A Poem about Zahid Dar . . . A Pakistani Modern Urdu Poet

طویل نظم : کچھ زاہد ڈار کے بارے میں ۔ ۔ ۔
شاعر : طلعت افروز

اگر آپ لاہور کی مال روڈ پر

ٹولنٹن مارکیٹ والے چوک سے

پرانی انارکلی کی اور دیکھیں

تو اُدھر وُہ پرانا گھر ہے

جہاں شروع شروع میں ناصر کاظمی رہا کرتے تھے

اور لیڈی میکلےگن ہائی سکوُ ل ہے

جہاں دلیپ کمار کی پہلی محبّت ، کامنی کوشل

سنہ 1932 سے لے کر سنہ 1943 تک

اور بعد میں فریدہ خانم کی بیٹیاں پڑھا کرتی تھیں

ہاں تو ٹولنٹن مارکیٹ چوک سے

اگر آپ نئی انارکلی کی طرف نظر دوڑائیں

تو آپ کو ہر اتوار کی صبح اور باقی کئی دنوں کو بھی

بائیبل بُک سوسائیٹی کے باہر فٹ پاتھ پر لگے

پرانی کتابوں کے سٹالوں پر

جدید یورپی ادب، عالمی سیاست، تاریخ اور فلسفے کی

سستے داموں بِکتی پرانی کتابوں کی کھوج میں

ایک دُبلا پتلا اور بڑی بڑی سوچتی آنکھوں والا شخص دکھائی دے گا

یہ زاہد ڈار ہے ۔ ۔ ۔

شُنید ہے کہ اُسے ایک لڑکی سے پیار ہو گیا

اُس لڑکی نے کہا ۔ ۔ ۔

زاہد، کوئی نوکری ڈھونڈو اور میرے گھر والوں سے رشتہ مانگو

زاہد نے کہا

تم کیوں نوکری نہیں ڈھونڈتیں؟

کیا تم میرے پیار میں اِتنا بھی نہیں کر سکتیں؟

ضروری تو نہیں کہ میَں ہی نوکری کروُں ۔ ۔ ۔

اُس کے ابّا لدھیانہ میں سوشلسٹ لیڈر تھے

دوسری عالمی جنگ میں

ہندوستان کے نوجوانوں کی جبری بھرتیوں کے خلاف بولنے پر

برطانوی سامراج نے قید کر دیا تھا

وُہ سنہ 1945 میں جیل ہی میں وفات پا گئے تھے

اور اُسی سال زاہد کی آپا کو فلسفے میں ایم۔ اے۔ کرنے پر

ڈیڑھ سو روپے ماہانہ کی سرکاری نوکری مِل گئ تھی

جس سے وُہ تمام بہن بھائیوں کو پالنے میں لگ گئیں

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد

یہ کنبہ کرشن نگر لاہور میں آن بسا

زاہد نے اسلامیہ سکول سے میٹرک کر لیا

گورنمنٹ کالج میں، سنہ 1952 میں

انیس ناگی اور صفدر میر اُس کے دوست بنے

ایف۔ اے۔ کا امتحان نہ دے کر

سنہ 1954 میں زاہد گورنمنٹ کالج سے نکل آیا

گھر والوں نے بہتیری کوششیں کی

کہ زاہد کوئی کام کر لے

مظفّرگڑھ کے محکمہ خوراک میں کلرکی سے لے کر

کراچی کی شیر شاہ کالوُ نی میں دوائیاں پیَک کرنے تک

ہر جگہ وُہ زیادہ دیر نہ ٹِک سکا

آخری نوکری سے سنہ 1958 میں وُہ

بیماری کی حالت میں لاہور لَوٹا

تھک ہار کر بڑی بہن نے سمجھوتہ کر لیا ۔ ۔ ۔

جہاں بیچاری آپا والد کی وفات کے بعد سے

چھوٹے بہن بھائیوں کو پال رہی تھیں

اپنی سرکاری نوکری سے

