہا گیا۔ ماں اور بیٹے کا تعلق بہت نازک ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بیٹے نے ماں کو کچھ کہا جس کے نتیجے میں اس نے مرجانا بہتر سمجھا۔ جناب کیا اس کو جذبات کے ہتھیار سے کیا گیا قتل نہیں سمجھا جائے گا۔
جج: کیا آپ کی بات مکمّل ہو گئی۔
میں: جی ہاں جنابِ والا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ بیان کردہ حقائق کی روشنی میں کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا جائے۔ اور جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
جج: عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ گو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کے چار شوہروں اور متعدد دیگر افراد نے اس کو ذہنی اذیّتیں دے دے کر اس کو بار بار اقدامِ خودکشی اور آخرکار خودکشی کی طرف دھکیلا، جو اخلاقی نقطہء نظر سے قتل ٹھہرتا ہے مگر ناکافی گواہان، دھندلے شواہد، مسخ شدہ حقائق، براہ راست قتل نہ ہونے اور ضابطے کے مطابق کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس کو اس قانونی عدالت میں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مدّعی اگر چاہے تو اس کیس کو اخلاق کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اخلاق کی عدالت میں

عدالت کا پیشکار: اخلاق کی عدالت میں مسماۃ سارہ شگفتہ کے قتل کا مدّعی آصف اکبر پیش ہو۔

میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچ کرمنصفین کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں۔کمرہ عدالت میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ کچھ وکلاء، کچھ عام شہری اور کچھ نمایاں دانشور۔ منصفین کی تعداد دس کے قریب ہے، جو سب اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں۔
(
عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔)
ایک جج: مدّعی آصف اکبر آپ نے درخواست دی تھی کہ اس مقدمہ قتل میں ایک بڑی بنچ تشکیل دی جائے جس میں اخلاقی قوانین سے متعلق تمام نمایاںطبقات کو نمائندگی دے جائے۔ آپ کی درخواست قبول کرتے ہوئےایک بڑی بنچ تشکیل دے دی گئی ہے۔ آپ کو اس بنچ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔
میں: عالیجاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے بنچ کے فاضل ممبران کی فہرست فراہم کی جائے۔
(
عدالت کی جانب سے مجھے اور کچھ اور لوگوں کو فہرست فراہم کی جاتی ہے۔)
فہرست منصفینِ عدالتِ اخلاق برائے سارہ شگفتہ مقدمہ ء قتل
نمائندہ صحافت
نمائندہ اساتذہ
نمائندہ ماہرینِ تاریخ
نمائندہ ماہرینِ عُمرانیات
نمائندہِ ادب
نمائندہِ سائنس
نمائندہِ قانون
نمائندہِ سیاست
نمائندہِ علماء
نمائندہِ خواتین، جن کو ایک خاتون کا مقدمہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔
————-
میں: مجھے اس عدالت کے منصفین میں نمائندہِ علماء کی شمولیت پر اعتراض ہے۔ میری درخواست ہے کہ ان کو زحمت نہ دی جائے۔
نمائندہ علماء: آپ کو میری شمولیت پر کیوں اعتراض ہے۔
میں: آپ کے طبقے کو اخلاقی قانون سازی کا ماخذ سمجھا جاتا ہے، اور کوئی بھی اخلاقی قانون بناتے ہوئے اس طبقے کا بنیادی اصول عورت دشمنی ہوتا ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ استغاثہ کتنا ہی جائز کیوں نہ ہو آپ ہمیشہ عورت کے خلاف فیصلہ دیں گے۔
عدالت کی سربراہ: آپ کا یہ مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔
میں: اگر آپ یہ یقین دلادیں کہ نمائندہ علماء سمیت تمام ارکان منصف کا ہی کردار ادا کریں گے اور خود مقدمے میں فریق نہیں بنیں گے تو مجھے یہ پینل قبول ہوگا۔
سربراہ: یہ عدالت آپ کو یقین دلاتی ہے کہ سارے منصف منصف کا کردار پوری سچّائی سے ادا کریں گے، اور مقدمے میں فریق نہیں بنیں گے۔
میں: مجھے آپ کی یقین دہانی پر پورا اعتماد ہے۔ عدالت سے درخواست ہے کہ مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت: عدالت نے اپنی معاونت کے لیے ایک معروف قلمکار کو وکیل صفائی کے طور پر کام کرنے کی زحمت دی ہے۔ وہ کارروائی کے دوران جہاں مناسب سمجھیں گے، آپ سے سوالات اور جرح کرتے رہیں گے۔ آپ استغاثہ پیش کریں۔
میں: میرا استغاثہ 4 جون 1984 کو کراچی میں ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہونے والی معروف خاتون شاعرہ سارہ شگفتہ کو انصاف کی فراہمی کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں میں نے ایک قانونی عدالت میں بھی انصاف طلبی کے لیے درخواست دی تھی، مگر ضابطوں کی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ مقدمہ وہاں قابلِ سماعت نہیں ٹھہرا۔ اس مقدمے میں میں نے جو کوائف بیان کیے تھے ان کی تمام تفصیل اِس فاضل عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔ وقت بچانے کے لیے میں ان معاملات کو دہرانے سے گریز کروں گا۔
میری استدعا ہے کہ سارہ شگفتہ کے زندگی کے حالات کی روشنی میں اس عدالت کی جانب سے اس کی موت کو ایک قتل قرار دیا جائے اور اس کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا سنائی جائے۔
وکیل صفائی: آپ کو علم ہے کہ سارہ کی اخلاقی شہرت کیا ہے؟
میں: مجھے اچھی طرح علم ہے کہ اس کی اخلاقی کیفیت کیا تھی، اور اس کے بارے میں اس کی زندگی میں کیا کیا کہا گیا، اور اس کی موت کے بعد بھی اس پر کیا کیا الزامات لگائے گئے۔ مگر اس مقدمے کا اس کی اخلاقی شہرت سے کوئی لینا دینا نہیں۔
یہاں استغاثہ اس بات کا خواہاں ہے کہ معاشرے نے اور معاشرے کے کرداروں نے اس خاتون کے ساتھ جو جسمانی اور ذہنی تشدّد کیا، جس کے نتیجے میں وہ بڑی حد تک دماغی بیماریوں کا شکار ہو گئی، اور آخرکار یا تو اس نے خود موت کو گلے لگا لیا، یا وہ موت کا شکار ہو گئی، اس سلوک کو آہستہ رو قتل قرار دیا جائے۔
وکیل صفائی: اس کے لیے مدّعی کو عدالت کے سامنے ثابت کرنا ہوگا کہ مرحومہ کی دماغی کیفیت واقعی اس کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے غیر متوازن ہوئی تھی۔
میں: میں معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس عدالت میں کسی امر کو ثابت کرنے کے معیار واضح کیے جائیں۔
کیا اخلاقی طور پر کوئی شخص صرف الزام لگنے کی وجہ سے برا گردانا جا سکتا ہے؟
عدالت (ماہرِعُمرانیات): جی نہیں۔ اصولاً تو کسی شخص کو صرف الزام لگنے کی وجہ سے برا نہیں گردانا جانا چاہیے۔ مگر معاشرے میں اخلاقی قدروں کے زوال پذیر ہونے کی وجہ سے اس کے ارکان کبھی حقیقت اور کبھی ظن و گمان کو بنیاد بنا کر منفی باتیں کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ جب یہ باتیں تواتر کے ساتھ کی جانے لگیں تو جس کے بارے میں بات کی جارہی ہو، وہ بدنام ہوجاتا ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے اپنی ذاتی مثال دینا چاہوں گا۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: دور طالب علمی میں، میں کچھ عرصے جامعہ کراچی کے ہاسٹل میں مقیم رہا۔ وہاں ایک شام ایک لڑکے نے جسے میں زیادہ نہیں جانتا تھا مجھے شطرنج کھیلنے کی دعوت دی۔ میں نے اس کے کمرے میں ایک دو گھنٹے اس کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے گزارے۔ دو دن کے بعد مجھے ڈپارٹمنٹ میں ایک دوست ملے۔ کہنے لگے سنا ہے آپ جوا کھیلنے لگے ہیں؟ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ جوا تو الحمد للہ میں نے آج تک ایک پیسے کا نہیں کھیلا۔ میں نے ان دوست سے پوچھا کہ آپ یہ بات کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ بولے فلاں دن آپ اس لڑکے کے کمرے میں گئے تھے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگے وہ تو جواری ہے۔ آپ اس کے کمرے میں گئے تھے تو ظاہر ہے جوا کھیلنے گئے ہوں گے۔
عدالت سے میری درخواست ہے کہ اس منطق پر غور کیا جائے جو ہمارے معاشرے میں عام ہے یعنی ظاہر ہے۔
وکیل صفائی: آپ یونیورسٹی شطرنج کھیلنے گئے تھے یا تعلیم حاصل کرنے؟
میں: میں معزّز عدالت کے ریکارڈ پر یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ یہ سوال مقدمے سے متعلّق نہیں، اس لیے میں اس کا جواب نہیں دینا چاہتا۔
وکیل صفائی: تو پھر آپ نے جو اپنا واقعہ سنایا کیا وہ مقدمے سے کوئی تعلّق رکھتا ہے؟
میں: آپ عدالت سے درخواست کیجیے۔ یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ میرا واقعہ متعلّق ہے یا نہیں۔
عدالت: آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو نہ دیجیے۔
میں: میں شکر گزار ہوں۔ میں وکیل صفائی کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے یہ سوال کر کے ہمارے روایتی اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
عدالت: آپ مقدمے پر بات کیجیے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے صرف یہ بات لانا چاہ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ادھوری معلومات کی بنیاد پر مکمّل نتائج اخذ کرنے کے کتنے ماہر ہیں۔
وکیلِ صفائی: جیسے آپ ادھوری معلومات کی بنیاد پر اس عدالت میں مقدمہ لے آئے ہیں۔
میں: میں عدالت سے رولنگ چاہتا ہوں کہ کیا وکیلِ صفائی کو مقدمے کی کارروائی کے دوران یہ بات کہنے کا حق حاصل ہے؟
عدالت: معلومات کو مکمل یا نامکمّل قرار دینا صرف عدالت کا اختیار ہے۔ تاہم بحث کے دوران وکیل صفائی اس جانب عدالت کی توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔
میں: میں نے درخواست کی تھی کہ اس عدالت میں کسی امر کو ثابت کرنے کے معیار واضح کیے جائیں۔
عدالت: اس عدالت میں عالمی اخلاقی اقدار ہی معیار ہیں۔ کسی چیز کو ثابت کرنے کے دو طریقے ہیں۔ اوّل گواہی یا بیان۔ دوسرے منطقی استدلال۔ گواہی میں گواہ کی شہرت کی اہمیت اس عدالت میں بھی ویسی ہی ہے جیسی قانون کی عدالت میں۔
میں: اس وضاحت کے لیے شکر گزار ہوں۔ ایک وضاحت اور چاہتا ہوں کہ ایک مسکین سے شخص کو اگر کوئی طاقتور ستاتا ہے، اس پر تشدد کرتا ہے، اس کو گالیاں دیتا ہے، اس کو جسمانی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے، اور ایسی جگہ جہاں کوئی گواہ نہیں، تو اس کے لیے قانون کی عدالت تو گواہ مانگتی ہے، کیا اخلاق کی عدالت بھی اس پر گواہ طلب کرے گی؟
عدالت: اگر اس شخص کی شہرت بری نہیں، یعنی وہ جھوٹا نہیں سمجھا جاتا ، تو اخلاق کی عدالت اس شخص کو سچّا سمجھے گی۔ چاہے وہ کوئی گواہ نہ بھی پیش کر سکے۔
میں: اور اگر ایک عورت بیان دیتی ہے کہ اس پر اس کا شوہر جسمانی تشدد کرتا ہے جس کا گواہ ظاہر ہے مشکل سے ہی کوئی مل سکتا ہے، تو کیا وہ اخلاق کی عدالت میں سچی سمجھی جائے گی؟
عدالت: جی ہاں، اگر اس کی شہرت سچ بولنے کے معاملے میں بری نہیں۔
میں: اگر ایک بری عورت، بہت بری عورت، سمجھ لیجیے جسم فروش، یہ فریاد لے کر آتی ہے کہ اس کے ساتھ کچھ لوگوں نے جسمانی اور ذہنی تشدّد کیا ہے، اور زیادتی کی ہے تو کیا اس کو اس عدالت میں سچا مانا جائے گا؟
عدالت: وکیلِ صفائی آپ کیا کہتے ہیں؟
وکیلِ صفائی: یہ تو حالات پر اور تفتیش پر منحصر ہوگا۔
میں: میں عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ اس نکتے پر خصوصی توجہ دی جائے کہ شہرت بری ہونے اور سچ بولنے کے معاملے میں شہرت بری ہونے میں فرق ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص شرابی جواری ہو مگر سچ بولتا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی بہت پرہیزگار ہو مگر جھوٹ بولتا ہو۔
عدالت: آپ کا یہ نکتہ ملحوظ رکھا جائے گا۔
میں: اب ہم مقدمے کے پہلے ملزم کی جانب آتے ہیں۔ یہ سارہ کا پہلا شوہر۔اس کے بارے میں سارہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک جاہل اور اوباش شخص تھا، بات بات پر اتنا مارتا تھا کہ بدن پر نیل پڑ جاتے تھے۔ اور جب چاہتا جانوروں کی طرح ہم بستری کرتا تھا۔
وہ کہتی ہے خیر کوئی بات نہیں۔ ہمارے یہاں کا شوہر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور بیوی کو تو ایسا ہونا ہی ہے۔
بیوی کی بھانجی کے ساتھ زیادتی کا خواہشمند یہ شوہر، اس خواہش میں رکاوٹ ڈالنے کی سزا میں بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور بچوں کو لے کر چلا جاتا ہے۔
جب سارہ نے عدالت میں بچوں کے حصول کے لیے درخواست دی تو اس پر بد چلنی کی تہمت لگائی۔ عدالت نے جب بچے ماں کے حوالے کر دیے تو اس ماں کی خوشامد کر کے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ بچوں کو کچھ دن کے لیے ساتھ جانے دو، اور پھر وہ بچے کبھی واپس نہیں ملے۔ جب وہ لینے کے لیے میانوالی گئی تو اس پر فائر کھول دیا گیا۔
میں اس معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شخص کو سارہ کے قاتلوں میں شمار کیا جائے، جس نے اس پر نہ صرف جسمانی، ذہنی اور روحانی تشدّد کیا، اور ایک عقلمند، علم کی جویا، بچوں سے محبت کرنے والی، محنتی، شریف عورت کو بچوں کی جدائی کے مستقل عذاب میں مبتلا کر کے اس کی زندگی کو جہنّم بنا دیا، جو آخرکار اس کی دردناک موت پر منتج ہوئی، بلکہ اس پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، جس سے اس کی جان بچ جانا ایک معجزہ ہی تھا۔
وکیل صفائی: میرے معزّز دوست یہ بتانا بھول گئے کہ سارہ نے بچوں کے مقدمے کی عدالت میں اپنی بد چلنی کو تسلیم کیا تھا۔
میں: اور آپ نے مان لیا۔ یہ بھول گئے کہ سارہ جب تک پہلے شوہر کے گھر میں رہی سخت پردے میں اور ساس کی نگرانی میں۔ بعد میں مجبور ہو کر اس نے ملازمت شروع کر دی تھی مگر اس میں بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر۔ کہ گھر پر بچے، کھانا پکانا، دوسرے کام اور پڑھنا۔ اس نے عدالت میں یہ بات احتجاجاً تسلیم کی تھی، اقراری بیان نہیں دیا تھا۔

