Saltanat Qaiser: A Rising Star in Modern Urdu Ghazal

سلطنت قیصر : جدید اُردوُ غزل کا ایک اُبھرتا ہؤا سِتارہ

شعری تبصرہ: طلعت افروز، ٹورونٹو۔

To read a wide selection of Saltanat Qaiser’s Urdu Ghazals, please go to Dareechah web site’s Saltanat Qaiser web page.

شعری تخلیق کو بے باک اور بے لاگ ہونا چاہئیے اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب شاعری اِتنی سچّی اور پُر خلوُص ہو جیسے خود کلامی ۔ ۔ ۔ جان سٹؤرٹ مِل نے سنہ 1833 میں اپنے مقالے شاعری کیا ہے؟ میں کیا خوب کہا تھا کہ شاعری ایک ایسی خود کلامی ہے جسے قاری نے سُن لیا ہو ۔ ۔ ۔

مگر ہم جذبے کی قدر و قیمت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ اِس لیے شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ شاعری احساس کی نازکی اور محبّت کے جذبے سے یوُں سرشار ہو کہ شعر پڑھتے ہی قاری کو مسحوُرکر دے ۔ ۔ ۔

میَں جب بھی سلطنت قیصر کی غزلیں پڑھتا ہوُں مجھے ایک منفرد لہجہ جھلکتا نظر آتا ہے جو قاری کی توجہ شعر کی جانب بار بار مرکوُز کرتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ گُداز لہجہ خلوص لئے ہوئے ہے، گہرائی رکھتا ہے اور سُخن کی اُس کسوٹی پر پورا اُترتا محسوس ہوتا ہے جس کے مطابق اعلٰی شعر وہی ہے جسے پڑھتے ہی دل پر ایک چوٹ پڑے ۔ ۔ ۔

اِس وقت سلطنت قیصر کا ایک شعر یاد آ رہاہے ۔ ۔ ۔

تجھے مِلنا نہیں یہ بات طے ہے
مگر یہ بات اِمکانی رہے گی

اِس شعر کو پڑھ کر مجھے فہمیدہ ریاض کی شروع شروع کی نظموں میں سے ایک نظم آخری باریاد آتی ہے جو شروع ہوتی ہے اِن سطروں سے

ہم جو یوُں پھر رہے ہیں گبھرائے
آخری بار اُن سے مِل آئے

اور جس کی آخری سطریں یوُں ہیں


تھرتھراتے لبوں سے دے کے دُعا

عُمر بھر کے لیے وِداع کیا

مگر اب تک یہ سوچ ہے دل میں

اُن سے اِک بار اور مِل آئیں

خوبصورت اظہار لیے ہوئے سلطنت قیصر کی یہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ غزلیں میری نظر میں جدید اردو شاعری میں ایک نیا انداز ِ تحریر ہے ۔ ۔ ۔ ایک نیا اُسلوب ِ بیان ہے ۔ ۔

دل سے نکلا نہ دھیان میں آیا
وُہ یقیں سے گُمان میں آیا

سلطنت قیصر کی غزلوں میں کچھ الفاظ بار بار روُ نما ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ جیسے بارش، آئینہ، درخت ۔ ۔ ۔ شاید یہ علامتیں ہیں ۔ ۔ ۔

درخت کا تصور اُن کے شعروں میں اپنے سبز پتّوں کی ٹھنڈی چھاؤں سے اور درخت میں بستے پرندوں کی معصوم چہکار سے ممتا، حفاظت اور بسنے کی ایک کیفیت اُجاگر کرتا ہے۔ ۔ ۔

چھوڑ کر اجنبی زمینوں کو
گھر بناؤں نیا درختوں میں

گوُنجتی ہے ہَوا درختوں میں
گیت ہے شام کا درختوں میں

چاپ کی طرح پتّے گِرتے رہے
کوئی چلتا رہا درختوں میں

میَں پرندوں سے بات کرتی ہوُں
توُ مجھے چھوڑ جا درختوں میں

آئینہ اُن کی غزلوں کے جہان میں ایک جادوئی عمل کے ذریعے ہمزاد ، ہمسفر اور خود اپنی ذات کی پہچان کا باعث بنتا ہے ۔ ۔ ۔