وہیِں پلے پلائے زاہد کی بھی کفالت کرنے لگیِں ۔ ۔ ۔

زاہد کو کتابیں پڑھنے کا خبط تھا

اور اپنی ڈائری میں نظمیں لکھنے کی عادت تھی

شروع شروع میں وُہ پابند نظمیں تھیں

جو بعد میں آزاد نظمیں اور پھر نثری نظمیں بنتی چلی گئیں

سنہ 1958 سے وُہ صفدر میر کے ساتھ

پاک ٹی ہاؤس اور کافی ہاؤس جانے لگا

جہاں اُس کی دوستی انتظار حسین اور ناصر کاظمی سے ہوئی

صفدر میر نے زاہد کی ڈائری کی کچھ نظمیں

محمّد حسن عسکری کے رسالے سات رنگ میں

مادھو کے قلمی نام سے چھپوا دیِں

اُن نظموں کی دھوُم مچ گئی

ناصر کاظمی نے سب کو مادھو کی اصلیت بتا دی

پھر زاہد نے اصلی نام سے وُہ نظمیں

سویرا میں چھپوائیں

زاہد کو ہمیشہ سے عورتیں پسند تھیِں

البتّٰہ کوئی ذہنی خلفشار ۔ ۔ ۔

کوئی سب کلینکل ڈیپریشن ۔ ۔ ۔

اُسے آگے بڑھنے اور ساتھی اپنانے سے روکتا رہا

اُس لڑکی سے بات کو آگے نہ بڑھا سکنے پر

زاہد نے سنہ 1958 سے 1968 تک

دس قیمتی سال شراب نوشی کی نذر کر دیے

سنہ 1968 میں پاک ٹی ہاؤس کی ایک معروف شاعرہ

کشور ناہید اور اُن کے شوہر یوسف کامران نے

زاہد پر توجہ دینا شروع کی

یہ دونوں جب بھی رات گئے

اپنے کرشن نگر والے گھر کو جاتے ہوئے

زاہد کو نشے میں دھُت

مال روڈ پر بھٹکتا دیکھتے

تو اُسے اصرار کر کے گاڑی میں بٹھا لیتے

اپنے ساتھ گھر لے آتے اور

کھانا کھِلا کر اُس کے گھر چھوڑ آتے

کشور ناہید کی ہمدردی نے زاہد کو

شراب ترک کرنے پر راضی کر لیا

سویرا رسالے میں نظمیں چھپنے کے بعد سے

زاہد ڈار لاہور کے پرانی کتابوں کے بُک سٹالوں سے

کتابیں خرید کر پڑھتا رہا

اور اپنی ڈائری میں نظمیں لکھتا رہا

ہوتے ہوتے کرشن نگر والے گھر میں

زاہد کے کمرے میں

چھت تک کتابیں ہی کتابیں چھا گئیں

اور بڑے ہو چُکے بہن بھائیوں کے بچّے

زاہد کو میاں چچا کہہ کر پُکارنے لگے

زاہد ڈار دائروں میں گھوُمتی زندگی بسر کرتا رہا

کمرے سے پرانی کتابوں کی دکانوں تک

پھر پاک ٹی ہاؤس تک

پھر جیل روڈ پر انتظار حسین کی کوٹھی کے کتب خانے میں

پھر واپس کرشن نگر

اپنے کمرے میں اور کتابوں کے درمیان ۔ ۔ ۔

اُس نے لکھا تھا ۔ ۔ ۔

بے زاری کی اِنتہا اور خوشی کی اِنتہا

ہر طرف دائرے ہی دائرے ہیں

حقیقت دائروں کے سِوا اور کچھ بھی نہیں

نہ ہونے سے ۔ ۔ ۔ نہ ہونے تک

یہ ایک دائرہ ہے

درمیان میں موجودگی ہے

اور وُہ ایک خلاء ہے ۔ ۔ ۔

اب میَں اپنے خوابوں کے سہارے زندہ ہوُ ں

کچھ دیر پہلے میَں زندہ تھا

یا شاید یہ بھی ایک خواب ہے ۔ ۔ ۔

مارچ 21 سنہ 2022 ٹورونٹو میں ، زاہد ڈار کے گزر جانے کے ایک سال بعد لکھی گئی۔

حوالہ جات: جولائی سنہ 2009 میں جنگ کے انگریزی ایڈیشن میں چھپا فرح ضیاء صاحبہ کا زاہد ڈار سے لیا آخیری انٹرویو جو کہ انتظار حسین کی جیل روڈ پر واقع رہائش گاہ کے کتب خانے میں لیا گیا۔

زاہد ڈار کی نظم دائرہ میں سے منتخب سطور، صفحہ 13 مجموعہ تنہائی، سنگ ِ میل پبلی کیشنز، اشاعت سنہ 1988، لاہور، پاکستان۔

ذمہ دار پاکستانی ناشروں سے استدعا ہے کہ زاہد ڈار کی ڈائریوں کو اُن کے اہل ِ خانہ سے حاصل کریں اور اُن میں درج نظموں کو شائع کروائیں ، اردو ای۔بُک کی صورت میں بیچیں اور جدید اُردوُ شاعری پر تحقیق کرنے والے ایم۔ اے۔ ایم۔ فِل اور پی۔ ایچ۔ڈی کے طلباء کے لیے اور دیگر قارئین کے لیے مہیّا کریں۔ اگر اورئینٹل کالج لاہور، پاکستان کی یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اُردوُ کے صدوُر، پاکستان میں اردو ادب کے ٹھیکیدار وفاقی اور صوبائی اداروں اور کشور ناہید صاحبہ کو احساس ہو جائے تو زاہد ڈار کی غیر مطبوعہ شاعری کو ایک جامع کُلّیات کی صورت میں شائع کر وانے کے لیے تگ و دو کریں۔ وگرنہ پہلے کی طرح ہر سال شہر شہر لٹریری فیسٹیول اور بُک فئیر لگوانے، اِن میں شمولیت والی اپنی وڈیوز کو وائرل کروانے اور محلّوں میں خانہ دار خواتین کی ڈالی ہوئی بچت کمیٹیوں کی طرح کمیٹیاں ڈال ڈال کر اپنے اپنے ادبی دھڑوں اور ادبی مافیا گروہوں کے مشاعرے کروانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ وَ ما علینا الاالبلاغ ۔

Selected Poems of Fahmida Riaz فمہیدہ ریاض کی منتخب نظمیں

فمہیدہ ریاض (1946 – 2018) کی منتخب نظمیں

فہمیدہ ریاض سنہ 1946 کے برطانوی ہند  (برٹش  انڈیا )  میں اُتّر پردیش کے شہر میرٹھ کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم ِ ہند کے بعد یہ کنبہ پاکستان  آیا  اور   سندھ کے شہر حیدرآباد میں آن بسا۔ فہمیدہ کے والد ریاض الدین احمد  پاکستان  آنے  کے  بعد  صوبہ سندھ کے محکمہ ءِ تعلیم سے وابستہ تھے اور سندھ کے سکولوں میں جدید تعلیمی نظام کے لیے کام کر رہے تھے۔ جب فہمیدہ چار برس کی تھیں تو   سنہ 1950 میں اُن کے والد اِس دنیا سے چل بسے اور فہمیدہ اور اِن کی بہن نجمہ کو والدہ نے پالا پوسا۔ فہمیدہ نے فارسی، سندھی اور اردو ادب کے بارے میں اپنے لڑکپن میں سیکھا۔ فہمیدہ نے 15 برس کی عمر میں سنہ 1961 میں اپنی پہلی نظم لکھی جسے احمد ندیم قاسمی نے اپنے ادبی جریدے فنون میں لاہور  سے  چھاپا۔

فہمیدہ ریاض نے سنہ 1966 میں بی۔ اے۔ کی ڈگری حاصل کی۔ اِس کے بعد اُنہوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے ملازمت شروع کی۔سنہ 1967 میں فہمیدہ ریاض نے گھر والوں کی پسند سے شادی کی۔ شادی کے دو ماہ بعد اُن کی شاعری کا پہلا مجموعہ پتھر کی زبان کراچی کے مشہور اردو ناشر ملک نورانی کے اشاعتی ادارے مکتبہ ءِ دانیال نے چھاپا۔ شادی کے بعد وُہ شوہر کے ساتھ لندن چلی گئیں جہاں اُنہوں نے فلم سازی میں ایک ڈپلومہ حاصل کیا اور بی۔بی۔سی۔ ریڈیو  کی  اُردو  سروس  میں ملازمت اختیار کی۔ اِس شادی سے ایک بیٹی، سارا ہاشمی پیدا ہوئی ۔ یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور معاملہ طلاق تک پہنچا۔ قیاس ہے کہ بیٹی کو مطلقہ شوہر نے اپنے پاس رکھا اور اب سارا ہاشمی امریکہ میں قیام پذیر ہیں ۔ 

سنہ  1973  میں  فہمیدہ  ریاض  واپس  پاکستان  آ  گئیں۔  اُن  کا  دوسرا  شعری  مجموعہ  بدن  دریدہ   سنہ  1973  ہی  میں  کراچی  سے  شائع  ہؤا    جس کی نظموں میں ایک نئی اور پُر اعتماد شاعرہ کی جھلک نظر آئی۔ اِس مجموعے میں نظموں کے موضوعات کا انتخاب اپنی جراءت میں باغیانہ حدوں کو چھوُ رہا تھا اور دوسری طرف الفاظ کا ماہرانہ چُناؤ اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک نئی اور جارہانہ زبان کو جنم دے رہا تھا جسے اِس سے پہلے اردو شاعری میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اِس مجموعے کی بہت سی نظموں مثلاً گڑیا، مقابلہ ءِ حُسن اور اقلیمہ نے پاکستان کے ادبی ماحول کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اِس نئی شعری روایت نے پاکستان میں بہادر خواتین ادیبوں اور شاعرات کی ایک پوری کھیپ کو متاءثر کیا اور اِن سب خواتین لکھاریوں کی جد و جہد کو مزید جِلا بخشی۔ اِن پاکستانی عورتوں کی جنگ عورت کی آزادی کے لیے تھی۔ یہ لڑائی پاکستانی عورت کے معاشرتی مقام کے نئے سرے سے تعین کے بارے میں تھی اور اِس محاذ پہ فہمیدہ ریاض اُن کی ایک دلیر ساتھی بن کے اُبھریں ۔ فہمیدہ ریاض کا نام ایک استعارہ بن رہا تھا۔ اِن نئی لکھاری عورتوں میں سندھی شاعرہ عطیہ داؤد، پنجابی شاعرہ نسرین انجم بھٹی، اردو نثری نظم کی باغی شاعرہ سارا شگفتہ، افسانہ نگاروں میں فرخندہ لودھی، جمیلہ ہاشمی، ناول نگاروں میں زاہدہ حِنا  (نہ جنوں رہا، نہ پری رہی) اور بہت سے دوسرے نام شامل ہیں۔

یہ  سنہ  ستّر  کی  دہائی  کا  آغاز  تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی انقلابی سوچ رنگ لا چکی تھی اور ملک کے نوجوانوں میں ایک سیاسی بیداری جنم لے چکی تھی۔ فہمیدہ ریاض کے سیاسی نظریات بائیں بازو کی سوشلسٹ مارکسسٹ سوچ کی طرف مائل تھے اور وُہ مارکس کے نظام ِ معیشت، انسانی برابری، انسانی آزادی اور سرمائے کو شکست دے کر عوام کو خود مُختار بنانے کی حامی تھیں۔ اِسی جد و جہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اور چھوٹے صوبوں کے سیاسی حقوق کے لیے لڑتے ہوئے اُن کی ملاقات ایک سندھی مارکسسٹ سیاسی کارکن ظفر علی اُجّن سے ہوئی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رُکن اور بعد میں بے نظیر بھٹو کے ایک قریبی ساتھی کے طور پر اُبھرے۔ کیونکہ فہمیدہ ریاض اور ظفر علی اُجّن کے سیاسی نظریات بہت حد تک مِلتے جُلتے تھے اِس لیے دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اِس شادی سے فہمیدہ کے دو بچّے پیدا ہوئے، بڑی بیٹی ویرتا علی اُجّن اور چھوٹا بیٹا کبیر علی اُجّن جو بعد میں جوانی میں سمندر میں تیرتے ہوئے فوت ہو گیا ۔

Zafar Ali Ujjanظفر  علی  اُجّن

فہمیدہ اور ظفر نے مِل کر ایک رسالہ آواز نکالا جو عوام میں سیاسی بیداری پھیلانے کے لیے مضمون، انقلابی شاعری کے تراجم وغیرہ شائع کرتا تھا۔ شاعرہ عشرت آفرین نے بھی کالج کے زمانے میں اِس رسالے کے لیے کام کیا۔ سنہ 1977 میں فہمیدہ کا تیسرا شعری مجموعہ دھوپ شائع ہؤا جس کی نظمیں اکیلا کمرہ اور روٹی، کپڑا اور مکان مارشل لاء کے خلاف اور نئی سیاسی بیداری کے بارے میں تھیں۔      جب بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹا گیا اور جرنیل ضیاءالحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو سنہ 1981 میں رسالہ آواز کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی۔ فہمیدہ اور اُن کے شوہر پر پاکستان سے غدّاری کا مقدمہ قائم کیا گیا جس کی کچھ پیشیاں بھی فہمیدہ نے بھُگتیں۔ ظفر کو قید کر لیا گیا اور اِس سے پہلے کہ فہمیدہ بھی حراست میں لے لی جاتیں، کچھ ہمدرد دوستوں کی مدد سے فہمیدہ، اپنے دونوں بچوں ویرتا اور کبیر اور اپنی چھوٹی بہن نجمہ کے ساتھ بھارت مشاعرے میں شرکت کے بہانے سے پاکستان سے نکلنے اور دہلی، بھارت پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ پنجابی شاعرہ امرتا پریتم نے اندرا گاندھی سے سفارش کی اور یوں فہمیدہ کو بھارت میں سیاسی پناہ مل گئی۔ پاکستان میں اُن کے شوہر جرنیل ضیاء کی قید میں تھے۔ بعد ازاں بین الاقوامی سیاسی دباؤ کے بڑھنے پر جرنیل ضیاء کو ظفر اُجّن کو بھی رہا کرنا پڑا اور وُہ بھی بھارت آ گئے۔ فہمیدہ کے کچھ رشتے دار بھارت میں تھے اور اُنہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ملازمت مل گئ۔ اپنی جلا وطنی کے دوران فہمیدہ کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔ کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے ایک طویل نظم ہے جس میں پاکستان پر جرنیل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے زہریلے اثرات کا بیان ہے۔ اپنا جرم ثابت ہے اور ہم رکاب دیگر مجموعے تھے جو جلاوطنی میں چھپے۔ یہ کنبہ سات برس جلا وطن رہا اور جرنیل ضیاء کے طیارہ حادثے میں مرنے کے بعد ہی سنہ 1988 میں پاکستان واپس آ سکا جہاں اِن کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ 

پاکستان آنے کے بعد سنہ 1988 میں فہمیدہ ریاض کی سنہ 1967 سے لے کر سنہ 1988 تک کی شاعری کو ایک کلیات کی صورت میں بہ عنوان میَں مٹّی کی موُرت ہوُں شائع کیا گیا۔ سنہ 1999 میں آدمی کی زندگی کے عنوان سے اُن کی سیاسی جد و جہد سے متعلق نظمیں چھاپی گئیں۔ سنہ 2011 میں سنگ ِ میل پبلی کیشنز لاہور نے اُن کی کلیات سب لعل و گہر کے عنوان سے شائع کیں جس میں سنہ 1967 س لے کر سنہ 2011 تک کا کلام شامل تھا اور یہ کلیات ادبی ویب سائٹ ریختہ پر الیکڑانک کتاب (ای۔ بُک ) کے طور پر مفت پڑھی جا سکتی ہے۔ کچھ سالوں سے وُہ شدید علیل تھیں جس کی وجہ سے اُن کا فیس بُک اکاؤنٹ بھی خاموش ہو چکا تھا۔ آخری چند سالوں میں ایک نیا شعری مجموعہ موسموں کے دائرے میں تیار کیا جا رہا تھا مگر اُنہیں اِسے مکمل کرنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اُن کے جانے سے جدید اُردو شاعری اور پاکستانی شاعری ایک اہم اور دلیر آواز سے محروم ہو گئی  ۔

01 - Achaa Dil-01J02 - Achaa Dil-02J03 - Baithaa Hai-01J04 - Baithaa Hai-02J05 - Baithaa Hai-03J06 - Kuch Loag-AJ07 - Kuch Loag-BJ

08 - Kuch Loag-CJ09 - Kuch Loag-DJ10 - Akhri Baar-01J11 - Akhri Baar-02J12 - Hawks Bay-01J13 - Hawks Bay-02J

17 - Gayyaa-01J

18 - Gayyaa-02J19 - Akaylaa Kamraa-01J

19 - Akaylaa Kamraa-02J

19 - Akaylaa Kamraa-03J

19 - Akaylaa Kamraa-04J

20 - PooraChand Select001aJ

20 - PooraChand Select001bJ20 - PooraChand Select002aJ

20 - PooraChand Select002bJ

20 - PooraChand Select003 J20 - PooraChand Select004JAik Larrkee Say -01J

Aik Larrkee Say -02J

Aik Larrkee Say -03J

Aik Larrkee Say -04J

2018 November Zafar Ali Ujjan Lahore

نومبر  2018  میں  فہمیدہ  ریاض  کی  وفات  کے  بعد لی گئی  ظفر علی اُجّن کی ایک تصویر

 

 

 

 

 

The mood in Sarmad Sehbai’s poem “Mulaaqaat”

Sarmad Sehbai New York 1970's 1MB JJ

ہونے اور نہ ہونے کا غیبی موسم

تحریر   طلعت افروز

سرمد صہبائی کی  نظم  “ملاقات”  سے   جُڑی  کیفیت  کے  بارے  میں  طلعت افروز  کا  تجزیہ

سرمد صہبائی اپنی نظموں کے مجموعے پل بھر کا بہشت کی ایک خوبصورت نظم ’’ملاقات ‘‘ میں کہتے ہیں

ملاقات

دروازے پر کون کھڑا ہے ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

پل بھر سوچا

کون ہے ۔ ۔ ۔ شائد و ُہ آیا ہے

اِک لمحے کو اُس نے اپنی دہلیزوں پر

دریا ، بادل اور ہَوا کو رُکتے دیکھا

خواہش کی عُریاں بیلوں کو

اپنے دِل کی محرابوں پر جُھکتے دیکھا

اُس کے جسم کے اندر جاگے سُرخ پرندے
کمرے میں یکدم جیسے سورج دَر آیا

کیا یہ تم ہو . . . ؟ کیا یہ تم ہو . . . ؟

پیاسے ہونٹ پہ اُس کے نام کا رَس بھر آیا

او ہنس راج ، مِرے رنگ رَسئیے

گہری نیند میں کِھلنے والے سورج مُکھئیے

کیا یہ تم ہو . . . ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

دروازے کو کھول کے دیکھا

دوُر دوُر  تک ہونے نہ ہونے کا اِک غیبی موسم تھا

سرمد صہبائی ۔ 2008 ۔

جب کوئی ہم سے بچھڑ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ اکثر ایک حتّمی اور قائم رہنے والا اَمر ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ تو بچھڑنے والا ہمارے اندر بستے اپنے ایک جادوئی عکس کو ظاہر کر دیتا ہے۔ محبّت کے اوّلیں دنوں میں ، جب ہم سفر ہمارے ساتھ ہوتا ہے ، ہمارے اندر بستا یہ ہم زاد نما عکس اپنا آپا نہیں دِکھاتا۔ جدائی کے عمل سے گزرنے پر ہمارے اندر بستی یہ موجودگی ، یہ غیبی دنیا اپنے اوپر سے پردہ اُٹھاتی ہے۔

یہ ایک غیر مرئی جہان ہے جس میں ہمارا ساتھی ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی! اُس سے باتیں ہو سکتی ہیں اور اُس کے منہ سے اپنی مرادیں، اپنی آرزو ُئیں، اپنی تمنّائیں اپنی مرضی کے لفظوں میں سُنی جا سکتی ہیں۔ اُس سے گِلے شِکوے ہو سکتے ہیں ۔ اُس کے حُسن کا نظّارہ کیا جا سکتا ہے۔ اُس کے ساتھ گُزرا کوئی لمحہ پھر سے گزارا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایک خلوت کے حصار میں ہم بیٹھے اُسے تکے جا رہے ہیں۔ اُس کی ذات کا سحر سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے اور ہم مسحور ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ سرمد ؔ صہبائی نے اپنے ابتدائی دنوں کی ایک شاہکار نظم استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوُں مَیں کے ایک بند میں اِس طرف اشارہ کیا ہے

غَیب کے شہروں سے آتی ہے ہَوا
عکس سا اُڑتا ہے تیرے جسم کا
وصل کے دَر کھولتی ہیں انگلیاں
خون میں گُھلتا ہے تیرا ذا ئقہ
آتے جاتے موسموں کی اوٹ میں
تیرا چہرہ دیکھتا رہتا ہو ُں میَں
اِستعارے ڈھوُنڈھتا رہتا ہو ُں میَں
سرمد صہبائی ۔ 1976 ۔

 

خیالوں کی اِس دنیا کی جڑیں ہمارے تحت الشعور میں پیوست ہوتی ہیں۔ اور تحت الشعور ہم سے ہم کلامی کے لئے خوابوں کا سہارا لیتا ہے۔ہمارا سب کونشس مائنڈ یا تحت الشعور بول نہیں سکتا لیکن شبیہوں اور متحرّک تصویروں کے ذریعے ہم سے غیر لفظی باتیں کرتا ہے اور یہ متحرّک تصویریں ہمیں اپنے خوابوں میں نظر آتی ہیں۔ سو یہ غیبی دنیا ہمارے خوابوں میں بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔

مجید امجد ؔ نے اپنی ایک نظم کب کے مَٹّی کی نیندوں میں کے ایک بند میں کیا خوب کہا ہے کہ

کب کے مَٹّی کی نیندوں میں سو بھی چکے و ُہ

میری نیندوں میں اب جاگنے والے

ابھی ابھی تو ، میری دنیا ، سوئی ہوئی تھی

اُن کی جاگتی آنکھوں کے پہرے میں

ابھی ابھی و ُہ یہیں کہیِں تھے

میرے خوابوں کی عمروں میں

ابھی ابھی اُن کے مٹیالے ابد کی ایک ذرا سی ڈلی گھُلی تھی

اِن میری آنکھوں میں

اور دکھائی دیئے تھے ، میری خودبیں بینائی میں

و ُہ سب ٹھنڈے ٹھنڈے سُکھ ، جو

اُن کے دِلوں کا اُنس اور پیار تھے

میرے حق میں

ابھی ابھی تو اِس میری بے فہمی کی فہمید میں تھا

یہ سب کچھ

اور اب میرے جاگنے میں سب کھو گئے

و ُہ میری نیندوں میں جاگنے والے

مجید امجدؔ۔ 28 اکتوبر ، 1970 ۔ ساہیوال ۔

کبھی کبھی غیب کی یہ دنیا اِس حد تک ذہن پر حاوی ہو جاتی ہے کہ مِیت کے نہ ہونے کے احساس کو اور بھی شدّت سے محسوس کروانے لگتی ہے۔ اُس کے نہ ہونے کی کمی بار بار کسک دیتی ہے اور شا ید اِسی کیفیت کے بارے میں عدیمؔ ہاشمی نے لکھا تھا کہ

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ

بھو ُل جانے کے سِوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا

بچّے اِس غیبی دنیا سے بڑے مانوس ہوتے ہیں ۔ اُن کا تخئیل حد درجہ قوی ہوتا ہے اور ہماری یہ دنیا بچّوں کو بھی دُکھ دینے سے نہیں چوُکتی۔ چناچہ بہت سے بچّے اپنا ایک خیالی دوست یا سہیلی بنا کر اُس سے گھنٹوں باتیں کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر کا بچّہ زندہ ہوتا ہے وُہ دُکھوں کے چُنگل سے فرار کے لئے اِس غائب نگری میں پناہ ڈھونڈ نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجید امجد ؔ کی ایک نظم میں ایک منظر بیان ہوتا ہے جہاں خدا آسمانوں سے دنیا میں اُتر آیا ہے اور چُپ چاپ کھڑا ایک غریب بچّی کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ننھی سی بچّی بھی حقیقتوں کی دنیا سے نکل کر اپنے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی ہے اور اُس کے چہرے پر اُس کے دُکھ کی کتھا صاف پڑھی جا سکتی ہے

ننھی بھولی

ننھی بھولی، مَیلے مَیلے گالوں والی

بے سُدھ سی اِک بچّی

تیری جانب دیکھ رہی ہے ،

دیکھ اُس کی آنکھیں تیری توجّہ کی پیاسی ہیں

اُس کی نازک ، بے حِس ٹھوڑی کو اپنی انگلی

کی سنہری پور سے مَس تو کر، اور

اُس سے اِتنا تو پوچھ ، اچھّی بِلّو ! تو ُ کیوں چُپ ہے

اور جب و ُہ مُنہ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے

ہی چہرے پہ جھُکا لے

تو ُ ہی بڑھ کر اُس کے ماتھے کو اپنے

ہونٹوں سے لگا لے، ہاں ایسے ہی

کیوں ، اُس جھنجھیلو نے تجھ سے کہا کیا ؟

یہ کیا ؟ تیری آنکھیں بھیگ گئیں . . . ؟

کیوں . . . ؟

اُس نے تجھ سے کہا کیا ؟

ساتوں آسمانوں کے مالک

اِتنے پتلے دِل والے مالک ! ہم بھی روز

اِس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں جی

ایسے موقعوں پر

مجید امجدؔ۔ 6نومبر ، 1969 ۔ ساہیوال ۔

اِس نظر نہ آنے والی دنیا میں وقت گزارنا ایک طرح کی دشت نوردی ہے۔ اِس دنیا میں سفر کے لئے کوئی سمت متعین نہیں ہے۔ ہر طرف ریت ہی ریت ہے۔ باد ِ صر صر ایک ٹیلے سے ریت کو اُڑا اُڑا کر لے جاتی ہے اور کسی دوسری جگہ پر ٹیلہ بنا ڈالتی ہے۔ منظر اور پس منظر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی اِس ویرانی کے سفر سے خوف بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ منیر ؔ نیازی لکھتے ہیں

رہتا ہے اِک ہراس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

چلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھ