Rag Sabha: An Urdu Short Story by Talat Afroze

راگ سبھا

طلعت افروز

میَں جو تیری راگ سبھا میں راس رچانے آیا تھا

دِل کی چھنکتی جھانجھن تیری پازیبوں میں ٹانک چُکا

مجید امجد

گیت شروع ہونے ہی والا تھا ۔ ۔ ۔ سٹیج پر پس منظر میں کالے پردے لٹکے ہوئے تھے، آرکیسٹرا کے ساز بجانے والوں نے اور اُن سب کے سرخیل آرکیسٹرا کنڈکٹر نے سیاہ بُش شرٹ اور سیاہ پتلوُنیں پہن رکّھی تھیں ۔ ۔ ۔ صرف وڈیو کیمرہ مین اور سنتھے سائزر بجانے والے صاحب اپنے کپڑوں میں آئے ہوئے تھے۔ کورس سنگرز نے شوخ، بھڑکیلے لباس اور شو کے میزبان نے ایک چمک دار گہرا نیلا مُغلئی کُرتا پہنا ہؤا تھا اور یہ سب لو گ سٹیج پر پیچھے کی طرف سازندوں کی آخری قطار کے ساتھ کُرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ سٹیج کے درمیان میں، سب سے آگے، ایک انکل اور ایک جوان گلوُکارہ کھڑے تھے۔ انکل نے گیت شروع کیا جو کہ بمبئی سینما کے سنہرے دوَ ر کا، مکیش اور شاردا کا گایا ہؤا، ایک مقبول روُمانوی گیت تھا ۔ ۔ ۔

چلے جانا، ذرا ٹھہرو، کسی کا دَم نکلتا ہے ۔ ۔ ۔

انکل کی آواز میں اُن کے جوانی یا کالج کے دنوں والا طنطنہ بہت حد تک ابھی باقی تھا ۔ وُہ خوش قسمت تھے کہ اُن کے بال ابھی تک بھرپور طور پر برقرار تھے جنہیں وُہ سمارٹ سٹائل میں کٹوا کر مناسب حد تک کالا رنگ دیے ہوئے تھے۔ لڑکی کے ہاتھ میں شادی کی انگوٹھی نمایاں تھی ، شکل کچھ کچھ روُ نا لیلا سے مِلتی تھی اور آواز تو بالکل عین مین شاردا جیسی تھی۔

ہال تقریباً آدھا بھرا ہؤا تھا اور پوری پوری فیمیلیز آئی ہوئیں تھیں۔ اوپر گیلری میں بھی لوگ بیٹھے تھے۔ ایک دو وڈیو کیمر ے کرین پر بھی لگائے گئے تھے جو سٹیج کے سازندوں، کورس سنگرز اور ہال میں بیٹھے چھوٹے بڑوں کے اوپر سے اور چہروں کے برابر سے گرزتے ہوئے وڈیو شاٹ بناتے جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ پچھلی نشستوں پر بیٹھے لوگوں میں کچھ عورتیں گیت کے بولوں کو خود بھی گا رہی تھیں جب کہ مرد ہاتھ اُٹھا کر داد دے رہے تھے ۔ ایک بیوی گا رہی تھی اور اُس کا شوہر اپنے موبائیل فون میں کچھ پڑھ رہا تھا۔ ایک عورت کے ننھے مُنّے کا نیپی بدلنے کا وقت ہو گیا تھا اور وُہ سیٹ سے اُٹھ کر اور بچے کو سیٹ پر لِٹا کر یہ فرض پورا کر رہی تھی ۔ پیچھے کی کچھ سیٹوں پر تین بچّے بیٹھے آگے بیٹھے لوگوں پر چُپکے چُپکے ہنس رہے تھے۔ جب کیمرہ اُن کی طرف بڑھا تو بڑی بہن نے سب کو خبردار کر دیا اور وُہ تینوں سپاٹ چہرے بنا کر آگے کو دیکھنے لگے۔

اَستائی کے دوران کیمرہ آرکیسٹرا کی طرف گھوُما ۔ ۔ ۔ کنڈکٹر اپنی چھڑی کو گیت کی تال پر لہرا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بونگو ڈرمز اور الیکٹرانک ڈرم پیڈ والے سازندے کے قریب کھڑے ہو کر اُنہیں گیت کے بولوں کی مناسبت سے کوئی مزاحیہ واقعہ بھی سُناتے جا رہے تھے جس پر بونگو ڈرمز والا سازندہ ہنسنے لگا تھا ۔ ۔ ۔ آرکیسٹرا کی اندرونی زندگی گیت سے جُدا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

گیت کا مُکھڑا/اَستائی ختم ہوئی۔ الیکٹرک آرگن/سنتھے سائزر پر بیٹھے سفید خشخشی ڈاڑھی والے صاحب بین کالر والے بھوُرے کرُتے اور سلیٹی واسکٹ کے ساتھ ساتھ مغربی فیشن والے چھوٹے ہیٹ میں، جو شو بِز کے لوگوں میں مقبول ہے، سج رہے تھے۔ اُنہوں نے سنتھے سائزر کی ایک کَل دبائی اور گیت کے اَنترے کے شروع ہونے سے پہلے اُن کے ساز میں سے جل ترنگ کی آواز میں سُر نکلنے لگے ۔ ۔ ۔

اُن لوگوں کی وڈیو بھی بنائی جا رہی تھی جو سب سے آگے کی نشستوں پر براجمان تھے۔کیمرہ اگلی قطار کے پاس سے گزرا۔ کیمرے کی موجودگی میں گیت پر کوئی تاءثر دینے سے پہلے پینتس /چالیس سالہ بیوی نے ساتھ بیٹھے خاوند پر نگاہ ڈالی ۔ ۔ ۔ جب شوہر کے چہرے پر سنجیدگی دیکھی تو بیگم نے بھی پکّا سا منہ بنا لیا۔ یہ سب ایک دو سیکنڈ میں ہو گیا۔ ہائے شادی میں بیتے سالوں کی دی ہوئی ٹریننگ ۔ ۔ ۔

اِس جوڑے کے ساتھ ہی وڈیو کیمرے کو دو ساٹھ/پینسٹھ سالہ بہنیں بیٹھیں نظر آئیں جن میں سے ایک گیت میں کھوئی ہوئی تھی جب کہ دوُسری اپنی بہن کو طنز اور غُصّے سے گھوُ رے جا رہی تھی ۔ ۔ ۔ اُسے کیمرے کی موجودگی کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔ ۔ ۔ دونوں بہنیں بُڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر زمانے سے بے پرواہ ہو چُکی تھیں۔ اُن دونوں کی زندگی دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی آنکھوں کے سامنے سے گرز کر اور دوُر کوئی موڑ مُڑ کر آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی ۔ وُہ دونوں سماج کے ہتھکنڈوں کے ہانکے میں آئی ہوئی اور مصلحتوں کی بیڑیوں میں بندھی بندھی اب آخیر میں زندگی کے سُنسان، ویران صحن میں اپنے آپ کو پاتی تھیں۔ شاید مزید اداکاری کرتے رہنا اب اُن کے بس سے باہر تھا۔ وُہ گھوُرتی ہوئی نظریں اپنی بہن کے جوانی میں کیے گئے کسی فیصلے پر آج پھر اُس سے ناراض نظر آ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ یہ گیت سُننے پر وُہ نگاہیں بہناپے کے بخشے ذاتی رازوں کے عِلم کے بل بوُتے پر آج پھر ایک پُرانا زہریلا تبصرہ دُہرا رہی تھیں ۔ ۔ ۔

کرین شوَٹ کیمرہ گُلوکاروں کے پیچھے چلا گیا تاکہ ہال میں بیٹھے لوگوں کی وڈیو بنائے۔ پہلی قطار کے صوفوں پر سفید غلاف چڑھے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ درمیانی صوفے پر ایک تیس/پینتیس سالہ خوبصورت عورت نارنجی ساڑھی پہنے ہوئے، اپنے سَر کو غروُ ر سے ذرا سا ٹیڑھا کیے ہوئے، جوان گلوُکارہ کو ایک خفیف زہریلی مُسکراہٹ کے ساتھ دیکھے جا رہی تھی۔ وُہ صوفے پر بڑے اعتماد سے بیٹھی ہوئی تھی۔ جو دو مرد اُسی صوفے پر بیٹھے تھے وُہ اُس سے کچھ مرعوُب نظر آ رہے تھے اور صوفے پر جگہ ہونے کے باوجود اُس عورت سے ذرا ہٹ کر صوفے کے دوسرے سِرے پر بیٹھے تھے اور کبھی کبھی کنکھیوں سے اُسے دیکھ لیتے تھے۔ جب کرین کیمرہ پہلی قطار کے سامنے سے گُزرنے لگا تو اُس وقت بھی اُس کی نگاہوں کی ٹکٹکی نہ ٹوُٹی اور وُہی حقارت بھری مُسکان اُس کے لبوں پر موجود رہی۔ وڈیو کیمرہ اُس کے بالکل سامنے آ گیا تو اُس کی پُشت پر اُس کے نام کے آخری حُروُف سفید غلاف پر چھَپے ہوئے دکھائی دیے ۔ ۔ ۔کسی این۔ جی۔ او۔ کی اُس چئیر پرسن نے ایک طنز بھری اُچٹتی نظر کیمرے پر ڈالی اور پھر سے نظروں کی بندوق گُلوکارہ پر تان لی ۔ ۔ ۔ شاید کسی سہیلی نے اُس گلوُکارہ کے بارے میں اُسے کوئی خطرے کی گھنٹی سُنائی تھی جس کو بہ ذات ِ خود سُننے کے لیے وُہ اِس محفل میں آئی تھی ۔

وڈیو کیمرہ پھر اگلی قطار کے ایک سِرے پر پہنچ چُکا تھا۔ یہاں آگے کے صوفوں والی صف اور پیچھے دوُسری قطار میں بیٹھے کچھ لوگ ایک دوسرے کے قریب ہو کر گیت میں محو تھے۔ یہ دو اُدھیڑ عمر شادی شُدہ جوڑے تھے اور مِڈل کلاس کے پروفیشنل لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ دونوں بیویاں پڑھی لکھی اور اچھے عہدوں پر ملازمت کرنے والی عورتیں لگ رہی تھیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ برابری کے انداز میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اور لگتا تھا جیسے وُہ دو بھائی اور اُن کی بیویاں ہوں۔ جب گیت کے آخری انترے کے وُہ بول آئے جن میں اپنائیت اور سپُردگی بسی ہوئی تھی تو یہ چاروں بیاہتا لوگ ایک ساتھ سَر ہلانے لگے اور لگا جیسے یہ چاروں اپنے گھر کی بیٹھک یا بڑے کمرے میں اکٹھے بیٹھے گیت سُن رہے ہوں۔ وُہ ہال سے اور ہال میں موجود دوسرے لوگوں سے بے نیاز ہو کر گیت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ بڑے بھیّا گیت کی لَے کے ساتھ وَجد میں ہاتھ لہرا رہے تھے ۔ ۔ ۔ اُن کی آنکھیں کچھ کچھ بھیگی ہوئی تھیں۔ چھوٹے بھائی کے چہرے پر ایک لطیف مُسکراہٹ تھی جب کہ اُن کی بیگم کا چہرہ سنجیدہ تھا اور دونوں میاں بیوی سُروں کے ساتھ جھوُم رہے تھے۔ اُن کی بھابھی ٹانگ پہ ٹانگ اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھّے بیٹھی تھیں لیکن سٹیج کی سمت دیکھتے ہوئے بھی اُن کی آنکھیں دوُر کسی سوچ پہ مرکوُز تھیں اور وُہ ہَولے ہَولے ہتھیلی سے دوسرے ہاتھ کی پُشت کو تھپتھپاتے ہوئے جیسے اپنے آپ کو کچھ سمجھا رہی تھیں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s