آئینہ رکھ کے سامنے اپنے
تیری حیرانگی سے بات کروُں

آئینے سے مِلا نشان تِرا
خود پہ ہونے لگا گُمان تِرا

آئینوں میں اُچھال دوُں آنکھیں
اور پھر آئینوں سے دوُر رہوُں


بارش شاید اُن کی شعری سلطنت میں دھرتی اور آکاش کے وصل اور سپردگی کی علامت ہے ۔ ۔ ۔

خوابوں کی دہلیز بھگوتی رہتی ہے
کوئی بارش ہے جو ہوتی رہتی ہے

دھنک مٹّی میں گھُلتی جا رہی ہے
وُہ بارش میں پگھلتا جا رہا ہے

ساتھ بارش کے ہَوا کی مانند
کیوں نہ کچھ وقت گزارا جائے

زرد پتّوں کی بارشوں میں پھروُں
اور تِرے راستوں سے دوُر رہوُں

سلطنت قیصر کی غزل میں پرندے کا تصّور یا استعارہ جگہ جگہ نمودار ہوتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ انسانی خواہش کا پرندہ ہے، ارمانوں اور آشاؤں کا سِمبل ہے، عمر ِ لازوال یا نِروان کا علم بردار ہے، انسانی روُح کی ایک آزاد چھلانگ ۔ ۔ ۔ حالات کی بیڑیوں کو توڑتا ہؤا دیومالائی پرندے فینکس کی طرح اُوپر ہی اُوپر اُٹھتا ہؤا ۔ ۔ ۔

تھا پرندہ حنوُط کمرے میں
ایک پر ہی اُڑان میں آیا

جا چُکا تیرے آسمانوں سے
جو پرندہ تھا اُڑ رہا مجھ میں

سلطنت قیصر کی غزلوں میں سبز رنگ ایک استعارے کے طور پر بار بار ظاہر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے سبز رنگ خوشی، نمود، فروغ، تخلیق اور افزائش کے تمام معنی اپنے اندر سمیٹے ہوئے اُن کے شعروں میں جلوہ گر ہو رہا ہو۔

نم ہو اور سبز ہو
ایسا ایک سال ہو

سبز موسم پلٹ نہیں سکتا
پھ
وُل کو شاخ میں لگانے سے

سبز شعلوں کو پھوُنک دیتی ہے
بارشوں کی ہَوا درختوں میں

سلطنت قیصر کی غزل میں نئی شبیہیں ہیں، نیا بیانیہ ہے اور نئے استعارے ہیں جو سیدھے دل میں گھر کرتے چلے جاتے ہیں

کچھ سفر ہے تنہائی
کچھ سفر اُداسی ہے

اختصار اور سادگی بھی حُسن کے خواص ہیں جو سلطنت قیصر کی تحریروں میں نمایاں نظر آ رہے ہیں

رنگ پھیکا پڑ گیا
یاد کے لباس کا

میَں ہوُں ایک حادثہ
تیرے آس پاس کا

دھیما دھیما لہجہ ۔ ۔ ۔ ہلکی ہلکی آنچ دیتا جذبہ ۔ ۔ ۔ ہَولے ہَولے دل میں گھر کرتا ہؤا انداز ِ بیان ۔ ۔ ۔ جیسے رات گئے کوئی اپنی داستان بیان کر رہا ہو، اپنی کہانی سُنا رہا ہو ۔ ۔ ۔

کان آہٹ پہ رکھ کے لوٹ آؤُں
اور پھ
ر دستکوں سے دوُ ر رہوُں

زرد پتّوں کی بارشوں میں پھِروُں
اور تِرے راستوں سے دوُر رہوُں

طلعت افروز، ٹورونٹو۔ مئی 30، سنہ 2020۔

Khaabon ki Dehleez - Cropped

Udaasee hai-01 Cropped

Udaasee hai-02 Cropped

Subh Kee Roshni cr

Shaam Ghubaar 1

Shaam Ghubaar 2

Saltanat Qaiser New-2018-01

Saltanat Qaiser New 2018-02

Naqsh Gehraa-01 cropped

Naqsh Gehraa-02 cropped

Hijr Ho Visaal Ho Cropped

Goonjti Sada Cropped

Dil Say Niklaa

Dil Mohabbaton Waalay-1

Dil Mohabbaton Waalay-2

Darakhton mein-01 cropped

Darakhton mein-02 cropped

03-Shaam-a

03-Shaam-b

02-Nishaan Teraa-A

02-Nishaan Teraa-B

01-Bay Khabar-A

01-Bay Khabar-B

3 thoughts on “Saltanat Qaiser: A Rising Star in Modern Urdu Ghazal

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s