عدالت: وکیل صفائی غیر ضروری مداخلت سے اجتناب کریں۔
وکیل صفائی: بہتر ہے۔
میں: اب ہم دوسرے ملزم کی طرف آتے ہیں۔ یہ ایک نوجوان شاعر تھا جو سارہ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ دونوں نے طے کیا کہ انہیں شادی کر لینی چاہیے۔ ایک دو ملاقاتوں کے بعد ان کی شادی ہو گئی۔
وکیل صفائی: میں عدالت کی اجازت سے اس طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ وہ نوجوان شاعر ایک سادہ لوح شخص تھا جس پر سارہ نے ڈورے ڈال کر اپنے جال میں پھنسایا۔
میں: میں بھی عدالت کو یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ نکاح کرتے وقت وہ نوجوان عاقل اور بالغ تھا، اور اس نے کسی دباؤ کے بغیر یہ نکاح دو گواہوں کی موجودی میں برضا و رغبت کیا تھا۔ اگر اس نوجوان کو کو کوئی بھی بہی خواہ سادہ لوح کہتا ہے تو وہ درحقیقت اس کی تنقیص کرتا ہے۔ ساتھ ہی میں اپنے معاشرے کے دہرے اخلاقی معیار کی طرف بھی عدالت کی توجّہ دلانا چاہوں گا۔ ساری دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کو، کسی دوسرے عورت یا مرد کو کسی بھی جائز معاشرتی معاملے کی طرف بلانے کی قانونی اور اخلاقی آزادی ہے خواہ وہ نکاح ہو، کاروبار ہو، انجمن سازی ہو، کھیل ہو۔ برائی جب ہوتی ہے جب اس معاملے میں کوئی غلط بیانی کی جائے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اگر عورت خود کسی مرد کو نکاح کی تجویز دے تو شرعی اعتبار سے جائز ہونے کے باوجود معاشرتی اقدار کے نام نہاد علمبردار اس کو ڈورے ڈالنا کہہ دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ سارہ کے بیان کے مطابق اس نوجوان نےخود اسے شادی کی پیشکش کی تھی۔
عدالت: آگے چلیے۔
میں: سب سے پہلی شکایت یہ کہ اس شوہر ثانی نے سارہ کی سرکاری ملازمت چھڑوا دی۔ دوسری شکایت یہ کہ بیوی کو مالی طور پر اپنا محتاج رکھا۔ تیسری زیادتی بیوی کو تنہائی کا شکار بنایا۔ یہاں تک کہ یہ شخص شام گھر لوٹنے کے بعد بھی سارا وقت دوستوں کے ساتھ مصروف رہتا تھا۔ بیوی کا کام صرف کھانا پکانا تھا۔ اور سب سے بڑی زیادتی جس کی بابت سارہ نے بہت تفصیل سے بتایا ہے کہ جب اس کو دوسرے شوہر کے بچے کی ولادت کا درد شروع ہوا تو اس کا شوہر اپنے علم کے غرور میں (شاید یہ خیال کر کے کہ ابھی ولادت میں بہت وقت ہے) اسے اکیلا چھوڑ کر کہیں نکل گیا۔ مالک مکان عورت اس کی چیخیں سن کر اس کے پاس آئی اور اسے پانچ روپے تھما کر اسپتال چھوڑ آئی۔ کچھ دیر بعد بچہ پیدا ہوا جس کو لپیٹنے کے لیے سارہ کے پاس تولیہ بھی نہیں تھا۔ پانچ منٹ بعد بچہ مر گیا۔ وہ اسپتال میں بچے کی لاش چھوڑ کر گھر پہنچی جہاں کچھ دیر بعد اس کا شوہر اور اس کے دوست بھی پہنچے۔ سارہ نے شوہر کو بچے کی موت کی اطلاع دی۔ یہ خبر سن کر سب لوگ دو منٹ خاموش رہے اور اس کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔ فرائڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اور راں بو کیا کہتا ہے وغیرہ۔ سارہ کہتی ہے اس روز علم میرے لہو میں قہقہے لگا رہا تھا۔ ۔۔۔۔ ایک گھنٹا گفتگو رہی اور خاموشی آنکھیں لٹکائی مجھے دیکھتی رہی۔پھر دوست رخصت ہوئے۔ سارہ تنِ تنہا گھر سے نکل کر اپنی کسی دوست کے پاس گئی اور اس سے تین سو روپے ادھار مانگے۔ تین سو روپے لے کر اسپتال پہنچی، اسپتال کا بل دو سو پچانوے روپے ادا کیا۔ بچے کی لاش کو لاوارث چھوڑ کر اور ڈاکٹر سے یہ کہہ کر کہ چندہ کر کے اسے دفن کر دینا، گھر واپس پہنچ گئی۔ یہ وہ سلوک ہے جو کوئی شخص کسی اجنبی کے ساتھ بھی نہیں کرتا مگر سارہ کے ساتھ ہوا۔ اس دن سارہ کی کایا پلٹ ہوئی اور وہ ایک گھریلو عورت سے آتش بیان شاعرہ بننے کے سفر پر روانہ ہو گئی۔
وکیل صفائی: یہ محض جھوٹ ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ فکری اعتبار سے اس وقت تین بڑے طبقوں میں منقسم ہے۔ ایک طبقہ دینی فکر کا دعویدار ہے۔ یہ طبقہ اپنے مخالفین کو بے دھڑک جھوٹا، بدکردار، سازشی اور ملک دشمن کہنے کا عادی ہے۔ سارہ چونکہ اس کایا پلٹ کے بعد دین سے کسی حد تک منحرف ہو گئی تھی، اور مروّجہ اخلاقی اقدار کو اس نے اپنے پاؤں تلے مسل دیا تھا، اس لیے یہ طبقہ اس کی ہر بات کو جھوٹ قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ ایک دوسرا طبقہ دین کا مخالف ہے، اس کا مضحکہ اڑاتا ہے اور تمام دینی شعائرکی نفی کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سارہ کا وجود ایک نعمت غیر مترقّبہ ہے۔ جبکہ ایک مختصر سا طبقہ وہ بھی ہے جو دین پر قائم رہتے ہوئے ہر شخص کے لیے انصاف کا خواہاں ہے، خواہ کسی کا کردار کیسا بھی کیوں نہ ہو۔
عدالت: سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کیسے کیا جائے۔
میں: میں درخواست کروں گا کہ مجھے اپنی بات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اس نکتے پر ہم بعد میں یقیناً بات کریں گے تاکہ عدالت کو انصاف کرنے میں مدد مل سکے۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: اس دن اسپتال سے گھر لوٹ کر فوری طور پر سارہ نے ایک نظم لکھی۔ اس کے اپنے الفاظ میں؛


میں نے اپنے دودھ کی قسم کھائی شعر میں لکھوں گی ! شاعری میں کروں گی! میں شاعرہ کہلواؤں گی!
اور دودھ باسی ہونے سے پہلے ہی میں نے نظم لکھ لی۔
لیکن تیسری بات جھوٹی تھی۔ مجھے کوئی شاعرہ نہ کہے۔ شائد میں کبھی اپنے بچّے کو کفن دے سکوں۔

اِمرَتا آج چاروں طرف سے شاعرہ شاعرہ کی آوازیں آتی ہیں! لیکن ابھی تک کفن کے پیسے پورے نہیں ہوئے

معزّز عدالت نوٹ کرے۔ اس بچّے کی لاش جسے سارہ کفن نہیں دے سکی، اس کے لیے آسیب بن گئاس نے اس آسیب کے اثر میں نثری نظمیں لکھیں۔ شاعر شوہر کے ساتھ اس کے جو دوست گھر میں آتے سارہ ان کو اپنی نظمیں سناتی اور داد پاتی۔ شوہر بھی خوش خوش سب سے کہتا کہ اب تو میری بیوی بھی شاعرہ بن گئی ہے۔
سارہ نے شائد میٹرک بھی نہیں کیا تھا۔ اس کی مادری زبان بھی اردو نہیں تھی۔ شاعر سے شادی سے پہلے اس کا اٹھنا بیٹھنا بھی پڑھے لکھوں میں نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے غضب کی شاعری کی اور شہرت نے اس کے قدم چومے۔ دلیری اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ شاعری کے میدان میں غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے اس کا لفظی مخزن (ڈکشن) مروّجہ الفاظ سے بہت مختلف تھا۔ وہ الفاظ کو، ایسے الفاظ کو جن کو دوسرے لوگ شاعری میں استعمال کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، بیباکی سے استعمال کرنے لگی۔ گالیاں کھائی ہوئی، مار کھائی ہوئی، فاقے بھگتی ہوئی، طلاق بھگتی ہوئی، نظر انداز کی ہوئی، تینوں بچوں کی جدائی کا شکار، تنہائی کی ماری عورت نے جب شاعری کی تو وہ داد پانے کے لیے نہیں تھی۔ وہ شاعری اس کی روح کی چیخ تھی۔ اس کو خود بھی اس کا احساس نہیں تھا کہ وہ کیا کیا کہے جا رہی ہے۔
اب اس مقدمے کا سب سے مکروہ کردار سامنے آتا ہے۔ بچّے کی موت کو چھ ماہ سے کچھ اوپر ہو گئے۔ اس دوران اس کے شوہر کے ایک دوست نما فتنہ پرور شخص کا بھی اس کے شوہر کے ساتھ اس کے گھر آنا جانا رہا۔ اب پتا نہیں یہ سازش تھی، حسد تھا، انتقام تھا یا محض دل لگی، مگر ایک دن اس دوست نما نے سارہ سے کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ سارہ نے اس کو وہیں دوٹوک انداز میں روک دیا۔ پھر ایک عورت نے جو سارہ کی دوست سمجھی جاتی تھی اس سے اس فتنہ پرور کے بارے میں پوچھا کہ وہ تم کو کیسا لگتا ہے۔ سارہ نے بات کو ایک مذاق سمجھتے ہوئے کہہ دیا کہ اچھا لگتا ہے۔ وہ عورت شائد بھیجی ہی اسی مقصد سے گئی تھی۔ بات شاعر شوہر تک پہنچ گئی۔ وہ اس دوست نما اور کچھ اور لوگوں کو ساتھ لیے گھر آیا اور اس نے سارہ کے ہاتھ میں قرآن دے کر پوچھا کہ کیا تم نے یہ بات کہی ہے۔ سارہ کے اقرار پر اس نے مزید کچھ پوچھے بغیر اس کو تین طلاقوں سے نواز دیا۔
میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شاعر شوہر کا نام قاتلوں میں شمار کیا جائے۔ اس کے اس اقدام کی وجہ سے ہی سارہ کا گھر اجڑا اور اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوئے جن کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیّت کی شکار ہوئی، اور اس نے بار بار خودکشی کی کوششیں کیں۔ اور آخر کار عنفوانِ شباب میں ہی موت نے اسے گلے لگا لیا۔
عدالت: آپ کی درخواست نوٹ کر لی گئی ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کی توجّہ اس جانب مبذول کروانا چاہوں گا کہ کچھ دریدہ دہن لوگوں نے محض سوئے ظن رکھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سارہ اس وقت بدکردار ہو چکی تھی، اس لیے اس کے شاعر شوہر نے طلاق دی۔ حالانکہ بیانات بتاتے ہیں کہ اس کے دوسرے شوہر کو طلاق کے فوراً بعد بھی اپنی نا انصافی کا احساس ہو گیا تھا اور ایک عرصے بعد بھی ان کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی جس میں اس شاعر نے اپنی غلطی کی تلافی کا انتہائی سنگین ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت سے کہنا چاہوں گا کہ یہ سب غلط بیانی ہے۔
میں: میں معزّز عدالت سے درخواست کروں گا کہ اب مجھے عدالت کے اس سوال کا جواب دینے کی اجازت دی جائے کہ سچ اور جھوٹ کی پہچان کیسے ہو؟
عدالت: ضرور۔ اجازت ہے۔
میں: کسی بھی انسان کو کوئی جرم، برائی یا گناہ کرنے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
1-
مقصد/وجہ
2-
مہارت/ہمّت
3-
ماحول
جھوٹ بولنا بھی ان جرائم، برائیوں اور گناہوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی کوئی انسان بات کرنا ہے تو وہ فطری طور پر سچ بولتا ہے، اگر سچ بولنے سے اس کے مقاصد پورے ہوتے ہوں۔ جھوٹ وہ اس وقت بولتا ہے جب اس کے سامنے جھوٹ بولنے کا کوئی مقصد ہو۔ مالی منفعت، سزا سے بچنا، شرمندگی سے بچنا، دشمنی، جھوٹی عزّت پانا اور قائم رکھنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنے والے لو گ بالعموم بزدل کم ہمّت اور ناکام لوگ ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو اپنی عزّت کی پرواہ نہیں ہوتی اور جن کی اپنی نظر میں ان کی عزّت نہیں ہوتی وہ دھڑلّے سے جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ بولنے کے لیے ماحول بھی سازگار ہونا چاہیے۔ جھوٹ ایسا ہو جس پر لوگ یقین کر لیں یعنی جو امکانات اور حالات سے مطابقت رکھتا ہو اور جس کا پول کھلنے کے امکانات کم ہوں۔ اور جس بارے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے سننے والے اس کے بارے میں براہِ راست نہ جانتے ہوں۔
ان عوامل پر غور کر کے فیصلہ کرنے والے بڑی حد تک جھوٹ اور سچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
عدالت: اس کیس میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سارہ شگفتہ کے بارے میں جو باتیں آپ نے کہیں وہ سچ ہیں۔
میں: سارہ شگفتہ ایک دلیر عورت تھی جو اپنے حق کے لیے لڑنا جانتی تھی۔ کم سے کم چار بار اس نے یہ لڑائی جسمانی طور پرلڑی۔ ایک بار جب اس کے باپ کا انتقال ہوا اور وہ بیہوشی سے اٹھ کر دیوار پھاند کر باپ کے جنازے میں شرکت کرنے گئی۔ دوسری بار جب وہ اپنے بچوں کو لینے میانوالی گئی۔ تیسری بار جب تیسرے شوہر کے گھر سے دیوار پھاند کر اسقاط حمل کرانے گئی اور چوتھی بار جب چوتھے شوہر نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ایسے دلیر لوگ جھوٹ بہت کم بولتے ہیں۔ پھر جب اس نے اپنی یادداشتیں لکھنی شروع کی ہیں اس وقت تک وہ خودکشی کی تین چار کوششیں کر چکی تھی۔ گویا زندگی کی اس کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔ جس شخص کے نزدیک زندگی ہی کوئی اہمیت نہ رکھتی ہو وہ جھوٹ کیوں بولے گا۔
پھر جو باتیں بھی سارہ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں ان میں سے کوئی ایسی نہیں جو امرِ محال ہو۔ مارپیٹ، تشدّد، گالی گلوچ، حبسِ بیجا، مہر نہ دینا، نان نفقہ کا خرچ نہ دینا، جائداد میں حصّہ نہ دینا۔ سازشیں کرنا، بہتان لگانا یہ سب ہمارے معاشرے کا معمول ہے اور یہی کچھ سارہ نے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ اس لیے ہم یہ کس بنیاد پر سوچ سکتے ہیں کہ سارہ نے جھوٹ بولا ہوگا۔
وکیلِ صفائی: نفرت کی بنیاد پر۔ اسے جن لوگوں سے نفرت تھی ان کے بارے میں اس نے فسانے گھڑے۔
میں: یہاں زیادہ تر بات اس کے شوہروں کے بارے میں ہو رہی ہے۔ اگر اس کو ان لوگوں سے شادی سے پہلے سے نفرت ہوتی تو وہ شادی کرتی ہی کیوں۔ اور شادی کے بعد جو نفرت ہوئی اس کے اسباب یقیناً قوی تھے۔ میں عدالت کی توجّہ اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے دوسرے شوہر پر تشدّد یا بدکلامی کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ اگر اسے نفرت کی بنیاد پر جھوٹ بولنا ہوتا تو اس پر بھی یہ الزام لگنا چاہیے تھا۔
وکیل صفائی: اس عورت کا اپنا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ مختلف افراد کے ساتھ اس کے نامناسب تعلقات تھے۔
میں: محترم دوست، شائد آپ کو اندازہ نہیں کہ اس انداز سے تہمت لگا کر آپ حدِّ قذف کے مستحق ہو رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس اس امر کے چار صالح گواہ ہیں کہ وہ ایک بدکار عورت تھی۔ یا آپ بھی سنی سنائی بات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
عدالت: وکیلِ صفائی آپ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ ایسے سنگین الزامات سے پرہیز کریں جو ثابت نہ کیے جا سکیں۔
وکیلِ صفائی: جی بہتر۔ میں محتاط رہوں گا۔
میں: میں عدالت کی توجّہ اس امر کی طرف بھی دلانا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ مردانہ غرور (شاونزم) کا شکار معاشرہ ہے۔ اس معاشرے میں شعر و ادب پر بھی مردوں کا اجارہ ہے۔ کوئی بھی عورت جو اس میدان میں آنا چاہتی ہے اور اپنے جوہر دکھاتی ہے یہ کورچشم لوگ اس پر تہمتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عورت ان کے پہلو گرم کرے۔ سارہ کا بھی یہی مسئلہ تھا اور آج کی ادیبہ کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ آج بھی فیس بک جیسے میڈیا پر ادب کی دنیا میں قدم رکھنے والی خواتین کو روزانہ بہت سی دوستی کی درخواستیں ملتی ہیں، اور بڑے بڑے ثقہ لوگ موقع ملتے ہی جامے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر بیسیوں ایسی خواتین سے واقف ہوں جو ان حالات کا شکار ہوئی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔
عدالت: آپ اس عدالت میں اس بات کی کوئی گواہ پیش کر سکتے ہیں؟
میں: عدالت بخوبی واقف ہے کہ اگر کوئی عورت اس عدالت میں ایسی گواہی دے گی تو اس سے معاشرہ کیسے پیش آئے گا۔ اس لیے کوئی عورت گواہی کے لیے شاید ہی تیّار ہو۔لیکن آج ہی مجھے ایک شاعرہ نے بتایا کہ سانگھڑ ریڈیو سے ایف ایم چینل پر شاعرات کے انٹرویو پر پروگرام کرنے والا ایک پروڈیوسر جو ایک سرکاری افسر بھی ہے، کیسے شاعرات کا فون نمبر حاصل کرنے کے بعد ان سے نامناسب گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور پروگرام کو عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کو ویڈیو کالز کرتا ہے۔
عدالت: یہ بات انتہائی افسوسناک ہے۔
میں: اس مردانہ حاکمیّت زدہ معاشرے کی اخلاقی اقدار مردوں اور عورتوں اور غریبوں امیروں کے لیے بالکل مختلف ہیں۔ ایک طرف جوش ملیح آبادی جس نے اپنی کتاب میں بے شمار عورتوں کے ساتھ جنسی تعلّقات کی داستانیں لکھی ہیں، منبر پر بیٹھ کر مرثیے پڑھتا ہے۔ عمران خان جس کی غیر قانونی اولاد امریکہ میں سانس لے رہی ہے، اس ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کا رکن اور تیسری بڑی پارٹی کا سربراہ ہے۔ مصطفیٰ زیدی جس کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا آج بھی ایک معزّز شاعر مانا جاتا ہے۔ لیکن سارہ شگفتہ جو چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اس کا ان بیہودگیوں سے کوئی تعلّق نہیں، اس پر لگائے گئے الزامات بلا تحقیق تسلیم کر لیے جاتے ہیں اور صالحین کا ایک ٹولہ ان کی تشہیر صرف اس لیے کرتا ہے کہ وہ ایک عورت تھی۔

وکیل صفائی: اس بات کا بھی تو امکان ہے کہ سارہ نے پہلے شوہر کے تشدد کے بارے میں جھوٹ بولا ہو۔
میں: میں عدالت کی توجّہ اس نکتے کی جانب دلانا چاہوں گا کہ سارہ ایک دلیر عورت تھی۔ جھوٹ وہ بولتا ہے جو لوگوں سے ڈرتا ہو۔ اس لیے سارہ کو جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ عدالت کے سامنے یہ نکتہ بھی لانا چاہوں گا کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں عورت کو ملازمہ، لونڈی ،کنیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور بیوی پر شوہر کا جسمانی تشدد اور شدید بدکلامی بہت عام چیز ہے، اور ہم معاشرے کے معاشی طبقاتی نظام میں جتنا نیچے جاتے ہیں اتنی ہی یہ چیز بڑھتی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جتنا شہر سے دوری بڑھتی ہے اتنا ہی تشدد بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اس لیے سارہ کے اس بیان میں کوئی ایسی انوکھی ناقابلِ یقین بات نہیں جس کے لیے اسے جھوٹا قرار دیا جا سکے۔
عدالت: آپ کا نکتہ درج کر لیا گیا ہے۔ آگے چلیے۔
میں: آگے چلنے سے پہلے میں عدالت کی اجازت سے ذاتی مشاہدے کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا، جس سے مجھے اس مقدمے کے آئندہ نکات کو بیان کرنے میں سہولت ہو جائے گی۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: یہ 35 سال پہلے کی بات ہو گی کراچی میں میرا گھر تھا۔ ایک دن کہیں سے ایک کتے کا بچہ دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ والدہ نے اسے پینے کے لیے دودھ دیا، اور کچھ کھانے کو۔ وہ پلّا اس دن کے بعد سے وہیں رہنے لگا۔ ادھر ادھر جاتا بھی تو لوٹ آتا۔ میں اپنی کار گھر کے باہر چبوترے پر کھڑا کرتا تھا۔ جب کار کھڑی ہوتی تو وہ کار کے نیچے گھس کر بیٹھتا تھا۔ اور اس کے اسٹارٹ ہوتے ہی نیچے سے نکل کر ایک طرف ہوجاتا تھا۔ ایک سال کے عرصے میں وہ بڑا ہو گیا۔ گھر والوں کو بھی اس سے بہت لگاؤ ہو گیا تھا اور اسے بھی سب گھر والوں سے۔
ایک دن گلی میں بچے کرکٹ کھیل رہے تھےکہ انکی گیند میری کار کے نیچے چلی گئی۔ وہ کار کے نیچے سے گیند نکالنے پہنچے تو وہاں وہ کتا بیٹھا تھا۔ بچوں نے کتے کو ہٹانے کے لیے اس کو پتھر مارے تو وہ بھونکنے لگا۔ پتھر اسے لگتا تو وہ کار کے نیچے سے نکل کر بھونکتا اور پھر نیچے چلا جاتا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلا جب تک میرے گھر میں سے کسی نے نکل کر اسے ایک طرف کرکے گیند بچوں کے حوالے نہیں کر دی۔ مگر اب وہ بچوں کو دیکھ کر بھونکا کرتا تھا۔بچے بھی اس کو پتھر مارتے تھے۔ اس کے نتیجے میں وہ کٹکھنا ہو گیا۔ کاٹا تو کسی کو نہیں مگر لوگوں کو دیکھ کر ان کے پیچھے جاتا تھا۔ چلتی ہوئی گلی تھی، لوگوں کو پریشانی ہوتی تھی۔ ایک بار دو آدمی پستول لے کر آ گئے اس کو مارنے۔ میں نے ان کو روکا اور کہا کہ گولی گاڑی کو لگی تو نقصان ہوگا جو ان کو بھرنا پڑے گا۔ وہ چلے گئے۔
دو تین دن بعد آٹھ دن لوگ بڑے بڑے ڈنڈے لے کر وہاں پہنچ گئے اور کہا کہ اس کتے کو یا تو آپ لوگ کہیں لے جائیں یا ہم اس کو مار دیں گے۔ انہوں نے ڈنڈوں کی مدد سے اسے کار کے نیچے سے نکالا اور پھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔ مرتے وقت اس کی آنکھوں میں سوال تھا کہ میرا قصور کیا تھا؟
وکیل صفائی: کیا آپ سارہ شگفتہ کو اس کتے سے تشبیہ دے رہے ہیں؟
میں: عدالت سے استدعا ہے کہ وکیلِ صفائی کو ہدایت کی جائے کہ اسی وقت بات کریں جب عدالت ان کو معاونت کے لیے طلب کرے۔
عدالت: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سارہ ایک پاک دامن عورت تھی؟
میں: ممکن ہے کہ اپنی بیماری، ذہنی کرب کی شدّت ، معاشرے کے برتاؤ اور تنہائی سے ہار کر اس نے زندگی کے آخری سالوں میں کسی کو اپنا سہارا بنا لیا ہو۔ مگر چونکہ وہ عملاً بے دین ہو چکی تھی اس لیے کسی کے ساتھ تعلّق قائم کر لینے میں اس کی نظر میں کوئی برائی نہ رہ گئی ہو گی۔ اگر وہ پاک دامن نہ بھی ہو تو بھی بری عورت ہرگز نہیں تھی۔ دنیا میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔ جو لوگ آپ کے مذہب میں یقین نہ رکھتے ہوں آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اپنی مذہبی اقدار کا ان پر اطلاق کریں۔
عدالت: ٹھیک ہے۔ عدالت نے آپ کا نقطہء نظر سن لیا۔ اب آگے چلیے۔
میں: سارہ کو شاعر شوہر سے کھڑے کھڑے طلاق مل گئی۔ اس کے بعد فتنہ پرور نے ہزار کوششوں سے اور منّت خوشامد سے سارہ کو اس سے نکاح کرنے پر راضی کر لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ چونکہ سارہ کو طلاق اس کی وجہ سے ہوئی ہے اس لیے اس کے صدمے کی تلافی کرنا اس کا فرض ہے۔ لیکن نکاح کے چند دن کے اندر ہی اس نے سارہ پر بے پناہ جسمانی تشدّد شروع کر دیا۔ اس کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے میں اس فتنہ پرور کے گھر کی چھ سات عورتوں نے بھی بھرپور حصّہ لیا۔ اس شخص کو سارہ کے مقابلے میں ادبی حیثیت سے شدید احساسِ کمتری تھا۔ جبھی وہ اس سے جبرا ً اپنے جوتے پالش کرواتا تھا اور پھر طنزیہ انداز میں کہتا تھا کہ عظیم شاعرہ میرے جوتے پالش کر رہی ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ اس فتنہ پرور کو سارہ کی کوئی بات اس وقت بری لگ گئی تھی جب وہ دوسرے شوہر کے نکاح میں تھی اور اس نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت سارہ کی ازدواجی زندگی تباہ کی، اور پھر اس سے نکاح کر کے اس کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کر کے اپنا بدلہ لیا۔ سارہ کا طلاق کا مطالبہ اس شخص نے ٹھکرا دیا اور اسے گھر میں محبوس کر دیا۔ سارہ کو اس سے انتہائی شدید نفرت ہو گئی، جس کے نتیجے میں اس نے اس شخص کے بچے کی ماں بننے سے انکار کر دیا اور اپنا حمل ضائع کروانے کے لیے وہ دیوار پھاند کر کسی ڈاکٹر کے کلینک گئی۔ آخر کار کسی نہ طرح سے وہ اس ظالم سے طلاق لینے میں تو کامیاب ہو گئی مگر اس کی شخصیت مسمار ہو گئی۔ وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئی۔ اس حد تک کہ اس کا اسپتال میں بجلی کے جھٹکوں سے علاج کیا جانے لگا۔
وہ پاگل نہیں تھی مگر اس کو پاگل خانے میں داخل کیا گیا جہاں اسے پاگلوں کے درمیان رہنا پڑا۔ اس کی جسمانی حالت بے انتہا خراب ہو چکی تھی۔ نیند بالکل غائب۔ دیوانوں کی طرح لکھنا۔ کاغذ پر کاغذ سیاہ کرنا۔ خودکشی کی چار کوششیں کرنا۔ ان سب چیزوں کی وجہ اس پر ہونے والا جسمانی اور ذہنی تشدّد تھا۔
میں معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ سارہ کے تیسرے شوہر کا نام آہستہ قتل کے بڑے ملزم کے طور پر درج کیا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔
عدالت: آپ کی بات استغاثہ کے مطالبات میں شامل کر لی گئی ہے۔
میں: اب میں اس جرم کے آخری نمایاں مجرم کو سامنے لانا چاہوں گا۔ سارہ کی ماں کو کسی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اس کے لیے زندگی سکون سے گزارنے کا واحد راستہ شادی ہے۔ اس بیچاری ماں نے مرتے مرتے سارہ کی زندگی سنوارنے کی ایک کوشش اور کی۔ اس نے منتوں سماجتوں سے سارہ کو راضی کیا اور پھر اس کا نکاح ایک اور اوباش سے کر دیا جسے سارہ نے جاگیردار کے نام سے متعارف کروایا۔ یہ شخص بھی دوسروں سے مختلف نہیں تھا۔ جسمانی اور ذہنی تشدّد اس کا بھی وطیرہ تھا۔ اس کو بھی سارہ کی شاعری سے چڑ تھی اور یہ بھی اسے اس حوالے سے ایذا پہنچاتا تھا۔ سارہ نے اس سے بمشکل طلاق حاصل کی، مگر اس شخص نے طلاق کے بعد سارہ کو دھوکے سے ایک مکان میں بلا کر اس کو چاقو سے قتل کرنے کی کوشش کی، جو ایک پڑوسی کی مداخلت کے سبب ناکام ہو گئی۔ میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شخص کا نام بھی قتل کے ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
عدالت: آپ کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔
میں: یہ بدقسمت سارہ کا آخری شوہر تھا۔ اس کے بعد اس کی ماں بھی نہ رہی اور سارہ اس دنیا میں مکمّل طور پر تنہا رہ گئی۔ ماں کے چالیسویں سے پہلے ہی اس کے بھائیوں نے اسے گھر سے نکال دیا، اور اسے ماں کے مکان میں سے اس کا حصّہ بھی نہیں دیا۔ اس واقعے کے بعد سارہ تقریباً ایک سال تک زندہ رہنے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر معاشرے نے اس کو چین نہیں لینے دیا۔ اور تو اور اس کو آمرانہ حکومت کے خلاف نظمیں لکھنے کی پاداش میں مارشل لائی حکّام نے پکڑکر چالیس دن لاہور کے شاہی قلعے میں محبوس رکھا۔ یہاں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا مجھے علم نہیں مگر بہرحال وہ ان کی معزز مہمان نہیں تھی۔
میں عدالت کے علم میں یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ موت سے آنکھیں چار کرتے وقت بھی سارہ نہ صرف ایک صحتمند ذہن کی مالک تھی، بلکہ اس کو کراچی کے ادبی حلقوں میں ایک ممتاز مقام بھی حاصل تھا۔ ہرچند وہ اپنی بیباک نظموں کے حوالے سے ، جن میں اس نے کسی حد تک برہنہ لفظ استعمال کیے، مشہور ہو چکی تھی، مگر پھر بھی سنجیدہ لوگوں کے دلوں میں اس کا احترام تھا۔ سلیم احمد اسے اپنی بیٹی کہتے تھے، اور ان کی وفات تک سارہ ان کے گھر ان کی محفلوں میں جایا کرتی تھی۔ وہ قمر جمیل جیسے معروف اور محترم شاعر کے حلقے کی فرد تھی، اور سارہ کو قمر جمیل نثری شاعری کا مستقبل سمجھتے تھے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ قمر جمیل اور سلیم احمد کے درمیان ہمیشہ ایک ناخوشگوار سا فاصلہ رہا۔ 1983 میں سلیم احمد کے انتقال کے بعد قمر جمیل نے کوئی ایسی نامناسب بات کہی جو سارہ کو ناگوار گزری۔ وہ اتنی دلیر تھی کہ اس نے اپنے گرو کو بھی نہیں چھوڑا اور ان سے کہہ بیٹھی جمیل بھائ ، نفرت سے بڑا رزق آپ نے نہیں چکھا، اور اسی لذّت نے آپ کے اندر خوف کے گہرے کنویں کھود رکھے ہیں۔
لیکن اسی سارہ کے ساتھ ادبی حلقوں کے چھچھورے لوگوں نے جو اندوہ  ناک سلوک کیا وہ ادبی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔ یہ باتیں کسی حد تک کتابوں میں آ چکی ہیں۔ لیکن کمینگی کی انتہا یہ کہ ایک شخص نے دوسرے سے سارہ کے بارے میں کہا بن جال کی مچھلی ہے۔ لیکن میں تو بہن کہہ چکا۔ اب تم نمٹو۔جس کو بہن کہا اس کے بارے میں ایسی بات کوئی دلّال ہی کہہ سکتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں قدم قدم پر مل جاتے ہیں۔
میری گفتگو تمام ہوئی۔ معزّز عدالت سے درخواست ہے کہ میرے استغاثے کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنائے۔
عدالت: وکیل صفائی کچھ کہنا چاہیں گے۔
وکیلِ صفائی: میں اپنا نقطہء نظر پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ تمام حالات ایک دھند میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس لیے محض ایک پاکستان دشمن اور اسلام دشمن عورت کی چھاپی ہوئی کتاب کی بنیاد پر فیصلے نہ دیے جائیں جس کے جھوٹ سچ کا کوئی اعتبار نہیں۔
میں: میں معزّز عدالت سے احتجاج کرتا ہوں۔ امرتا پریتم ایک انسان دوست خاتون تھیں۔ انہوں نے تقسیم کی خونریزی کے وقت اج آکھاں وارث شاہ نوںجیسی انسانیت دوست نظم لکھی تھی۔ دشمن ملک کا شہری ہونے کا مطلب لازماً دشمن ہونا نہیں۔ان میں بھی کچھ انسان دوست ہوتے ہیں، اور امرتا ان میں سے ایک تھیں۔
عدالت: عدالت آج کی کارروائی ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ فیصلہ تمام ارکان عدالت کے مشورے کے بعد کل سنایا جائے گا۔
———-
دوسرا دن اخلاق کی عدالت کا کمرہ
پیشکار: سارہ شگفتہ کے مقدمے کی کارروائی شروع ہو رہی ہے۔
میں اندر کمرے میں جاتا ہوں۔ کچھ اور لوگ بھی آ رہے ہیں۔
عدالت: کل آصف اکبر نے اس عدالت میں استغاثہ پیش کیا تھا کہ سارہ شگفتہ نامی شاعرہ کی خودکشی یا حادثاتی موت کو آہستہ قتل قرار دیا جائے۔ عدالت کے معزّز ارکان نے استغاثہ کے دلائل سننے اور وکیل صفائی کا نقطہء نظر جاننے کے بعد بہت تفصیلی بحث کے بعد ایک فیصلہ رقم کیا ہے، جس میں کچھ ارکان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں۔ فیصلہ یہ ہے۔
استغاثہ کی شاعرہ سارہ شگفتہ کی موت کو قتل کا روپ دینے کی کوشش زیادہ کامیاب نہیں۔ عدالت سمجھتی ہے کہ اس بدنصیب عورت پر شدید تشدّد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ تکلیف دہ ذہنی عارضے کا شکار ہوئی۔ تاہم یہ واقعات اس ملک اور دوسرے بے شمار ملکوں کی عورتوں کے ساتھ بہت تواتر کے ساتھ پیش آتے ہیں مگر وہ بہت کم خودکشی یا موت پر منتج ہوتے ہیں، اس لیے اس موت کو قتل قرار دینا مناسب نہیں۔ عدالت کے کچھ ارکان استغاثہ سے متفق بھی ہیں مگر اکثریت سمجھتی ہے کہ سارہ کی صورتحال میں زیادہ دخل اس کی اپنی فطرت کا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت ان لوگوں کی شدید مذمّت کرتی ہے جنہوں نے سارہ کے ساتھ جسمانی تشدّد کیا یا اسے ذہنی عذاب میں مبتلا کیا، یا اس کے ساتھ مالی نا انصافی کی۔ اسی طرح اس کو بدنام کرنے کے شوقین لوگوں کی بھی یہ عدالت مذمّت کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت مدّعی کو اجازت دیتی ہے کہ وہ چاہے تو یہ مقدمہ ادبی تاریخ کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔

ادبی تاریخ کی عدالت میں

عدالت کا پیشکار: ادبی تاریخ کی عدالت میں مسماۃ سارہ شگفتہ کے قتل کا مدّعی آصف اکبر پیش ہو۔

میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچ کرمنصفین کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں۔کمرہ عدالت میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ کچھ وکلاء، کچھ عام شہری ، کچھ شاعر، اور کچھ معروف دانشور۔ حاضرین میں سلیم احمد اور قمر جمیل نمایاں ہیں۔ پیچھے کی نشستوں پر نمایاں نہ ہونے کے خواہشمند خاموش مبصرین میں مرزا غالب، میر تقی میر، سر سید احمد خان ، اکبر الٰہ آبادی اور فیض احمد فیض بھی نظر آ رہے ہیں۔
منصفین کی تعداد بیس کے قریب ہے، جو سب اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں۔
(
عدالت کی کارروائی شروع ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔)
ایک جج: مدّعی آصف اکبر آپ نے درخواست دی تھی کہ اس مقدمہ قتل میں ایک بڑی بنچ تشکیل دی جائے جس میں اردو کی ادبی تاریخ سے متعلق تمام نمایاںشخصیات کو نمائندگی دی جائے۔ آپ کی درخواست قبول کرتے ہوئےایک بڑی بنچ تشکیل دے دی گئی ہے۔ آپ کو اس بنچ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔
میں: عالیجاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے بنچ کے فاضل اراکین کی فہرست فراہم کی جائے۔
(
عدالت کی جانب سے مجھے فہرست فراہم کی جاتی ہے۔)

سارہ شگفتہ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی
اردو کی ادبی تاریخ کی عدالت کے معزز فاضل منصفین کی فہرست

محمد حسین آزاد
الطاف حسین حالی
شبلی نعمانی
حکیم عبد الحئی
عبد السلام ندوی
محمد یحییٰ تنہا
آغا محمد باقر
عبد القادر سروری
شمس اللہ قادری
رام بابو سکسینہ
مرزا محمد عسکری
احسن مارہروی
حامد حسن قادری
مخمور اکبر آبادی
عبد القیوم
احتشام حسین
کلیم الدین احمد
مولوی عبد الحق
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی
ڈاکٹر انور سدید
(
عدالت کا سربراہ مولانا محمد حسین آزاد کو مقرّر کیا گیا ہے اور وہی عدالت کی ترجمانی بھی کریں گے۔)
—————
میں: مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے اس مقدمے کو اہمیت دیتے ہوئے ایک انتہائی جامع بنچ تشکیل دیا ہے، جس کے تمام ارکان انتہائی لائق اور فاضل ہیں۔ مجھ کو اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے۔ اور میں اس مقدمے میں اس عدالت کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کو پوری دلجمعی سے قبول کروں گا۔ جیسا کہ اس معزز عدالت کے علم میں ہے کہ یہ مقدمہ اس سے پہلے قانون کی عدالت میں اور پھر قانون کی عدالت کی اجازت سے اخلاق کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اخلاق کی عدالت نے اپنے فیصلے میں اجازت دی ہے کہ اگر مدعی چاہے تو اس مقدمے کو ادبی تاریخ کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔
عدالت: آپ نے مقدمہ داخل کرتے ہوئے دونوں عدالتوں کی کارروائی کی تفصیل بھی فراہم کی ہے، اور عدالت نے آپ کے مقدمے کو صرف اس لیے سماعت کے لیے منظور کیا ہے کہ اخلاق کی عدالت نے نہ صرف آپ کو اس مقدمے کو اس عدالت میں لانے کی اجازت دی ہے بلکہ بین السطور اخلاق کی عدالت کی یہ خواہش بھی جھلک رہی ہے اس مقدمے کا فیصلہ تاریخ کی عدالت میں ہی ہو۔

واضح رہے کہ یہ عدالت تاریخ کی عدالت ہے اور سب سے زیادہ مستند فیصلہ ہمیشہ تاریخ کی عدالت کا ہی مانا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تمام عدالتوں کی مانند یہ بالا ترین عدالت بھی اپنا فیصلہ دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر ہی کرتی ہے اور اگر شہادتیں مبہم یا کاذب ہوں تو فیصلے بھی حق سے ہٹ سکتے ہیں۔ اسی لیے عدالتیں فریقین کو وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ درست شہادتیں فراہم کی جا سکیں۔ اور اسی لیے عدالتیں معاونین اور ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں۔

جہاں تک آپ کے مقدمے کا تعلق ہے عدالت اس بات کو واضح کر دینا چاہتی ہے کہ اسے صرف حق اور ناحق کا فیصلہ سنانے کا اختیار ہے کسی کو سزا دینا اس عدالت کے اختیار سے باہر ہے۔

اب آپ کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کریں۔

میں: میں معزز عدالت کے سامنے مقدمے کی تفصیلات کو دہرانے سے گریز کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ شاید بالخصوص ، اور انسانی معاشرے بالعموم اپنے اندر ہونے والے واقعات کو حالات کی دھول کے دھندلکے پر عقائد کی روشنی ڈال کر دیکھتے ہیں۔ یہ دھول بیٹھنے میں کچھ وقت لیتی ہے۔ شاید سو سال، شاید ہزار سال۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد لوگ تو فنا ہو چکے ہوتے ہیں مگر واقعات زندہ رہتے ہیں اور تاریخ نویس پھر سچ اور جھوٹ کو کھنگالتا ہے۔ اسی سبب سے یہ عدالت کسی معاصر عدالت کی نسبت سارہ شگفتہ کے بارے میں بہتر اور غیر جانبدار فیصلہ دے سکتی ہے۔ اس لیے اس عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ تحریری شہادتوں اور بیانات کی روشنی میں سارہ کی موت کو معاشرے کے ہاتھوں ایک جیتے جاگتے انسان کا قتل قرار دیا جائے تاکہ اس مظلوم عورت کو کم از کم رتاریخ میں تو انصاف مل سکے اور تاریخ کے صفحات آنے والے دور کے انسانوں کو بتا سکیں کہ جس زمانے میں مملکت خداداد کے شہری دین ، جمہوریت اور پانچ ہزار سالہ تہذیب کے نام لیوا تھے ، اس دور کے باشعور شاعر اور ادیب ایک بیکس عورت کے ساتھ کیسا سلوک کرتےتھے۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت کی اجازت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زمانہء قبل از تاریخ سے آج تک ہر دور میں بے شمار انسان قتل ہوتے رہے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ شامل نہیں جو مدعی کی موکلہ کی طرح خودکشی کر کے جان دے دیتے ہیں یا گھٹ گھٹ کر مرجاتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں اتنی وسعت نہیں کہ ہر ہر فرد کے قتل کا مقدمہ سن کر اس کا فیصلہ ان میں شامل کیا جائے۔ ان صفحات میں صرف ان لوگوں کو جگہ مل سکتی ہے جو انسانوں پرنمایاں انداز میں، برے یا بھلے طور پر اثر انداز ہوئے ہوں۔ میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ چونکہ سارہ شگفتہ پاکستان کی ان کڑوڑوں عورتوں میں سے ایک تھی جن کا تاریخ میں کوئی مقام نہیں ہے، اس لیے اس مقدمے کو خارج کیا جائے اور دوسری عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا جائے۔
میں: میں عدالت سے درخواست گزار ہوں کہ مجھے یہ واضح کرنے کی اجازت دی جائے کہ سارہ شگفتہ کا تاریخ میں ایک منفرد مقام ہے۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ سارہ شگفتہ نہ تو کوئی سیاسی شخصیت تھی نہ اس کے پاس کوئی علمی مقام تھا۔ اس نے تو شائد میٹرک بھی پاس نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ایدھی کی طرح کوئی فلاحئ کام کیے نہ اس نے ملا فضل اللہ کی طرح قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور نہ اس نے ممتاز قادری کی طرح کسی گورنر کو مارا۔ عدالت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ تیسرے درجے کے شاعروں کو کسی تاریخ میں کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔
میں: وکیل صفائی کا اعتراض بودا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ یہ جان لیں کہ تاریخ نے حکمرانوں کے بعد جن لوگوں کے نام سب سے زیادہ محفوظ رکھے ہیں وہ علماء، شاعر اور ادیب ہی ہیں۔ پھر اب تاریخ کے میدان میں بہت سی نئی جہتیں شامل ہو چکی ہیں اور ادب کی تاریخ ان میں ایک نہایت اہم جہت ہے۔ جب بھی بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ لکھی جائے تو اس میں خواتین شاعروں اور ادیبوں کو ایک اہم حصہ دیا جائے گا اور جہاں بیسویں صدی کی اہم ادب لکھنے والی خواتین کی بات ہو گی وہاں سارہ شگفتہ کا نام لازماً آئے گا۔
عدالت: وکیل صفائی کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔ کارروائی جاری رہے۔
وکیل صفائی: میں سارہ شگفتہ کے مشکوک اخلاقی کردار کی طرف بھی عدالت کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔متعدد افراد کے مضامین اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نامناسب لباس پہنتی تھی، سگریٹ پیتی تھی، گالیاں دیتی تھی، اپنی نظموں میں ننگے الفاظ استعمال کرتی تھی، مختلف مردوں کے ساتھ اس کی دوستی تھی اور آخری عمر میں وہ احمد سلیم نامی ایک امیر آدمی کے ساتھ اس کی داشتہ کے طور پر رہ رہی تھی۔
میں: میں عدالت کی توجہ اس نکتے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا کہ قتل یا تشدد کے کسی مقدمے میں متاثرہ فریق کے کردار پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ایک طوائف بھی اگر قتل کر دی جائے، جو اپنی مرضی سے ہی کیوں نہ بدن فروش بنی ہو، اس کے قاتل کو بھی وہی سزا ملتی ہے جو پوپ کے قاتل کو ملے گی۔
وکیل صفائی: ایک عام آدمی اگر بدکردار ہو تو اسے معاشرے کی جبری غلاظت سمجھ کر برداشت کیا جاتا ہے مگر ادیب اور شاعر تو بزعمِ خود معاشرے کی نفاست کا علم اٹھائے پھرتے ہیں، ان کو تو باکردار ہونا ہی چاہیے۔ صفائی کرنے والا اگر خود گندگی پھیلانے لگے تو پھر کوئی جگہ کیسے صاف رہ سکتی ہے۔
میں: ادیب ہوں یا دانشور، طبیب ہوں یا منصف، سائنسداں ہوں یا سیاستداں، تاریخ ان کے کارناموں پر نظر رکھتی ہے اور ان کی ذاتی زندگی پر بالعموم پردے ڈالے رکھتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پرانے زمانے میں بھی اور آج بھی شاعر شراب سے شغل رکھتے تھے اور ہیں۔ جگر مراد آبادی جیسے محترم شاعر دن رات شراب کے نشے میں ڈوبے رہتے تھے۔ اسی باعث ان کو اپنی بیوی کو طلاق دینی پڑی۔ پھر جب انہوں نے توبہ کی تو معزز ٹھہرے۔ کون نہیں جانتا کہ مشرق اور مغرب کے بہت سے شاعر اور ادیب بدکردار تھے۔ فراق گورکھپوری اور جوش ملیح آبادی کو ان کی تمام تر بدکرداریوں کے باوجود اگر نصابی کتب میں جگہ مل سکتی ہے تو کیا سارہ شگفتہ کو صرف اس لیے مصلوب کیا جائے گا کہ وہ ایک عورت تھی۔
اس بات کو فراموش نہ کیا جائے کہ مقتولہ /مظلوم عورت شروع میں ایک انتہائی پاکیزہ کردار کی عورت تھی۔ وہ شاعر سے شادی ہونے کے بعد بھی نماز کی پابندی کرتی تھی اور جب گھر میں اس کے شوہر کے دوست جمع ہوتے تھے تو وہ ایک الگ کمرے میں اکیلے بیٹھی رہتی تھی۔ اس تنہا باکردار عورت کو محفلوں تک لانے والا اور بیباک بنانے والا یہ معاشرہ ہی تھا، جس نے اس کو پے در پے صدمے دیے۔
عدالت: وکیل صفائی کا نکتہ مسترد کیا جاتا ہے۔ عدالت کو مرنے والی کے کردار سے کوئی غرض نہیں ہے۔ کارروائی جاری رہے۔

میں: پہلے میں عدالت کے سامنے تین معزز دانشوروں کے وہ تبصرے پیش کرنا چاہوں گا جو انہوں نے سارہ کے بارے میں لکھے تھے۔
سب سے پہلے مبارک احمد، معروف ادیب کہتے ہیں؛
پاکستان میں شاعرات شاعری کے میدان میں شعری معیار و مقدار کے اعتبار سے شاعروں سے کہیں آگے نکل گئی ہیں، جس کی مِثال دنیا کے کسی اور ملک میں کسی بھی عہد کے حوالے سے نہیں ملے گی۔ اِن شاعرات میں جو جدید تر شاعری سے متعلق ہیں، سارا شگفتہ ، عذرا عباس ، کشور ناہید، نسرین انجم بھٹی، انوپا ، تنویر انجم ، شائستہ حبیب زیادہ نُمایاں ہیں لیکن سارا شگفتہ اِن سب میں سرِفہرست ہے۔ بطور سُپر پوئٹس اور کوئین آف پوئٹکس وہ معجزہ سے کم نہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ زیرِنظر مجموعہ کلام کُل نہیں بلکہ کُل کا ایک جزو ہے اور جیسا کہ میرے عِلم میں ہے ، جُوں جُوں کلام ترتیب پاتا گیا ، سارا شگفتہ کے مزید شعری مجموعے اشاعت پذیر ہوں گے اور میری بیان کردہ رائے کی کُھلی تائید کرتے نظر آئیں گے کہ اِس ارفع سطح کی شاعری مغرب میں بھی نہیں ہو رہی۔ یہ شاعری ہر چند کہ بیشتر موجودہ جدید تر شعری روایت کی صورت مربوط نہیں ، لیکن اثر انگیزی میں اپنا جواب نہیں رکھتی، اور اعلٰی سطح کی مربوط شاعری کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے، اور یہ بھی کہ جدید تر شاعری نے غالب کے پوئٹک بَیریئر کو کراس کرتے ہوئے نئی شعری روایت کو جنم دیا ہے، جو اِس صدی کا قابلِ قدر کارنامہ ہے اور سارا شگفتہ اِس کی بہترین مثال۔
(
مبارک احمد، یکم فروری 1985ء )
دوسری شہادت احمد ہمیش کی ہے جو اردو ادب کا ایک مستند نام تھے۔ وہ کہتے ہیں
برصغیر میں سارا شگفتہ کی شاعری کی غیر معمولی شکتی سے کم و بیش لوگ باخبر ہوچکے ہیں۔ مگر مسئلہ ابھی شعری و ادبی تاریخ میں اُس کے مقام کے دیانت دارانہ تعین کا ہے۔ جب کہ وہ جیتے جی ایسی بحثوں سے سخت بیزار تھی، جو شاعری کو رُجحان سازی اور عصریت کے نارم (NORM) سے جبرا وابستہ رکھنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ اُسے ایسے نقادوں سے شدید نفرت تھی، جو شعری تنقید خاص کر اُردو کی شعری تنقید میں پیٹنٹ مغربی حوالوں سے باز نہیں آتے ، اور اپنی زبان کے شاعروں کی تخلیقی اَہمیتوں کو دانستہ یا غیر دانستہ گرانے یا دریافت کی دَرد سَری سے بچنے کے لئے دھوکا دینے والی تن آسانی میں اُن کے نام ایک ہی سطر میں بریکٹ کر دیتے ہیں۔ جب کہ سارا شگفتہ کے نام اور اُس کی شاعری کو دُوسرے ہم عصروں اور اُن کی شعری و ادبی کار روائیوں سے بریکٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو ضرور ہے کہ اُس نے اکثر نظمیں نثری نظم کی فارم میں لکھیں مگر اُس کی نثری شاعری گذشتہ تین دہائیوں سے اب تک کی نثری شاعری سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اُس کی ووکیبلری کی ساخت بےمِثل ہے۔ اگر ہم اُس کے شعری تھیم کا احاطہ کریں تو اُس کی آنکھیں ایک کَلیدی عرصہ، انتہائی زندگی اور انتہائی موت پر مُحیط ہیں۔ کم از کم بر صغیر میں سارا شگفتہ کے سِوا کوئی ایسی عورت نظر نہیں آتی، جس نے شعروادب کے میڈیم سے اِس انتہا پر سَچ بلکہ بَرہنہ سچ بولا ہو۔۔۔۔کہ اس سے اُس کی ذاتی دیو مالا بَن گئی ہو۔

(SELF-MYTH)
(
احمد ہمیش — 18، اگست 1984ء )
وکیل صفائی: چلیے اگر یہ مان بھی لیا جائے سارہ شگفتہ ایک بہت اہم شاعرہ تھی تو اس کا اس بات سے کیا تعلق ہے کہ اس کی موت کو قتل قرار دیا جائے۔
میں: محترم آپ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پہلے آپ نے کہا کہ تاریخ کی عدالت میں صرف تاریخی شخصیات کے مقدمات سنے جا سکتے ہیں تو میں اس بات کو واضح کر رہا ہوں کہ سارہ شگفتہ ایک تاریخی شخصیت کی حامل تھی۔
تیسری اہم شہادت محترم قمر جمیل کی ہے جن کی حیثیت سارہ شگفتہ کے گرو کی تھی۔ انہوں نے کہا؛
سارا شگفتہ کی شاعری کی رسائی اُن حقیقتوں تک ہوتی ہے ۔ جہاں تک ہمارے نثری نظم لکھنے والوں کی رسائی کبھی نہیں ہوئی۔ وہ اعلٰی ترین ذہنی اور شعری صلاحیتوں کی مالک ہے، انسانی نفس کے ادراک میں جو قُدرت اُسے حاصل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں۔
(
قمر جمیل یکم فروری 1985ء)
اس کے علاوہ بھی سارہ شگفتہ کے بارے میں کتابیں اور مضامین لکھے گئے، میڈیا پر ڈرامے ہوئے، یادگاری تقریبات ہوئیں۔ امرتا کی کتاب ایک تھی سارہکے علاوہ انور سین رائے نے ذلّتوں کے اسیرکتاب لکھی۔ پھر عذرا عبّاس نے کتاب لکھی۔ کچھ لوگوں نے اسکی مخالفت بھی بھرپور کی۔ اب جس فرد کے بارے میں اتنی کتابیں لکھ دی جائیں اس کی کوئی تاریخی اہمیّت تو ہو گی ہی۔
عدالت: آپ کی پیش کردہ ان شہادتوں سے عدالت مطمئن ہو گئی ہے کہ سارہ شگفتہ کی ایک تاریخی اہمیّت ہے اور اس کا مقدمہ اس عدالت میں سنا جانا چاہیے۔ اب آپ اپنی گفتگو اگلے نکتے پر لائیں۔
میں: میں معزز عدالت کی توجہ اس نکتے کی طرف دلانا چاہوں گا کہ اگر ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ کوئی شخص خود اپنی جان لے لے چاہے وہ دانستہ ہو یا حادثاتی تو پھر اُسے قتل قرار دیا جانا چاہیے۔ جیسے کسی انسان کے پیچھے شکاری کتے چھوٹ دیے جائیں اور وہ شخص گھبرا کر بھاگتے ہوئے سڑک پر آکر کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو اسے قتل ہی کہا جائے گا۔
پس اگر ایک عورت کو متواتر ایسی جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جائیں جن کی وجہ سے اس کی شخصیت ریزہ ریزہ ہو جائے، جس کی وجہ سے اسے اسپتال میں پاگلوں کے وارڈ میں رہنا پڑے اور جس کی وجہ سے بجلی کے جھٹکے دیے جائیں، بے حساب دوائیں کھانی پڑیں اور وہ طرح طرح کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جائے اور ایسے میں خودکشی کی کئی ناکام کوششوں کے بعد آخر کار وہ ٹرین کے نیچے آکرجان دے دے تو اس کو بھی قتل عمد قرار دیا جانا چاہیے۔
میں مقدمے کو مزید طول دیے بغیر اس معزز عدالت سے درخواست کروں گا کہ پیش کردہ شہادتوں اور حقائق کی روشنی میں اپنا فیصلہ سنائے۔
عدالت: وکیل صفائی کو مزید کچھ کہنا ہے؟
وکیل صفائی: جی نہیں
عدالت: مقدمے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ اب بنچ کے ارکان کو فیصلہ کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔ یہ فیصلہ دو گھنٹے بعد سنایا جائے گا۔ فی الوقت عدالت برخواست کی جاتی ہے۔

(
دو گھنٹے مجلس عدالت پھر آراستہ ہوتی ہے۔فیصلہ سننے کے لیےآنے والوں سے عدالت کا کمرہ کھچاکھچ بھر اہوا ہے۔ تمام منصفین اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ہیں۔ عدالت کے ترجمان مولانا محمد حسین آزاد نے بھی اپنی نشست سنبھال لی ہے۔)

عدالت: منصفین نے اس مقدمے کے تمام پہلووں کا انفرادی طور پر بھی راتوں کو جاگ جاگ کر مطالعہ کیا ہے اور اجتماعی طور پر بھی اس پر غور کیا ہے۔ اس غور وخوض کے نتیجے میں عدالت متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ
تاریخ کی نظر میں سارہ شگفتہ کو معاشرے نے قتل کیا ہے۔ اس کی زندگی میں شوہر کے روپ میں آنے والے مردوں نے براہ راست اس پر ستم ڈھائے۔ اور اس کے ساتھ محفلوں میں شریک ہونے والے لوگوں نے بھی اس کی زندگی کو عذاب بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ عدالت ان سب کو قتل کے جرم میں شریک سمجھتی ہے۔
سارہ شگفتہ مظلوم معاشرے کی ایک چیخ تھی جو گلیوں اور چوباروں میں سنی گئی۔ جب کوئی شخص تکلیف کی وجہ سے چلا رہا ہو تو اس پر محفل کے آداب لاگو نہیں کیے جاسکتے۔ سارہ کا رویہ خوداختیاری نہیں تھا، یہ اس کے کرب کی ایک اضطراری عکاسی تھی۔ معاشرے کی اس چیخ نے یقیناً بہت سے لوگوں کی ترجمانی کی ہے اور بہت سے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔ یہ چیخ معاشرے کی عام عورت، اور عام مرد کے گلے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے۔ قتل عام انسان کوبھی ستا ستا کر کیا جاتا ہے، مگر اس کی داستان تاریخ کے صفحات پر رقم نہیں ہوتی۔ سارہ شگفتہ کے روپ میں عام انسان کے ابتلاء کی داستان تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔
عدالت ان لوگوں کی مذمت کرتی ہے جو اس مظلوم عورت کے کردار پر شہرت حاصل کرنے یا چسکے لینے کے لیے کیچڑ اچھالتے ہیں۔ خاص کر وہ لوگ جو خود دیندار بن کر اس کو جہنمی ہونے کی سند دیتے ہیں۔
عدالت برخواست ہوتی ہے۔ کمرہ عدالت میں حاضرین کا رد عمل ملا جلا ہے۔ اکثر لوگ فیصلے سے مطمئن ہیں مگر بعض اس پر نکتہ چینی بھی کر رہے ہیں ۔ فیصلہ کچھ بھی ہو میرا کام مقدمہ پیش کرنا تھا۔ ۔ مجھے اطمینان ہے کہ میں نے اپنا کام کر دیا ہے۔

 

Sara Shagufta (1954-1984) Feminist Modern Urdu Poetess: Her Life and Works سارا شگفتہ کی زندگی اور شاعری

Ae Mayray Sar Sabz Khudaa Sara Shagufta Poem Cropped

Aurat by Sara -001JJAurat by Sara -002JJAurat by Sara -003JJAurat by Sara -004JJ

سارا شگفتہ سنہ 1954 میں پنجاب کے شہر گُجرانوالہ میں ایک مفلس اور ان پڑھ کوچوان   گھرانے میں پیدا ہوئیں۔باپ   چھوڑ  کر  چلا  گیا۔   اُن کی والدہ گجرانوالہ سے بچوں  کو  لے  کراچی آن بسیں۔ کنبے کی غربت کے باعث سارا   صرف   آٹھویں  جماعت  تک  پڑھ  سکیں  تھیں  کہ  سنہ 1968 میں مفلسی کے ہاتھوں مجبور والدہ نے چودہ سالہ سارا کی شادی کر دی۔ سارا کا پہلا خاوند سارا کو شدید گھریلو تشدّد کا نشانہ بناتا تھا۔   اِس  شادی  سے  سارا  کے  تین   بچے   ہوئے  ۔سارا   نے  شوہر  کی      آئے   دن  کی  مار   کے  باوجود   نویں  جماعت  کا  امتحان  دیا  اور  غالباً   میٹرک   بھی  پاس  کر  لیا۔ ایک  دن  سارا   کو   خبر  مِلی   کہ   اُس    کے  والد   چل  بسے  ہیں۔   وُہ  باپ  کی  وفات   پر  آخری  رسوُمات  کے  لیے    جانا  چاہتی   تھی  مگر   جابر  شوہر  نے   انکار  کیا  اور  سارا   کے  اصرار  پر   اُسے  اِس   بےدردی  سے  پائپ  سے  پیٹا  کہ  سارا  بے ہوش  ہو  گئی۔   رات   کو  ہوش  آیا  تو  دیوار  پھلانگ  کر  باپ   کی  میت   دیکھنے  چلی  گئی۔  واپس  آئی  تو  شوہر  نے  پھر  پائپ  سے  پیٹا۔     ایک  رات  کو  گھر  میں  شور  مچا    اور   سارا    کا  شوہر   سارا  کی  بھانجی   کے  بستر   پر  پایا  گیا     اور  سارا  نے  بہ  مشکل   بھانجی  کی  عصمت  بچائی۔  تنگ آ کر سارا نے اُس سے طلاق لے لی  اورسارا  کا  پہلا   شوہر  تینوں  بچوں  کو  اپنے  ساتھ     لے  گیا۔  طلاق  پر  سارا  کو  حق  مہر  بھی  ادا  نہیں  کیا   گیا۔     سارا  نے  عدالت  میں  مقدمہ  دائر  کیا  اور  بچوں  کو  واپس  لینے  میں  کامیاب  ہوئی۔  بعد  ازاں  شوہر     واپس  آیا،  قرآن  پر  ہاتھ  رکھ  کر  قسم  کھائی  کہ  وُہ  بچوں  کو  کچھ  دنوں  کے  لیے  لے   جانے  آیا   ہے  اور  پھر  واپس  چھوڑ  جائے  گا۔  وہ  بچوں  کے  لے  گیا   ۔ جب  بچے   واپس  نہ  آئے  تو   سارا   میانوالی   گئی   اور  سابقہ   شوہر   سے  بچوں  کو  واپس  کرنے  کا  مطالبہ  کیا  ۔  سابقہ    شوہر  نے  اپنے  بھائی  بندوں  سے  مِل  کر    اُس  پر  گولی  چلوا   دی    اور   سارا   نے  ایک   فوجی   افسر   کی  مدد   سے  اپنی   جان  بچائی۔    اُس   کے  بعد  سے  سارا  نے  اپنے  بچوں   کی  شکل  نہ  دیکھی     اور  اپنے  تین  بچوں  سے  جدائی   کی  اذیت تمام  عمر  سہتی  رہی۔

سنہ 1970 کی دہائی میں سارا   نے   کراچی  میں  محکمہ  بہبود  آبادی  اور  خاندانی  منصوبہ بندی    میں  نوکری   کر  لی۔ ایک  نوجوان  شاعر     نے  بھی  اُن  دنوں   اُسی  محکمے  میں  نوکری   شروع  کی   اور   اِس   طرح   سارا  اور  شاعر  کی  ایک  دوسرے  سے  جان  پہچان  شروع  ہوئی۔    اب   سارا   کی رسائی  کراچی کے اردو ادبی حلقوں تک ہو گئی  جن   میں ریڈیو  پروڈیوسر   اور  نثری  نظم    کے  ادبی  گروہ  کے  لوگ  بھی   شامل  تھے۔خاندانی  منصوبہ  بندی   محکمے   میں   نوکری   شروع  کرنے  اور  سارا   سے  مِلنے   سے   پہلے        اُس   نوجوان  شاعر       کی   زندگی    ابتدائے  جوانی    کی   بغاوت     کا  ایک    دوَر  تھا۔   اِس   میں  اُنہوں  نے  اپنے  گھر  کو  خیرباد  کہہ  کر   خانہ  بدوشی  اختیار  کی۔  اُن   دنوں   وُہ   دوستوں   سے   اُدھار  مانگ   کر   گزارا  کرتے  تھے  ۔   شاعر   اور   ادیب   دوستوں   کے   گھروں   میں  محافل   میں  حصہ  لیتے جہاں  مشہور  جدید  شاعر   اور  کراچی  کے   اعلٰی  ترین    دانشور  سلیم  احمد  نے   اُن     کی  رہنمائی  شروع  کی  ۔   وُہ  نوجوان  شاعر     اُن  دنوں   باقاعدگی  سےکراچی  کے          سلطانیہ  ہوٹل   میں  شامیں   گزارتے  تھے۔
    بہر حال سارا نے ادبی محفلوں میں شرکت کرنا اور شاعری میں اپنی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو پروان چڑھانا شروع کیا۔ نوجوان  شاعر  نے  سارا    سے   مِلنے   سے   پہلے   ایک   حاجی   صاحب   کے  ہاتھ   پر   باقاعدہ     بیعت   کر  لی  تھی   اور   تصوّف   کی  طرف   راغب   ہو  چکے  تھے۔   حاجی  صاحب   کے   اصرار   پر   رزق  ِ   حلال   کمانے   کے  مجاہدے   میں   اُنہوں  نے   گیس  کے  سلنڈر   سائیکل   سے  بندھی  ریڑھی   پر  ڈھونے   کی   نوکری  بھی   کی  تھی   اور   پھر  وُہ   خاندانی   منصوبہ  بندی   والی   نوکری   اختیار  کی  تھی۔    سارا   سے   جان  پہچان   کے  بعد   اور  شاید   حاجی   صاحب    کی  طرف   سے   اگلی   آزمائش   یعنی   گھر   بسانے    کے  تقاضے   کی  وجہ   سےنوجوان  شاعر   نے    سارا   کو   شادی   کی  پیش  کش  کی   جو   سارا   نے   قبول  کر  لی۔    شادی  کے  فوراً   بعد  نوجوان  شاعر   نے  سارا  سے  کہا  کہ  چونکہ  اُن   کا   خاندان    ایک   خاص   تہذیب   اور  رکھ  رکھاؤ   کا  قائل   ہے   اِس   لیے   اُنہیں  عورت  کی  نوکری   قابل  ِ  قبول  نہیں  ہو  گی   اور    اِس  لیے  سارا   کو  اپنی   نوکری   چھوڑنا  ہو  گی۔   سو،  سارا  نے اپنے   شوہر   کے  اصرار   پر     نوکری  سے  استعفٰے دے  دیا  اور  ایک  جھونپڑی  میں  شاعر  شوہر  کے  ساتھ  انتہائی   مفلسی  میں  رہنے  لگی۔

سارا   کے  اِس  دوسرے  شوہر   کی دلچسپی شاعری اور اپنے ادبی دنیا کے دوستوں کے ساتھ ادبی بحث مباحثوں میں برقرار   تھی   اور    جنون کی حد تک تھی۔      وُہ سارا کو اور حمل کے دوران سارا کے ہونے والے بچے کی بنیادی ضروریات کو پورا نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ زچگی کے وقت سارا اکیلی تھی اور اُس  کا  نو  زائیدہ   بیٹا    کچھ   منٹ    زندہ  رہنے   اور  اپنی  آنکھیں  کھولنے  کے  بعد  چل  بسا۔   سارا      کو     زچگی   کے  اخراجات  ادا  کرنے   کے لیے کسی سے قرض لینا پڑا۔   بیتے  کی   تدفین    کے  لیے   بھی   پیسے  نہیں  تھے   ۔  سارا   نے   ڈاکٹر   سے  منت   کی   کہ    اِس    بچے    کی   لاش    کو   خیراتی   طور   پر    کہیں   دفنانے   کا   بند  و  بست    کر   دے۔جیسے تیسے گھر پہنچنے پر شاعر  شوہر     اور اُن کے دوستوں کو مُردہ بچے کی خبر سنانے پر منڈلی میں تھوڑی دیر ایک خاموشی طاری ہوئی اور پھر سب  لوگ  ادبی بحث میں یوں مشغول ہو گئے جیسے کچھ ہؤا ہی نہیں۔   اُس  روز   سارا  نے  نثری  نظمیں  لکھ  کر  عورت    کی    مظلومیت     کو   بیان   کرنے   کا  ارادہ  کر  لیا ۔  دیکھتے   ہی   دیکھتے    سارا   شگفتہ   کی  نثری   نظمیں   اردو  کے  سنجیدہ  قاریوں   میں  مقبول  ہونے  لگیں۔   سارا   کی  نظموں   کے  باغی  پن،  مصرعوں  کی  کاٹ   اور   اُن    میں   موجود   عورت   کی  آزادی  کی  کھنک   کی  بہ  دولت    سارا   کو   شہرت  مِلی اور  وُہ  جدید   شاعری  کے  میدان  میں   اپنے   نوجوان  شاعر  شوہر    کو  کہیں  پیچھے  چھوڑ   گئی۔  اِس  کامیابی   میں  سارا   کی  خدا  داد  سمجھ بوجھ،  ذہانت،  سیکھنے  کی  صلاحیت  اور  شعر   کے  لیے  موزوں   طبیعت    کو  بہت  دخل  ہے۔   شاید  یہی   وُہ   دوَر  تھا  جب  سار ا   کی  دوستی اُ   س وقت کی مشہور نسوانی حقوق کی علم بردار اور سندھی شاعرہ عطیہ داؤد سے    اور   عورتوں   کی  آزادی    کی  علم  بردار  جدید  اُردو  شاعرہ   فہمیدہ  ریاض   سے   بھی   اُستوار  ہو  گئی۔   سارا  شگفتہ  کا  تحریر  کیا  پہلا  مصرعہ   تھا
نابینا  کی  جھولی  میں  دو  روشن  آنکھیں  ہوتی  ہیں

سارا  اور  شاعر    شوہر  کے  گھر   آنے  والوں  میں  ایک   اور     اُبھرتے  ہوئے  جدید نثری  نظم  نگار شاعر    بھی  تھے  ۔  ایک  روز  شوہر  کی  عدم  موجودگی  میں  نثری   نظم  نگار    نے  سارا   سے   شادی  کی  پیش  کش  کر  دی  جو  شادی  شدہ  سارا   نے  مسترد  کر  دی۔  سارا   نے  یہ  بات   اپنی  ایک  سہیلی   کو   بتا  دی   اور   پوچھنے  پر  یہ  بھی  کہہ ڈالا   کہ   نثری   نظم  نگار    اُسے  اچھا   تو   لگتا  ہے  مگر   شادی   کے  نظریے   سے  نہیں  ۔    یہ  بات   چھُپ  نہ  سکی،  شاعر   شوہر  نے   سارا   سے   قرآن   پر   ہاتھ  رکھ  اِس  بات  کی تصدیق  کروائی   اور  وہیں   سارا  کو  طلاق  دے  دی۔    نوجوان  شاعر سے طلاق کے بعد ،  عدت   پوری  ہونے  پر  نثری   نظم  نگار    نے   سارا  سے  شادی  کی  پیش  کش  دوبارہ   کی  جو  سارا   نے  قبول   کر  لی۔   مگر   شادی   کے  فوراً   بعد  ہی    گھر  میں  ناچاقی  شروع    ہو  گئی۔   ساس  اور  نند  سارا   کے  رشتے   کو  قبول  کرنے  سے  انکار  کرتی  تھیں۔    نثری   نظم  نگار    کو  بھی   سارا   کی   بڑھتی   مقبولیت  ایک  آنکھ  نہ   بھاتی  تھی   اور  وُہ  شدید  حسد   کا   شکار  تھا۔   وُہ     سارا   کو   بُری   طرح   مارتا  تھا   ،   اپنے  جوتے   پالش  کرواتے  ہوئے   کہتا   عظیم  شاعرہ   میرے   جوتے   چمکا  رہی   ہے،   اپنے    پیروں    سے  سارا  کا  جسم  کُچل  دیتا۔اِس    دوران     سارا   پھر   حاملہ    ہو   گئی۔   اُس   نے  اسقاط  ِ  حمل   کا   فیصلہ   کیا   اور   دیوار  پھلانگ  کر   اسقاط   کے  لئے   چلی  گئی۔

  اِس  تیسرے   شوہر   سے   طلاق   لینے  کی   کوششوں   میں   سارا  کو  کئی  ماہ  لگ  گئے۔  اِس  تیسرے   شوہر   نے  اپنے  غیر  انسانی  رویّے   سے  ایک    دُکھی  عورت  کو  ایک  ذہنی  مریضہ   بنا   ڈالا۔  سارا  کو  کئی   بار   ذہنی   امراض   کے  ہسپتال  میں  داخل  کروایا  گیا       جہاں   اُسے   بجلی   کے  جھٹکے  دیے  جاتے  تھے۔  نفسیاتی  دباؤ   یعنی  ڈیپریشن   کا  علاج  مناسب   دواؤں    اور   سائیکو  تھیراپی    کے  ذریعے      اُس  وقت  کے   پاکستان  میں  ممکن  نہیں  تھا۔  چناچہ   سارا   کو  پاگلوں  کے  ساتھ  رکھا  جاتا  جب  کہ  وُ ہ  نفسیاتی  دباؤ  کی  مریضہ  تھی۔ پاگلوں  کے  وارڈ  میں  رہنے  سے  سارا کے  مرض  میں  شدّت  آ گئی۔    تیسرے  شوہر  سے  طلاق  لینے  کے  بعد  اُس  نے  خودکُشی  کی  پانچ  کوششیں  کیں۔   اِس   عرصے  میں سارا   کے      دوسرے سابقہ    شاعر  شوہر  کو  اپنی  غلطی  کا  احساس  ہو  گیا  تھااور  سارا  اور دوسرے سابقہ  شوہر  کے  درمیان  خط  و  کتابت  بھی  رہی جس  میں  وُہ   سابقہ  شوہر   اپنے  رویّے  پر  پشیمان  تھے۔

اِس   کے    بعدسارا    نے      اپنی  والدہ  کے  کہنے  پر    ایک   جاگیر  دار   سے   شادی  کی۔   وُہ   چوتھا   شوہر   بھی   اذیت  پسند   نکلا   اور   یوں  یہ   چوتھی   شادی   بھی   ناکام  رہی۔  سارا  نے  جاگیردار   سے  طلاق  تو  لے  لی  مگر   وُ ہ  پھر  بھی  سارا  کے  پیچھے   پڑا  رہا۔  جس  ہسپتال   میں  سارا  علاج  کے  لیے   داخل  تھی  وُہ  وہاں  پہنچ  گیا   اور  سارا  کے  کمرے  میں  داخل  ہو  گیا۔ سارا   کو   سیکیورٹی   گارڈز   کے  ذریعے   اپنا  آپ  بچانا  پڑا۔  پھر  اُس  نے  چالاکی  سے   سارا  کو  کسی  عزیزہ   کے  گھر   بُلوایا   اور  وہاں  آکر   چاقو    سے   سارا  کو  لہوُ  لہان  کر  دیا۔سارا   کی  چیخوں   کو  سُن  کر   ہمسائے  نے  آکر       سارا  کو  درندے  سے  بچایا۔   پولیس   نے   رپورٹ   درج    کرنے   سے  انکار  کر  دیا   کہ   گواہ  موجود  نہیں  ہیں۔  اِس  کے  بعد   سے   سارا   کی   ذہنی    بیماری    شدید   ہوتی   گئی   اور   اُسے    شدید    ڈیپریشن   کے  دورے  پڑنے  لگے    جن  کے  زیر ِ  اثر   سارا  نے  متعدد  بار    اِس   زندگی  کو  خیرباد  کہنا  چاہا   جو  کہ   ڈیپریشن  کے  مرض   میں  عام    طور  پر   ہوتا  ہے۔  صحیح  تشخیص   اور   مناسب   دواؤں  کے  بغیر   اکثر   نفسیاتی  دباؤ   کے  مریض   خود  کشی   کر  لیتے  ہیں۔     اِسی   دوران   سارا  کی  والدہ  کا  انتقال  ہو  گیا   اور  اُس  کے  بھائیوں  نے  سارا  کو  گھر  سے  نکال   دیا۔

  زندگی  کے  آخیر ی  دوَر  میں  سارا  کو   ایک  اچھا    مرد     دوست   مِل  گیا  جس  نے  اُسے  مالی  سہارا  بھی  دیا  اور  رہنے  کو  ایک  مکان   بھی۔ کراچی کے ادبی حلقوں میں یہ ایک کھُلا راز ہے کہ سارا کےپہلے،  تیسرے  اور  چوتھے   شوہروں نے اُسے مسلسل اذیت اور گھریلو تشدّد کا نشانہ بنایا۔اِس   بہیمانہ  سُلوک   کی  وجہ  سے    سار ا   شدید   نفسیاتی  دباؤ   کا   شکار   ہو  گئی۔   رہی  سہی  کسر   اُس   وقت   پوری  ہوئی    جب   اُس   کی   بےباک   نظموں    اور   اُن  میں  استعمال   کیے   گئے    الفاظ اور   سارا   کی    آمرانہ   حکومت   کے   خلاف   لکھی  گئی   نظموں      کی  خبر     جنرل ضیا ء کے مارشل لاء کے دور  کی   فوجی   آمر  حکومت   کے  جاسوس   اداروں   تک  پہنچ  گئی۔   یہ  وُہ  دوَر  تھا   جب  پاکستان   میں  بحالی ِ  جمہوریت   کی  تحریک   چل  رہی  تھی  اور  سندھ   میں  فوجی  ہیلی  کوپٹروں   سے  سندھی  عوام   کو  قتل  کیا  جا  رہا  تھا۔   سیاسی   قیدیوں   کو   اذیتیں   دی  جا  رہی   تھیں۔   سارا کو گرفتار کیا گیا اور لاہور قلعے کے تہہ خانوں میں بنائے گئے بدنام ترین اذیت خانے میں چالیس دنوں تک درندگی اور بہیمانہ اذیت کا نشانہ بنایا گیا جس کی شنوائی آج تک نہیں ہوئی مگر شاید روز ِ حشر ضرور ہو گی۔سارا   شگفتہ   اِس    درندگی   کے  نتیجے   میں   شدید   نفسیاتی  دباؤ   میں  گھِر  گئی۔ زندگی کے 29 سالوں میں صدیوں کی اذیت برداشت کرنے والی اُبھرتی ہوئی نسوانی حقوق کی جدید شاعرہ سارا شگفتہ نے سنہ 1984 میں ٹرین کی پٹڑی پر لیٹ کر اپنی جان قربان کر دی۔

اپنی خودکشی سے پہلے لکھے گئے ایک خط بنام عطیہ داؤد  میں سارا لکھتی ہیں

عطیہ داؤد       (سندھی شاعرہکے نام     سار ا شگفتہ کا خط
—-(
اصل متن میں سے کچھ کتر بیونت کے بعد)

عطیہ ۔ ۔ ۔ میَں زندگی کو اپنے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر دیتی رہی

پیاری دوست تمہیں کیا دوں۔ ۔ ۔
دیکھو ۔ ۔ ۔ میرے اسباب میں نہ روح ہے نہ کوئی بدن
میں آج اذیت میں ہوں ۔ ۔ ۔ وہ اذیت جو کنواریوں کا لازم ہے
وہ اذیت جو کہ سانپ چال بن کر میرے بدن پر رہ جائے گی ۔ ۔ ۔ وقت پہ رہ جائے گی ۔ ۔ ۔

تمہارے دل میں ایک ٹھٹھری ہوئی اور گرد آلودہ سانس کی طرح ۔ ۔ ۔

آؤ اپنی اپنی چتا کے گیت لکھیں اور آگ کو گانے دیں اپنی پوری خاموشی کے ساتھ
میں کیا ہو گئی ہوں۔ ۔ ۔
آؤ اپنے اپنے انگاروں کے بجھنے تک تو جئیں
لیکن لگتا ہے —- زندگی ہمارے کھلونے کبھی نہ توڑ سکے گی
البتہ یہ کھلونے ہمیں ضرور توڑ چکے ہیں
یہ ٹوٹے کھلونے عطیہ آدھے میرے بچوں کو اور آدھے سعید کو دے دیں
آنے والے کل میں میَں بھی بک شیلف میں تمہیں ملوں گی اور تم بھی بک شیلف میں سجی ملو گی
سارا شگفتہ

میرے ایک نوجوان فیس بُک دوست شاہد میرانی نے سندھ سے سارا کی زندگی کےکچھ  واقعات   کو   امرتا  پریتم  کی  کتاب  ایک  تھی  سارا    میں  سے  اقتباس   کی  صورت   میں    مجھ  تک   پہنچایا    ہے :

سارا  شگفتہ  کے   بارے  میں  امرتا  پریتم   لکھتی ہیں : ایک شام شاعر صاحب نے کہا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ پھر ایک روز ریستوراں میں ملاقات ہوئی۔ اُس نے کہا شادی کرو گی؟ دوسری ملاقات میں شادی طے ہو گئی۔ اَب قاضی کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میں نے کہا ۔ آدھی فیس تم قرض لے لو اور آدھی فیس میں قرض لیتی ہوں۔ چونکہ گھر والے شریک نہیں ہوں گے میری طرف کے گواہ بھی لیتے آنا۔ ایک دوست سے میں نے اُدھار کپڑے مانگے اور مقررہ جگہ پر پہنچی اور نکاح ہو گیا۔ قاضی صاحب نے فیس کے علاوہ مٹھائی کا ڈبہ بھی منگوالیا تو ہمارے پاس چھ روپے بچے۔ باقی جھونپڑی پہنچتے پہنچتے ، دو روپے، بچے ۔ میں لالٹین کی روشنی میں گھونگھٹ کاڑھے بیٹھی تھی۔ شاعر نے کہا ، دو روپے ہوں گے، باہر میرے دوست بغیر کرائے کے بیٹھے ہیں۔ میں نے دو روپے دے دئے۔ پھر کہا ! ہمارے ہاں بیوی نوکری نہیں کرتی۔ نوکری سے بھی ہاتھ دھوئے۔ گھر میں روز تعلیم یافتہ شاعر اور نقاد آتے اور ایلیٹ کی طرح بولتے۔ کم از کم میرے خمیر میں علم کی وحشت تو تھی ہی لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بُھوک برداشت نہ ہوتی ۔ روز گھر میں فلسفے پکتے اور ہم منطق کھاتے۔

ایک روز جھونپڑی سے بھی نکال دیئے گئے، یہ بھی پرائی تھی۔ ایک آدھا مکان کرائے پر لے لیا۔ میں چٹائی پر لیٹی دیواریں گنِا کرتی ۔ اور اپنے جہل کا اکثر شکار رہتی۔ مجھے حمل میں  ساتواں مہینہ ہؤا۔ درد شدید تھا ۔ عِلم کے غرور میں   میرا   مجازی  خُدا    آنکھ جھپکے بغیر چلا گیا۔ جب    درد  اور شدید ہؤا تو مالِک مکان میری چیخیں سُنتی ہوئی آئی اور مجھے ہسپتال چھوڑ آئی ۔ میرے ہاتھ میں درد اور پانچ کڑکڑاتے ہوئے نوٹ تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد لڑکا پیدا ہوا۔ سردی شدید تھی اور ایک تولیہ بھی بچے کو لپیٹنے کے لئے نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے میرے برابر اسٹریچر پر بچے کو لِٹا دیا۔ پانچ منٹ کے لئے  میرے   بیٹے   نے آنکھیں کھولیں  اور پھر  کفن کمانے چلا گیا۔   ۔   ۔     بس ! جب سے میرے جسم میں  میرے  بیٹے   کی   وُہ   آنکھیں بھری ہوئی ہیں۔

Sister وارڈ میں مجھے لٹا گئی۔ میں نے Sister سے کہا میں گھر جانا چاہتی ہوں کیونکہ گھر میں کسی کو عِلم نہیں کہ میں کہاں ہوں ۔ اُس نے بے باکی سے مجھے دیکھا اور کہا ، تمہارے جسم میں ویسے بھی زہر پھیلنے   کا      خدشہ  ہے ۔ تم بستر پر رہو ۔  لیکن اب آرام تو کہیں بھی نہیں تھا۔ میرے پاس مُردہ بچہ اور پانچ رُوپے تھے۔ میں نے Sister سے کہا ، میرے لئے اب مشکل ہے ہسپتال میں رہنا۔ میرے پاس فیس کے پیسے نہیں ہیں میں لے کر آتی ہوں، بھاگوں گی نہیں۔ تمہارے پاس میرا مُردہ بچہ امانت ہے، اور سیڑھیوں سے اُتر گئی۔ مجھے 105 ڈگری بُخار تھا۔ بس پر سوار ہوئی ، گھر پہنچی۔ میرے پستانوں سے دُودھ بہہ رہا تھا ۔میں  نے    وُہ      دودھ گلاس میں بھر کر رکھ دیا ۔ اتنے میں شاعر اور باقی منشی حضرات تشریف لائے ۔ میَں نے شاعر سے کہا :         بیٹا    پیدا ہؤا   تھا ، مَر گیا ہے۔ اُس نے سرسری سنا اور نقادوں کو بتایا۔ کمرے میں دو منٹ خاموشی رہی اور تیسرے منٹ گفتگو شروع ہوگئی ! فرائڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ راں بو کیا کہتا ہے ؟ سعدی نے کیا کہا ہے ؟ اور وارث شاہ بہت بڑا آدمی تھا ۔

یہ باتیں تو روز ہی سُنتی تھی لیکن آج لفظ کُچھ زیادہ ہی سُنائی دے رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا ! جیسے یہ سارے بڑے لوگ تھوڑی دیر کے لئے میرے لہو میں رُکے ہوں، اور راں بو اور فرائڈ میرے رحم سے میرا بچہ نوچ رہے ہوں۔ اُس روز علم میرے گھر پہلی بار آیا تھا اور میرے لہُو میں   ڈوُبا   ہؤا   قہقہے لگا رہا تھا ۔ میرے بیٹے     کا جنم دیکھو !!! چنانچہ ایک گھنٹے کی گفتگو رہی اور خاموشی آنکھ    جمائے   مجھے دیکھتی رہی۔ یہ لوگ عِلم کے نالے عبُور کرتے کمرے سے جُدا ہوگئے۔ میں سیڑھیوں سے ایک چیخ کی طرح اُتری۔ اب میرے ہاتھ میں تین رُوپے تھے ۔ میں ایک دوست کے ہاں پہنچی اور تین سو روپے قرض مانگے ۔ اُس نے دے دیئے ۔ پھر اُس نے دیکھتے ہوئے کہا ! کیا تمہاری طبیعت خراب ہے ؟ میں نے کہا ، بس   ذرا    سا    بخار ہے ، میں زیادہ دیر رُک نہیں سکتی ۔ پیسے کسی قرض خواہ کو دینے ہیں ، وہ میرا انتظار کر رہا ہوگا۔ ہسپتال پہنچی ۔ بِل 295 روپے بنا۔ اب میرے پاس پھر مُردہ بچہ اور پانچ روپے تھے۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا۔ آپ لوگ چندہ اکٹھا کر کے بچے کو کفن دیں، اور اِس کی قبر کہیں بھی بنا دیں۔ میں جارہی ہوں۔   میرے    بیٹے      کی اصل قبر تو میرے دل میں بَن چکی تھی۔

میں پھر دوہری چیخ   کے    ساتھ سیڑھیوں سے اُتری اور ننگے پیر سڑک پہ دوڑتی ہوئی بس میں سوار ہو  گئی  ۔ہسپتال  کے    ڈاکٹر نے مجھے  جاتے  ہوئے   دیکھا  اور   سمجھا شاید صدمے کی وجہ سے میں ذہنی توازن کھو بیٹھی ہوں۔بس   کنڈکٹر نے مجھ سے ٹکٹ نہیں مانگا اور لوگ بھی ایسے ہی دیکھ رہے تھے۔ میں بس سے اُتری، کنڈکٹر کے ہاتھ پر پانچ روپے رکھتے ہوئے ، چل نکلی۔ گھر ؟ گھر!! گھر پہنچی۔ گلاس میں دودھ رکھا ہوا تھا۔ کفن سے بھی زیادہ اُجلا۔ میں نے اپنے دودھ کی قسم کھائی ۔ شعر میَں لکھوُں گی، شاعری میَں کروُں گی، میں شاعرہ کہلاؤں گی۔اور دودھ باسی ہونے سے پہلے ہی میں نے ایک نظم لکھ لی تھی، لیکن تیسری بات جھوٹ ہے، میں شاعرہ نہیں ہوں۔ مجھے کوئی شاعرہ نہ کہے۔ شاید میں کبھی اپنے بچے کو کفن دے سکوں۔ آج چاروں طرف سے شاعرہ! شاعرہ! کی آوازیں آتی ہیں، لیکن ابھی تک کفن کے پیسے پُورے نہیں ہوئے۔ 

سارا شگفتہ کی نظموں کے مجموعے

آنکھیں از سارا شگفتہ (ناشر: سعید احمد، کراچی )

نیند کا رنگ از سارا شگفتہ (ناشر: سعید احمد، کراچی )۔

مشہور پنجابی شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار محترمہ امرتا پریتم سارا کی شاعری اور اُس کی زندگی کی کہانی سے واقف تھیں اور اُنہوں نے سارا کی زندگی اور شاعری پر دو کتابیں لکھیں، ایک ہندی میں اور دوسری انگریزی میں۔

ایک تھی سارا از امرتا پریتم سنہ 1990 کتاب گھر پبلی کیشنز، نئی دہلی، بھارت۔

لائف اینڈ پوئیٹری آف سارا شگفتہ از امرتا پریتم۔ سنہ 1994، بی آر پبلشنگ کارپوریشن، دہلی، بھارت۔

پاکستان اور بھارت کے ادبی حلقوں میں سارا کی مظلومیت پر اردو ناٹک بھی تحریر کیے گئے ہیں۔

میَں  ۔    ۔    ۔     سارا   !               : یہ ایک اردو ڈرامہ ہے جو کہ شاہد انور نے لکھا اور سارا کی زندگی کی کہانی پرمبنی تھا۔

سارا کا سارا آسمان ایک اور اُردو کھیل جو دانش اقبال نے تحریر کیا، طارق حمید نے ہدایات دیں اور جو آل اندیا ریڈیو سے سنہ 2015 میں اردو تھیڑ فیسٹیول میں وِنگز کلچرل سوسائیٹی کی طرف سے پورے بھارت میں نشر کیا گیا۔

  کراچی  کے  ادیب  انور  سین  رائے  سارا  شگفتہ  کی  زندگی  کے  اُتار  چڑھاؤ  کے  چشم   دید  گواہ  رہے  ہیں  ۔  اُنہوں  نے  اپنے  اردو  ناول ذلّتوں  کے  اسیر  میں  سارا  کی  زندگی  کی  کہانی  بیان  کی  ہے۔

حال ہی میں آصف   اکبر جے۔   نے ایک اردو   افسانہ   سارا کے قتل کا مقدمہ تحریر کیا ہے جس کا متن میرے ورڈ پریس بلاگ پر پڑھا جا سکتا ہے جس کا لنک یہ ہے

From Wikipedia’s article about Sara Shagufta:

Sara Shagufta (31 October 1954– 4 June 1984) was an iconic modern Urdu feminist poet belonging to Pakistan. She wrote poetry in Urdu and Punjabi languages. She was from a very poor family and her mother, out of desperation and poverty, got her married three times, starting with her first marriage at the age of 14. All of her husbands neglected her emotional needs, deprived her financially and beat her up regularly and mercilessly. She lost her first child due to malnutrition and lack of medical care since her husband was too involved in literary pursuits with his male poet friends and did not care about her pregnancy at all. Her later husbands were no different. Repeated physical assaults affected her mental state and she was admitted to a Mental Hospital where she was subjected to electric shock therapy. During the 1980s Pakistani Martial Law years of brutal military dictator General Zia ul Haque she was imprisoned for 40 days in the notorious torture center of Lahore city’s Mughal Fort dungeons. In 1984, she committed suicide by throwing herself before a passing train in Karachi.

Sara was born on 31st  October 1954 in the small but well known city of Gujranwala, Pakistan in a lower-class family. Sara’s family migrated to Karachi from Punjab during the partition of India. Belonging to a poor and uneducated family, she wanted to rise socially but could not pass her High School exam.

When she was 14, her mother was forced by her poverty to get Sara married off to an abusive husband. This was later followed by a divorce and three other similarly disastrous marriages from which she had three children.

She was admitted to a mental hospital as she was suffering from mental illness due to repeated severe beatings from her various husbands and in-laws. After an unsuccessful suicide attempt, she committed suicide at an early age of 29, on 4th June 1984, around 11 PM, by throwing herself before a train passing from Drigh Colony railway crossing in Karachi.

  • Sara Shagufta’s collections of poetry was published posthumously as
  • Aankhein        and
  • Neend Ka Rang
  • These two collections were published by Saeed Ahmed, a person she was in love with.
  •  Indian author Amrita Pritam, also a close friend of Sara, wrote two books based on the life and works of Sara; Ek Thi Sara (1990) and Life and Poetry of Sara Shagufta (1994).
  • Main Sara   ( I ۔  ۔  ۔ Sara . . .!),   a play written by Shahid Anwar, is based on the life of Sara.[4]
  • Sara Ka Sara Aasman, another play written by Danish Iqbal and directed by Tarique Hameed, is also based on the life of Sara. Based on Amrita Pritam’s books on Sara, the play was presented by Wings Cultural Society at All India Radio‘s Urdu Theatre Festival in 2015.[5][3]
  • Amṛtā Prītama (1994). Life and Poetry of Sara Shagufta. Delhi: B.R. Publishing Corporation. ISBN 978-81-7018-771-4.

  • Amrita Pritam (1990). Ek thi Sara. New Delhi: Kitabghar Publication. OCLC 33810599.

  • Asad Alvi translated her poetry into English and published as The Colour of Sleep and Other Poems (2016)

A possible narrative behind Majeed Amjad’s poem “Dawaam”

مجید امجد کی نظم “دوام” کا ایک ممکنہ پس منظر
طلعت افروز

A Girl in Traditional South Asian Dress

دوام 1

دوام 12

مجید امجد کی اِس خوبصورت نظم میں شروع کی سطریں رات کے آسمان کو بیان کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ آسمان پر دکھائی دیتے ستارے دراصل وُہ دوُر دراز سورج ہیں جن کی روشنی کروڑوں نوری سالوں کا سفر طے کرتی ہوئی ہمیں اِس لمحے میں نظر آ رہی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ چناچہ مجید امجد کی نظر میں رات کا تاروں بھرا آسمان بجھتے ستاروں اور راکھ ہوتی کائناتوں کا ایک  “رُکا انبوہ” ہے ۔ ۔ ۔

نوٹ: ایک نوری سال وُہ خلائی فاصلہ ہے جو روشنی کی ایک کرن ایک سال میں طے کرتی ہے جب کہ روشنی ایک سیکنڈ میں تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے

اِس بے کراں کائنات کے بُجھتے ستاروں کے رُکے انبوہ تلے دو پیار بھرے دل مِل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ایک لڑکی ہے جو شاید مجید امجد کی گلی کے نُکّڑ والے مکان میں اپنی چچی کے ساتھ رہتی ہے اور جس کا باپ فیکڑی میں مزدوری کرنے جھنگ سے دوُر کسی جگہ ملازم ہے


حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1940 کی لکھی نظم “چچی” ص۔ 114، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

۔ ۔ ۔ یہ لڑکی شاید مجید امجد کے گھر لڑکپن سے آتی جاتی رہی ہے اور مجید امجد کی منگیتر خالہ زاد بہن کے ساتھ ایک ہی تانگے میں سکول پڑھنے بھی جاتی رہی ہے ۔ ۔ ۔  مجید امجد کی ایک غزل کا شعر ہے نا کہ


دھیان میں روز چھم چھماتا ہے
قہقہوں   سے   لدا   ہؤا   تانگہ

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1967 کی لکھی غزل ص۔ 448، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

۔ ۔ ۔ یہ لڑکی اپنے گھر کی چھت پر سرِ شام مجید امجد کا انتظار کرتی ہے اور مجید کے گلی سے گزرنے پر ایک خاموش سلام بھی اُن کی طرف بھیجا کرتی ہے

 

لو آ گئی وُہ  سرِ  بام  مسکراتی ہوئی

لیے  اُچٹتی نگاہوں میں اِک پیام ِ ِخموش

 

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1938 کی لکھی نظم “سرِ بام!” ص۔ 69، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

وُہ لڑکی مجید  امجد کی توجہ لینے کے لیے ایک آدھ کنکری بھی اُن کی طرف اُچھال دیا کرتی ہے کبھی کبھی ۔ ۔ ۔ الکھ نگری میں ممتاز مفتی لکھتے ہیں کہ کنکری پھینک کر نوجوان کو متوجہ کرنا سنہ 1940 کی دہائی میں پنجاب کے شہروں قصبوں میں جوان لڑکیوں کے لیے دل کی بات کہنے کا ایک ذریعہ تھا اور احمد بشیر چونکہ بہت خوبروُ تھے اِس لیے جب کرشن نگر میں الاٹ کرائے مکان سے نکلتے تھے تو جوان لڑکیاں اُنہیں متوجہ کرنے کے لیے کنکری پھینکا کرتی تھیں ۔ ۔ ۔ خیر ہم واپس مجید امجد کی طرف آتے ہیں ۔ ۔ ۔ اُس لڑکی کے پھینکے کنکر کو مجید نے اپنے دل پر محسوس کیا ۔ ۔ ۔ وُہ اپنی سنہ 1944 کی لکھی ایک نظم میں کہتے ہیں

پاؤں تو اُٹھتے ہیں لیکن آنکھ اُٹھ سکتی نہیں
جا رہا ہوُں میَں نہ جانے کس سے شرماتا ہؤا
میَں  لرز  اُٹھتا  ہوُں  کس  کی ٹکٹکی کے وہم سے؟
میَں جھجک  جاتا ہوُں  کس کے سامنے آتا ہؤا ؟

کس کا چہرہ ہے کہیِں اِن گھوُنگھٹوں کے درمیاں؟
چوُڑیوں والی کلائی ؟  جھوُمروں  والی  جبیں؟
ممٹیوں  پر سے  پھسلتا  ہی نہیں کنکر کوئی
کون ہے موجود؟  جو موجود بھی شاید نہیں

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1944 کی لکھی نظم “ایک پُر نشاط جلوس کے ساتھ” ص۔ 178، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

۔ ۔ ۔ وُہ لڑکی اپنے پیار کی ممتا بھری  نسوانیت میں اِس لانبے دُبلے نوجوان کے لیے رات گئے اپنے گھر کی گلی کے ساتھ لگتی دیوار پر گرم دوُدھ کا ایک پیالہ چپکے سے رکھ جاتی تھی کہ جب مجید رات گئے گھر آئیں تو اُن کی نظر اِس پیالے پر ضرور پڑے ۔ ۔ ۔ وُہ اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں

کیسے جاؤں کیسے پہنچوں یادوں کے اُس دیس
جہاں کبھی اِک آنگن کی دیوار پہ چپکے سے
دوُدھ  کا  ایک  کٹورا  رکھ  جاتے  تھے  میرے  لیے
غیبی ہاتھ ۔ ۔ ۔ جنہیں مٹّی کی تہوں نے ڈھانپ لیا

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1968 کی لکھی نظم “یادوں کا دیس” ص۔ 449، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

۔ ۔ ۔  مجید امجد اُس لڑکی سے رات کے پچھلے پہر کی چوری چھُپے کی ملاقاتوں کے بارے میں اپنی طویل  نظم   کے  شروع میں لکھتے ہیں

دیکھتے  ہو  وُہ  جو اِک  جادہ ءِ نوُرانی  ہے
وُہ جو اِک  موڑ  ہے اور  وُہ  جو  جھروکا  ہے  سرِ  بام ِ بلند
کبھی  پہنچی نہیں جس  تک سحر و شام  کے سایوں کی کمند
وُہ  جو  جھُکتی ہوئی مُڑتی ہوئی دیواریں ہیں
جن  کا منصب  اِنہیں  گلیوں  کی نگہبانی  ہے
وُہ   جو  ہر  شام   اِنہی   گلیوں  میں  کوئی   مست   سی  لَے
بند  ہوتے  ہوئے  دروازوں  کے  آہنگ  میں  گُھل  جاتی  ہے
وُہ  خموشی ،  سفر ِ شب  کے  تسلسل  کی نقیب
جس کی  میّت  پہ  اندھیروں  نے رِدا  تانی   ہے
میَں  نے  اک عُمر  اِسی  معمورہ ءِ  ظلمات میں رقصاں ، جولاں
ہر  قدم   اپنے   ہی   قدموں  کی  صداؤں  سے  گریزاں،   لرزاں
جگر  ِ  جام  سے  چھینے  ہوئے  نشوں  میں مگن
خاک اِن راہوں  کی  یوں  خاگ  بہ  سر  چھانی  ہے
جس  طرح  ایک  سہارے کی  تمنّا  میں  کسی  ٹوُٹتے  تارے کی حیات
مہ  و انجم  کے  سفینوں کی طرف  اپنے  بڑھائے ہوئے  ہات
خم  ِ  افلاک سے  ٹکرا  کے  بھسم  ہو  جائے
اِن  خلاؤں  میں کسے  تاب ِ  پر  افشانی  ہے

آج  بھی  جب  کہیِں  رستے میں، کسی موڑ،  کسی  منزل  پر
کسی دیوار  سے کنکر  بھی  پھسل  جاتا  ہے
کوئی  دامن  کہ   جسے  ناز ِ گُل  افشانی  ہے
دھوُپ  میں  سوُکھتی  خُرما  کی  چنگیروں  سے  بھرے کوٹھوں سے
ایک  پل   کے   لیے  اُڑتا   ہے ،  سمٹتا  ہے ،   تو   دھیرے   دھیرے
کوئی  لَے  سی  مِرے  احساس  میں  بھر  جاتی ہے
تار ِ  بربط     کی     کوئی     لرزش  ِ  پنہانی     ہے
جو   شب  و  روز   کے  ایواں  میں   فغاں  بن  کے  بکھر  جاتی  ہے
آسمانوں سے،  زمینوں سے کسی دل  کے  دھڑکنے  کی  صدا  آتی ہے
کوئی چپکے  سے  مِرے  کان  میں  کہہ  جاتا ہے
سُنتے ہو ،  کس  کی  یہ  آواز  ہے ،  پہچانی  ہے؟

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1954 کی لکھی طویل  نظم “نہ کوئی سلطنت ِ غم ہے نہ اقلیم ِ طرب” ص۔ 253، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

اِن لُکا چھُپی کی ملاقاتوں کے بارے میں مجید امجد لکھتے ہیں

مِری  صبح  ِ تیرہ   کی   پلکوں  پہ  آنسو
مِری  شام  ِ ویراں  کے  ہونٹوں  پہ  آہیں
مِری   آرزوُؤں   کی   معبود   تجھ   سے
فقط    اِتنا    چاہیں  ،   فقط    اِتنا   چاہیں
کہ  لٹکا  کے  اِک  بار  گردن  میں  میری
چنبیلی  کی  شاخوں  سی   لچکیلی  بانہیں
ذرا  زُلف  ِ  خوش  تاب  سے  کھیلنے  دے
جوانی  کے اِک  خواب  سے   کھیلنے  دے

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1938 کی لکھی  نظم “اَلتماس” ص۔ 70، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

مجید امجد  جھنگ سے باہر  کی  دنیا  میں  قدم  رکھنا  چاہتے  تھے مگر  یہ  پہلا  پیار  اُن  کے  پاؤں کی  زنجیر تھا۔  وُہ  اپنی ایک  اور  نظم میں لکھتے  ہیں

مجھے  آفاق  کی   پہنائیاں   آواز  دیتی  ہیں
مجھے  دنیا  کی  بزم آرائیاں  آواز  دیتی ہیں
مگر  میَں چھوڑ  کر یہ  دیس پیارا  جا نہیں سکتا
بھُلا  کر  میَں اُن آنکھوں کا اِشارہ  جا نہیں سکتا
وُہ  آنکھیں  جن  کی  اشک افشانیاں  جانے نہیں دیتیں
وُہ   جن   کی   مُلتجی   حیرانیاں   جانے   نہیں   دیتیں

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1938 کی لکھی  نظم “یہ سچ ہے” ص۔ 79، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

مجید امجد کی نظم  دوام  میں اُس لڑکی کے گھر کی گلی کی طرف  کھُلتی ایک کھڑکی خاموشی سے رات کے پچھلے پہر وا ہو جاتی ہے اور دو پیار میں جکڑی روُحیں قریب آ جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ اِن لمحات کے بارے میں ایک اور جگہ مجید امجد لکھتے ہیں

بہشتو ،     چاندنی     راتیں     تمہاری
ہیں   رنگیں ،  نقرئی،  مخموُر ، پیاری
مگر   وُہ  رات،   وُہ   میخانہ،  وُہ دوَر
وُہ     صہبائے   محبّت     کا    چھلکنا
وُہ ہونٹوں  کی  بہم  پیوستگی  ۔ ۔ ۔ اور
دلوں   کا    ہم  نوا   ہو    کر    دھڑکنا
بہشتو ،  اُس  شب  ِ  تیرہ   پہ   صدقے
رُپہلی ،     چاندنی      راتیں    تمہاری

خدائے    وقت    توُ     ہے     جاودانی
 تِرا      ہر     سانس    روُح  ِ   زندگانی
مگر   وُہ   وقت  جب   تیرہ  خلاء  میں
ستاروں  کی   نظر   گُم   ہو   رہی  تھی
اور  اُس  دم  میری  آغوش  ِ  گنہ  میں
قیامت   کی    جوانی    سو   رہی   تھی
خدائے    وقت   اُس   وقت ِ  حسیِں   پر
تصدّق        تیری       عمر  ِ  جاودانی

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1938 کی لکھی  نظم “لمحات ِ فانی” ص۔ 65، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

کھڑکی کے چوکھٹے سے جھانکتا کوئی چہرہ کسی کے خنک ہونٹوں سے پیوست ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ لمحوں کے گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا ۔ ۔ ۔ دیکھتے ہی دیکھتے رات کا آخری پہربیت جاتا ہے ۔ ۔ ۔ صبح ِ کاذب دونوں دلوں کو پیار سے ہلاتی ہے اورپھر دونوں جُدا ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔  اِس  جُدائی کی گھڑی کے بارے میں مجید ایک اور جگہ لکھتے ہیں

 

اب دھُندلی  پڑتی جاتی ہے تاریکی ءِ شب ، میَں جاتا ہوُں
وُہ صبح کا  تارا  اُبھرا ، وُہ  پَو پھوُٹی، اب  میَں جاتا ہوُں
جاتا  ہوُں ، اجازت!  جانے  دو ۔ ۔ ۔  وُہ دیکھو اُجالے چھانے کو ہیں
سورج   کی  سنہری  کرنوں   کے  خاموش   بُلاوے   آنے   کو  ہیں
اب  مجھ   کو  یہاں   سے  جانا  ہے!  پُر شوق   نگاہو!   مت  روکو
او   میرے   گلے  میں  لٹکی   ہوئی  لچکیلی   بانہوں !    مت  روکو
اِن    اُلجھی   اُلجھی   زُلفوں   میں   دل   اپنا    بسارے    جاتا   ہوُں
اِن  میٹھی   میٹھی   نظروں   کی   یادوں    کے   سہارے   جاتا  ہوُں
جاتا  ہوُں،  اجازت!   وُہ  دیکھو،  غُرفے  سے  شعاعیں  جھلکی ہیں
پگھلے  ہوئے  سونے  کی  لہریں  مینائے  شفق  سے   چھلکی  ہیں
کھیتوں   میں   کسی   چرواہے   نے   بنسی   کی   تان   اُڑائی    ہے
ایک   ایک   رسیلی   سُر   جس   کی   پیغام    سفر   کا    لائی    ہے
مجبور  ہوُں  میَں،  جانا  جو  ہؤا ۔ ۔ ۔  دل  مانے  نہ  مانے  جاتا  ہوُں
دنیا    کی  اندھیری   گھاٹی  میں   اب   ٹھوکریں  کھانے   جاتا   ہوُں

حوالہ: مجید امجد کی سنہ 1939 کی لکھی  نظم “صبح ِ جدائی” ص۔ 65، کلیات ِ مجید امجد، ماورا پبلشرز لاہور

اُدھر دھیرے دھیرے ایک نیا دن طلوع ہو رہا ہے، گلی جاگ رہی ہے، آنگن ہمہمانے لگے ہیں اور کوئی نیند بھرے لہجے میں رات کی تیز آندھی کا ذکر کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

مجید امجد کی کلیات کو سنہ 1977 سے پڑھتے پڑھتے آخرکار میرے ذہن میں اُن کی ذاتی محبت کی کہانی کا ایک ممکنہ پلاٹ مرتب ہؤا جس میں اُن کی رومانی نظموں کی ایک پوری لڑی ہے جو اُن کی حدیث ِ دل بتا رہی ہے ۔ ۔ ۔ اُن کی پہلی محبت کی مکمل کہانی غالباً سنہ 2010 کے قریب پوری طرح میرے ذہن میں تشکیل پا گئی ۔ ۔ ۔ اب گاہے گاہے اِسے ایک سکرین پلے کا روُپ دے رہا ہوُں ۔ ۔ ۔ ۔ اِس سکرین پلے کے لیے مزید مواد جناب ڈاکٹر محمد زکریا کے پاس ایک رجسٹر کی شکل میں موجود ہے جس میں مجید امجد کا تمام ابتدائی کلام مجید امجد کے اپنے ہاتھوں سے درج ہے۔ سنہ 2010 سے فون کالوں اور خطوط کے ذریعے محترم ڈاکٹر زکریا سے بارہا اِس ابتدائی کلام کو چھاپنے کا مطالبہ کرتا رہا ہوُں اور وُہ ہر بار ٹال مٹول کر جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ سنہ 2015 میں اپنے سینئیر فیس بُک دوستوں سے ڈاکٹر صاحب کو سفارش کروانے کی کوشش کی مگر کسی نے اُن سے اِس بابت بات کرنے کی ہمت نہ کی۔  سنہ 2018 کی اِن گرمیوں میں پھر فون کروُں گا اُنہیں ۔ ۔ ۔ اگر مجید امجد کا وُہ ابتدائی کلام چھپ جائے تو میرے سکرین پلے کو مزید مواد حاصل ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ اُمید پر دنیا قائم ہے ۔ ۔ ۔

Screenplay Kee Tayyaaree-07

مجید امجد کی وفات سنہ 1974 میں ہوئی اور جاوید قریشی نے جو اُس وقت ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر تھے مجید امجد کا تمام کلام اُن کے ہاتھ سے لکھے رجسڑ، فوٹو گراف، خطوط سمیت  ساہیوال یونائٹیڈ بینک کے لاکر میں جمع کروایا تھا۔  کچھ سال بعد جاوید قریشی کی مدد سے پاکستان آرٹس کونسل نے رقم جاری کی اور افتخار جالب،عبدالرشید، فہیم جوزی،سعادت سعید اوراسرار زیدی کی رات دن کی انتھک محنت کے بعد اِس کلام کا بیشتر حصہ  ٹائپ کر کے اور کمپوز کر کے سب سے پہلی کلیات ِ مجید امجد “شب ِ رفتہ کے بعد” کے نام سے سنہ 1976 میں “تیسری دنیا کا اشاعت گھر، وسن پورہ لاہور” سے شائع ہوئی ۔ ۔ ۔ اِس کی ایک کاپی سنہ 1977 سے آج تک میرے پاس ہے۔ اِس میں اغلاط تھیں اور ڈاکٹر زکریا کی مدد سے سعادت سعید، فہیم جوزی، افتخار جالب، عبدالرشید اور اسراز زیدی  نے ایک اغلاط نامہ بھی اِس کے آخیر میں شامل کیا تھا۔ یہ پہلی کلیات اِنہیں لوگوں کی محنت کا نتیجہ تھی۔ اِس کے پیش لفظ یا عرض ِ مرتّب  میں بھی عبدالرشید نے  اُس ایک رجسٹر کا ذکر کیا ہے جس میں مجید امجد کا تمام غیر مطبوعہ ابتدائی کلام موجود ہے۔

 

Shab e Rafta Kay Baad-01

shab-e-rafta-kay-baad-02.jpg

shab-e-rafta-kay-baad-03.jpg

shab-e-rafta-kay-baad-04.jpg

پھر سنہ 1988 میں ماورا پبلشرز کے جناب خالد شریف کے اصرار پر اور ڈاکٹر زکریا صاحب کی انتھک محنت سے کلیات ِ مجید امجد شائع ہوئی۔ اِس کے پیش لفظ میں بھی ڈاکٹر زکریہ لکھتے ہیں کہ ایک رجسٹر مجید امجد کے ابتدائی غیر مطبوعہ کلام کا اُن کے پاس محفوظ ہے اور اُس میں ابتدائی نظمیں ہیں جو مجید کے بعد کے کلام کے مقابلے میں بہت ہلکی ہیں اور اُن کے شایان شان نہیں ہیں اور یہ نظمیں وُہ بعد میں کسی وقت شائع کریں گے۔

میری فون پر ڈاکٹر زکریا سے دو مرتبہ بات ہو چکی ہے اورسنہ 2015 میں ہوئی گفتگو میں اُنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وُہ رجسٹر اُن کے پاس ہے جس میں مجید امجد کا ابتدائی غیر مطبوعہ کلام درج ہے۔ اُن کے بیٹے سے بھی میری بات ہوئی ہے جو امریکہ میں رہتے ہیں اور اُنہوں نے بھی اِس ابتدائی کلام کو گھر میں محفوظ دیکھا ہؤا ہے۔ دونوں مرتبہ فون پر ڈاکٹر زکریا نے ابتدائی کلام کو آنے والے سالوں میں شائع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

میری گذارش صرف اِتنی ہے کہ مجید امجد کا ابتدائی غیر مطبوعہ کلام بھلے اُن کے بعد کے اعلٰی کلام کے مقابلے میں کم تر ہو لیکن تحقیق کرنے والوں کے لیے اہم ہے۔ میَں مجید کی زندگی پر ایک سکرین پلے لکھ رہا ہوُں اور اُس میں یہ ابتدائی کلام میری بہت مدد کر سکتا ہے چاہے وُہ نظمیں ادبی لحاظ سے بہت اعلٰی پائے کی نہ بھی ہوں۔
جو لوگ بھی یہ سطریں پڑھ رہے ہیں اور ڈاکٹر زکریا سے سفارش کر سکتے ہیں خدارا کچھ کیجیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب تک کوئی یونیورسٹی یا کوئی ادبی لائبریری یا کوئی بڑا پبلشر یہ کلام چھاپ چکا ہوتا ۔ پاکستان میں ہمیں ڈاکٹر زکریا صاحب کی منت سماجت کرنی پڑ رہی ہے اور دیگر حضرات جنہیں میَں اپنی بپتا سُنا رہا ہوُں  وُہ اِس بات پر یقین لانے کو ہی تیار نہیں ہیں کہ کوئی ابتدائی کلام موجود ہے ۔ ۔ ۔ جائیں تو جائیں کہاں ۔ ۔ ۔

The image below shows a portion of page 34 from the Mavra 1988 edition of Kulliyaat e Majeed Amjad where Prof. Dr. Zikriya writes as follows:
سنہ 1988 میں ڈاکٹر زکریا لکھتے ہیں :
ابتدائی کلام کا بہت سا حصہ مجید امجد کے شایان ِ شان نہیں ہے اِس لیے میَں نے یہ فیصلہ کیا کہ اِس میں سے چند نظموں کا انتخاب کر کے کلیات ِ مجید امجد میں شامل کیا جائے اور باقی ماندہ کلام باقیات کے نام سے الگ چھپے۔ یہ ارادہ انشاء اللہ کبھی نہ کبھی پورا ہو گا۔

Also, both Dr. Mohammad Zikriya and his son have confirmed to me over the phone that these unpublished Early Poems of Majeed Amjad are safe with Dr. Zikriya in Lahore and will be published later on  . . .
Dr Zikriya-01

 

 

 

 

dr-zikriya-05-32mb.jpg

Dr Zikriya-04 29mb
Dr Zikriya-02a 3mb

Dr Zikriya-02b 3mb.jpg

 

 

 

 

 

 

Har baar isee tarah say dunyaa … An Urdu poem by Majeed Amjad

ہر بار اِسی طرح سے دنیا ۔ ۔ ۔ مجید امجد کی ایک نظم
تحریر : طلعت افروز

Mustard Blossom -03

مجید امجد  میری رائے  میں  جدید  اردو  شاعری کا  پہلا  بڑا  نام  ہیں۔  مَیں  اُنہیں  جدید  اُردو  شاعری  کا  جدّ ِ امجد مانتا  ہوُں۔ پاکستان  کی  ادبی  فضا  کچھ  ایسی ہے  کہ  ادبی  دھڑے  بنے  ہوئے  ہیں  جن  کا  مقصد  روپیہ بنانا ہے۔  بُردباری، تحمّل،  تنقید میں ایمان داری عنقا ہیں۔  چناچہ مجید امجد کے بارے میں میری اوپر دی گئی رائے سے بہت سے پاکستانی ادبی دھڑے باز اتفاق نہیں کریں گے۔ خیر مجھے اِس کی پرواہ نہیں ہے۔  جو میری  “ہڈ بیتی”  ہے مجید امجد کی شاعری کے توسط  سے وُہ مَیں نے کہہ دی ہے۔ 

سنہ 1977 کی  بات  ہے  جب  لاہور  میں  ٹمپل  روڈ  پر  میَں  اپنے  ماں باپ کے  گھر  میں  ایک  کالج  طالبعلم تھا۔  مجھے گھر والوں نے دوسری منزل پر ایک الگ کمرہ دے رکھا تھا جس کی کھڑکی سے ہماری گلی کا درختوں بھرا منظر ہمیشہ نگاہوں کو تازگی بخشتا تھا۔  شرینہہ کا ایک دیو قامت درخت  کھڑکی کے باہر سایہ فگن تھا جس پر طوطے، کوّے، چڑیاں  شور مچاتے رہتے تھے، جس کے تنے پر گلہریاں کلیلیں کرتی تھیں اور جہاں ایک گرگٹ بھی سردیوں کی دھوپ سینکنے نکل آتا تھا۔ برساتوں میں ٹھنڈی ہوائیں شرینہہ کے پھولوں کے  ریشمی لچھوں کو اُڑاتی رہتی تھیں اور گہری کالی گھٹائیں ہماری گلی پر چھائی رہتی تھیں۔

  چونکہ ہمارے محلّے کے تمام مکان ایک ہندو ڈاکٹر صاحب نے آزادی سے پہلے اپنے رشتے داروں کے لیے بنوائے تھے اِس لیے سب مکان ایک ہی طرز کے تھے اور ہر مکان کی طرح میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر بھی  لوہے کا بنا ہؤا ایک “اوم ”  کا  نشان نصب تھا جس سے منسلک ایک موٹی تار  زمین میں دفن تھی تاکہ آسمانی بجلی سے بچا سکے۔  مَیں ہر روز  سائیکل پر لارنس روڈ،  پھر جیل روڈ  اور پھر نہر والی سڑک سے ہوتے ہوئے ایف سی کالج جایا کرتا تھا  اور بی۔ایس۔سی کا طالبعلم ہونے کے ناطے پریکٹیکلز ختم کر کے دوپہر تین چار بجے گھر واپس آیا کرتا تھا۔ سائیکل پر اُس  روزانہ کے سفر کا حُسن آج بھی  دل کو گدگداتا ہے۔ اُن دنوں مَیں اپنی ہائی سکول کی ایک ہم جماعت کے خیالوں میں گُم تھا (حالانکہ اُسے میرے اِس رُجحان کا قطعی کوئی  علم نہ تھا ) اور شاعری مجھ  پر نئی نئی وارد ہو رہی  تھی۔ اُن دنوں ٹی۔ وی۔ پر مجید امجد کی وفات کے بعد چھپنے والی اُن کی شاعری کے  مجموعے  “شب ِ رفتہ کے بعد” کا بڑا چرچا تھا اور مَیں نے اپنے ابّو سے پیسے لے کر وُہ کتاب خرید لی تھی۔ یہ کتاب جلد ہی مارکیٹ سے غائب ہو گئی  جیسے مجید امجد کے کسی دشمن نے ساری کاپیاں خرید کر چھُپا دی ہوں یا ضائع کر دی ہوں۔ بہر حال یہ کتاب میرے لیے جدید  اردو شاعری کا ایک صحیفہ ثابت ہوئی۔

یہاں آج اپنے بلوگ پر مجید امجد کی ایک خوبصورت نظم اپ لوڈ کر رہا ہوُں تاکہ پاکستان کے نوجوان لڑکے لڑکیاں، اُبھرتے ہوئے شاعر اور ادیب ، جو  شاید ابھی سکول، کولج یا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں یا پھر ڈگری لے کر نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں مجید امجد کے فن سے روُشناس ہو سکیں۔  دعا ہے کہ مجید امجد کا فن اُن کی بھی ویسے ہی رہنمائی کر سکے جیسے بہت سال پہلے اُن کی شاعری نے میری تربیت کی تھی۔

نظم     بہار
مجید امجد

ہر بار ،  اِسی  طرح  سے  دنیا
سونے کی ڈلی سے ڈھالتی ہے
سرسوں کی کلی کی زرد موُرت
تھاما  ہے  جسے  خم ِ ہَوا  نے

خم : بازوُ کا اوپر والا نصف حصّہ
(فیروز اللغات)

ہر  بار ، اِسی  طرح  سے   شاخیں
کھِلتی   ہوئی     کونپلیں    اُٹھائے
رستوں کے سلاخچوں سے لگ کر
کیا  سوچتی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ کون جانے

ہر بار ، اِسی  طرح  سے  بوُندیں
رنگوں بھری بدلیوں سے چَھن کر
آتی   ہیں   مسافتوں    پہ    پھیلے
تانبے  کے   ورق   کو  ٹھنٹھنانے

ہر   سال ، اِسی  طرح   کا   موسم
ہر   بار،   یہی     مہکتی    دوُری
ہر   بار،   یہی     کٹھور      آنسو
رونے  کے  کب  آئیں  گے زمانے ؟

مجید امجد، ساہیوال۔ 28 جنوری، سنہ 1961 ۔
ص ۔ 362، کلیات ِ  مجید امجد، مرتب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ماورا پبلشرز، لاہور سنہ 1988۔

   

The mood in Sarmad Sehbai’s poem “Mulaaqaat”

Sarmad Sehbai New York 1970's 1MB JJ

ہونے اور نہ ہونے کا غیبی موسم

تحریر   طلعت افروز

سرمد صہبائی کی  نظم  “ملاقات”  سے   جُڑی  کیفیت  کے  بارے  میں  طلعت افروز  کا  تجزیہ

سرمد صہبائی اپنی نظموں کے مجموعے پل بھر کا بہشت کی ایک خوبصورت نظم ’’ملاقات ‘‘ میں کہتے ہیں

ملاقات

دروازے پر کون کھڑا ہے ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

پل بھر سوچا

کون ہے ۔ ۔ ۔ شائد و ُہ آیا ہے

اِک لمحے کو اُس نے اپنی دہلیزوں پر

دریا ، بادل اور ہَوا کو رُکتے دیکھا

خواہش کی عُریاں بیلوں کو

اپنے دِل کی محرابوں پر جُھکتے دیکھا

اُس کے جسم کے اندر جاگے سُرخ پرندے
کمرے میں یکدم جیسے سورج دَر آیا

کیا یہ تم ہو . . . ؟ کیا یہ تم ہو . . . ؟

پیاسے ہونٹ پہ اُس کے نام کا رَس بھر آیا

او ہنس راج ، مِرے رنگ رَسئیے

گہری نیند میں کِھلنے والے سورج مُکھئیے

کیا یہ تم ہو . . . ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

دروازے کو کھول کے دیکھا

دوُر دوُر  تک ہونے نہ ہونے کا اِک غیبی موسم تھا

سرمد صہبائی ۔ 2008 ۔

جب کوئی ہم سے بچھڑ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ اکثر ایک حتّمی اور قائم رہنے والا اَمر ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ تو بچھڑنے والا ہمارے اندر بستے اپنے ایک جادوئی عکس کو ظاہر کر دیتا ہے۔ محبّت کے اوّلیں دنوں میں ، جب ہم سفر ہمارے ساتھ ہوتا ہے ، ہمارے اندر بستا یہ ہم زاد نما عکس اپنا آپا نہیں دِکھاتا۔ جدائی کے عمل سے گزرنے پر ہمارے اندر بستی یہ موجودگی ، یہ غیبی دنیا اپنے اوپر سے پردہ اُٹھاتی ہے۔

یہ ایک غیر مرئی جہان ہے جس میں ہمارا ساتھی ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی! اُس سے باتیں ہو سکتی ہیں اور اُس کے منہ سے اپنی مرادیں، اپنی آرزو ُئیں، اپنی تمنّائیں اپنی مرضی کے لفظوں میں سُنی جا سکتی ہیں۔ اُس سے گِلے شِکوے ہو سکتے ہیں ۔ اُس کے حُسن کا نظّارہ کیا جا سکتا ہے۔ اُس کے ساتھ گُزرا کوئی لمحہ پھر سے گزارا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایک خلوت کے حصار میں ہم بیٹھے اُسے تکے جا رہے ہیں۔ اُس کی ذات کا سحر سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے اور ہم مسحور ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ سرمد ؔ صہبائی نے اپنے ابتدائی دنوں کی ایک شاہکار نظم استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوُں مَیں کے ایک بند میں اِس طرف اشارہ کیا ہے

غَیب کے شہروں سے آتی ہے ہَوا
عکس سا اُڑتا ہے تیرے جسم کا
وصل کے دَر کھولتی ہیں انگلیاں
خون میں گُھلتا ہے تیرا ذا ئقہ
آتے جاتے موسموں کی اوٹ میں
تیرا چہرہ دیکھتا رہتا ہو ُں میَں
اِستعارے ڈھوُنڈھتا رہتا ہو ُں میَں
سرمد صہبائی ۔ 1976 ۔

 

خیالوں کی اِس دنیا کی جڑیں ہمارے تحت الشعور میں پیوست ہوتی ہیں۔ اور تحت الشعور ہم سے ہم کلامی کے لئے خوابوں کا سہارا لیتا ہے۔ہمارا سب کونشس مائنڈ یا تحت الشعور بول نہیں سکتا لیکن شبیہوں اور متحرّک تصویروں کے ذریعے ہم سے غیر لفظی باتیں کرتا ہے اور یہ متحرّک تصویریں ہمیں اپنے خوابوں میں نظر آتی ہیں۔ سو یہ غیبی دنیا ہمارے خوابوں میں بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔

مجید امجد ؔ نے اپنی ایک نظم کب کے مَٹّی کی نیندوں میں کے ایک بند میں کیا خوب کہا ہے کہ

کب کے مَٹّی کی نیندوں میں سو بھی چکے و ُہ

میری نیندوں میں اب جاگنے والے

ابھی ابھی تو ، میری دنیا ، سوئی ہوئی تھی

اُن کی جاگتی آنکھوں کے پہرے میں

ابھی ابھی و ُہ یہیں کہیِں تھے

میرے خوابوں کی عمروں میں

ابھی ابھی اُن کے مٹیالے ابد کی ایک ذرا سی ڈلی گھُلی تھی

اِن میری آنکھوں میں

اور دکھائی دیئے تھے ، میری خودبیں بینائی میں

و ُہ سب ٹھنڈے ٹھنڈے سُکھ ، جو

اُن کے دِلوں کا اُنس اور پیار تھے

میرے حق میں

ابھی ابھی تو اِس میری بے فہمی کی فہمید میں تھا

یہ سب کچھ

اور اب میرے جاگنے میں سب کھو گئے

و ُہ میری نیندوں میں جاگنے والے

مجید امجدؔ۔ 28 اکتوبر ، 1970 ۔ ساہیوال ۔

کبھی کبھی غیب کی یہ دنیا اِس حد تک ذہن پر حاوی ہو جاتی ہے کہ مِیت کے نہ ہونے کے احساس کو اور بھی شدّت سے محسوس کروانے لگتی ہے۔ اُس کے نہ ہونے کی کمی بار بار کسک دیتی ہے اور شا ید اِسی کیفیت کے بارے میں عدیمؔ ہاشمی نے لکھا تھا کہ

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ

بھو ُل جانے کے سِوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا

بچّے اِس غیبی دنیا سے بڑے مانوس ہوتے ہیں ۔ اُن کا تخئیل حد درجہ قوی ہوتا ہے اور ہماری یہ دنیا بچّوں کو بھی دُکھ دینے سے نہیں چوُکتی۔ چناچہ بہت سے بچّے اپنا ایک خیالی دوست یا سہیلی بنا کر اُس سے گھنٹوں باتیں کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر کا بچّہ زندہ ہوتا ہے وُہ دُکھوں کے چُنگل سے فرار کے لئے اِس غائب نگری میں پناہ ڈھونڈ نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجید امجد ؔ کی ایک نظم میں ایک منظر بیان ہوتا ہے جہاں خدا آسمانوں سے دنیا میں اُتر آیا ہے اور چُپ چاپ کھڑا ایک غریب بچّی کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ننھی سی بچّی بھی حقیقتوں کی دنیا سے نکل کر اپنے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی ہے اور اُس کے چہرے پر اُس کے دُکھ کی کتھا صاف پڑھی جا سکتی ہے

ننھی بھولی

ننھی بھولی، مَیلے مَیلے گالوں والی

بے سُدھ سی اِک بچّی

تیری جانب دیکھ رہی ہے ،

دیکھ اُس کی آنکھیں تیری توجّہ کی پیاسی ہیں

اُس کی نازک ، بے حِس ٹھوڑی کو اپنی انگلی

کی سنہری پور سے مَس تو کر، اور

اُس سے اِتنا تو پوچھ ، اچھّی بِلّو ! تو ُ کیوں چُپ ہے

اور جب و ُہ مُنہ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے

ہی چہرے پہ جھُکا لے

تو ُ ہی بڑھ کر اُس کے ماتھے کو اپنے

ہونٹوں سے لگا لے، ہاں ایسے ہی

کیوں ، اُس جھنجھیلو نے تجھ سے کہا کیا ؟

یہ کیا ؟ تیری آنکھیں بھیگ گئیں . . . ؟

کیوں . . . ؟

اُس نے تجھ سے کہا کیا ؟

ساتوں آسمانوں کے مالک

اِتنے پتلے دِل والے مالک ! ہم بھی روز

اِس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں جی

ایسے موقعوں پر

مجید امجدؔ۔ 6نومبر ، 1969 ۔ ساہیوال ۔

اِس نظر نہ آنے والی دنیا میں وقت گزارنا ایک طرح کی دشت نوردی ہے۔ اِس دنیا میں سفر کے لئے کوئی سمت متعین نہیں ہے۔ ہر طرف ریت ہی ریت ہے۔ باد ِ صر صر ایک ٹیلے سے ریت کو اُڑا اُڑا کر لے جاتی ہے اور کسی دوسری جگہ پر ٹیلہ بنا ڈالتی ہے۔ منظر اور پس منظر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی اِس ویرانی کے سفر سے خوف بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ منیر ؔ نیازی لکھتے ہیں

رہتا ہے اِک ہراس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

چلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھ