Har baar isee tarah say dunyaa … An Urdu poem by Majeed Amjad

ہر بار اِسی طرح سے دنیا ۔ ۔ ۔ مجید امجد کی ایک نظم
تحریر : طلعت افروز

Mustard Blossom -03

مجید امجد  میری رائے  میں  جدید  اردو  شاعری کا  پہلا  بڑا  نام  ہیں۔  مَیں  اُنہیں  جدید  اُردو  شاعری  کا  جدّ ِ امجد مانتا  ہوُں۔ پاکستان  کی  ادبی  فضا  کچھ  ایسی ہے  کہ  ادبی  دھڑے  بنے  ہوئے  ہیں  جن  کا  مقصد  روپیہ بنانا ہے۔  بُردباری، تحمّل،  تنقید میں ایمان داری عنقا ہیں۔  چناچہ مجید امجد کے بارے میں میری اوپر دی گئی رائے سے بہت سے پاکستانی ادبی دھڑے باز اتفاق نہیں کریں گے۔ خیر مجھے اِس کی پرواہ نہیں ہے۔  جو میری  “ہڈ بیتی”  ہے مجید امجد کی شاعری کے توسط  سے وُہ مَیں نے کہہ دی ہے۔ 

سنہ 1977 کی  بات  ہے  جب  لاہور  میں  ٹمپل  روڈ  پر  میَں  اپنے  ماں باپ کے  گھر  میں  ایک  کالج  طالبعلم تھا۔  مجھے گھر والوں نے دوسری منزل پر ایک الگ کمرہ دے رکھا تھا جس کی کھڑکی سے ہماری گلی کا درختوں بھرا منظر ہمیشہ نگاہوں کو تازگی بخشتا تھا۔  شرینہہ کا ایک دیو قامت درخت  کھڑکی کے باہر سایہ فگن تھا جس پر طوطے، کوّے، چڑیاں  شور مچاتے رہتے تھے، جس کے تنے پر گلہریاں کلیلیں کرتی تھیں اور جہاں ایک گرگٹ بھی سردیوں کی دھوپ سینکنے نکل آتا تھا۔ برساتوں میں ٹھنڈی ہوائیں شرینہہ کے پھولوں کے  ریشمی لچھوں کو اُڑاتی رہتی تھیں اور گہری کالی گھٹائیں ہماری گلی پر چھائی رہتی تھیں۔

  چونکہ ہمارے محلّے کے تمام مکان ایک ہندو ڈاکٹر صاحب نے آزادی سے پہلے اپنے رشتے داروں کے لیے بنوائے تھے اِس لیے سب مکان ایک ہی طرز کے تھے اور ہر مکان کی طرح میرے کمرے کی کھڑکی کے باہر بھی  لوہے کا بنا ہؤا ایک “اوم ”  کا  نشان نصب تھا جس سے منسلک ایک موٹی تار  زمین میں دفن تھی تاکہ آسمانی بجلی سے بچا سکے۔  مَیں ہر روز  سائیکل پر لارنس روڈ،  پھر جیل روڈ  اور پھر نہر والی سڑک سے ہوتے ہوئے ایف سی کالج جایا کرتا تھا  اور بی۔ایس۔سی کا طالبعلم ہونے کے ناطے پریکٹیکلز ختم کر کے دوپہر تین چار بجے گھر واپس آیا کرتا تھا۔ سائیکل پر اُس  روزانہ کے سفر کا حُسن آج بھی  دل کو گدگداتا ہے۔ اُن دنوں مَیں اپنی ہائی سکول کی ایک ہم جماعت کے خیالوں میں گُم تھا (حالانکہ اُسے میرے اِس رُجحان کا قطعی کوئی  علم نہ تھا ) اور شاعری مجھ  پر نئی نئی وارد ہو رہی  تھی۔ اُن دنوں ٹی۔ وی۔ پر مجید امجد کی وفات کے بعد چھپنے والی اُن کی شاعری کے  مجموعے  “شب ِ رفتہ کے بعد” کا بڑا چرچا تھا اور مَیں نے اپنے ابّو سے پیسے لے کر وُہ کتاب خرید لی تھی۔ یہ کتاب جلد ہی مارکیٹ سے غائب ہو گئی  جیسے مجید امجد کے کسی دشمن نے ساری کاپیاں خرید کر چھُپا دی ہوں یا ضائع کر دی ہوں۔ بہر حال یہ کتاب میرے لیے جدید  اردو شاعری کا ایک صحیفہ ثابت ہوئی۔

یہاں آج اپنے بلوگ پر مجید امجد کی ایک خوبصورت نظم اپ لوڈ کر رہا ہوُں تاکہ پاکستان کے نوجوان لڑکے لڑکیاں، اُبھرتے ہوئے شاعر اور ادیب ، جو  شاید ابھی سکول، کولج یا یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں یا پھر ڈگری لے کر نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہیں مجید امجد کے فن سے روُشناس ہو سکیں۔  دعا ہے کہ مجید امجد کا فن اُن کی بھی ویسے ہی رہنمائی کر سکے جیسے بہت سال پہلے اُن کی شاعری نے میری تربیت کی تھی۔

نظم     بہار
مجید امجد

ہر بار ،  اِسی  طرح  سے  دنیا
سونے کی ڈلی سے ڈھالتی ہے
سرسوں کی کلی کی زرد موُرت
تھاما  ہے  جسے  خم ِ ہَوا  نے

خم : بازوُ کا اوپر والا نصف حصّہ
(فیروز اللغات)

ہر  بار ، اِسی  طرح  سے   شاخیں
کھِلتی   ہوئی     کونپلیں    اُٹھائے
رستوں کے سلاخچوں سے لگ کر
کیا  سوچتی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ کون جانے

ہر بار ، اِسی  طرح  سے  بوُندیں
رنگوں بھری بدلیوں سے چَھن کر
آتی   ہیں   مسافتوں    پہ    پھیلے
تانبے  کے   ورق   کو  ٹھنٹھنانے

ہر   سال ، اِسی  طرح   کا   موسم
ہر   بار،   یہی     مہکتی    دوُری
ہر   بار،   یہی     کٹھور      آنسو
رونے  کے  کب  آئیں  گے زمانے ؟

مجید امجد، ساہیوال۔ 28 جنوری، سنہ 1961 ۔
ص ۔ 362، کلیات ِ  مجید امجد، مرتب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، ماورا پبلشرز، لاہور سنہ 1988۔

   

The mood in Sarmad Sehbai’s poem “Mulaaqaat”

Sarmad Sehbai New York 1970's 1MB JJ

ہونے اور نہ ہونے کا غیبی موسم

تحریر   طلعت افروز

سرمد صہبائی کی  نظم  “ملاقات”  سے   جُڑی  کیفیت  کے  بارے  میں  طلعت افروز  کا  تجزیہ

سرمد صہبائی اپنی نظموں کے مجموعے پل بھر کا بہشت کی ایک خوبصورت نظم ’’ملاقات ‘‘ میں کہتے ہیں

ملاقات

دروازے پر کون کھڑا ہے ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

پل بھر سوچا

کون ہے ۔ ۔ ۔ شائد و ُہ آیا ہے

اِک لمحے کو اُس نے اپنی دہلیزوں پر

دریا ، بادل اور ہَوا کو رُکتے دیکھا

خواہش کی عُریاں بیلوں کو

اپنے دِل کی محرابوں پر جُھکتے دیکھا

اُس کے جسم کے اندر جاگے سُرخ پرندے
کمرے میں یکدم جیسے سورج دَر آیا

کیا یہ تم ہو . . . ؟ کیا یہ تم ہو . . . ؟

پیاسے ہونٹ پہ اُس کے نام کا رَس بھر آیا

او ہنس راج ، مِرے رنگ رَسئیے

گہری نیند میں کِھلنے والے سورج مُکھئیے

کیا یہ تم ہو . . . ؟

عمروں کی تنہائی میں لیٹی عورت نے

دروازے کو کھول کے دیکھا

دوُر دوُر  تک ہونے نہ ہونے کا اِک غیبی موسم تھا

سرمد صہبائی ۔ 2008 ۔

جب کوئی ہم سے بچھڑ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ اکثر ایک حتّمی اور قائم رہنے والا اَمر ہی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ تو بچھڑنے والا ہمارے اندر بستے اپنے ایک جادوئی عکس کو ظاہر کر دیتا ہے۔ محبّت کے اوّلیں دنوں میں ، جب ہم سفر ہمارے ساتھ ہوتا ہے ، ہمارے اندر بستا یہ ہم زاد نما عکس اپنا آپا نہیں دِکھاتا۔ جدائی کے عمل سے گزرنے پر ہمارے اندر بستی یہ موجودگی ، یہ غیبی دنیا اپنے اوپر سے پردہ اُٹھاتی ہے۔

یہ ایک غیر مرئی جہان ہے جس میں ہمارا ساتھی ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی! اُس سے باتیں ہو سکتی ہیں اور اُس کے منہ سے اپنی مرادیں، اپنی آرزو ُئیں، اپنی تمنّائیں اپنی مرضی کے لفظوں میں سُنی جا سکتی ہیں۔ اُس سے گِلے شِکوے ہو سکتے ہیں ۔ اُس کے حُسن کا نظّارہ کیا جا سکتا ہے۔ اُس کے ساتھ گُزرا کوئی لمحہ پھر سے گزارا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ایک خلوت کے حصار میں ہم بیٹھے اُسے تکے جا رہے ہیں۔ اُس کی ذات کا سحر سر چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے اور ہم مسحور ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ سرمد ؔ صہبائی نے اپنے ابتدائی دنوں کی ایک شاہکار نظم استعارے ڈھونڈھتا رہتا ہوُں مَیں کے ایک بند میں اِس طرف اشارہ کیا ہے

غَیب کے شہروں سے آتی ہے ہَوا
عکس سا اُڑتا ہے تیرے جسم کا
وصل کے دَر کھولتی ہیں انگلیاں
خون میں گُھلتا ہے تیرا ذا ئقہ
آتے جاتے موسموں کی اوٹ میں
تیرا چہرہ دیکھتا رہتا ہو ُں میَں
اِستعارے ڈھوُنڈھتا رہتا ہو ُں میَں
سرمد صہبائی ۔ 1976 ۔

 

خیالوں کی اِس دنیا کی جڑیں ہمارے تحت الشعور میں پیوست ہوتی ہیں۔ اور تحت الشعور ہم سے ہم کلامی کے لئے خوابوں کا سہارا لیتا ہے۔ہمارا سب کونشس مائنڈ یا تحت الشعور بول نہیں سکتا لیکن شبیہوں اور متحرّک تصویروں کے ذریعے ہم سے غیر لفظی باتیں کرتا ہے اور یہ متحرّک تصویریں ہمیں اپنے خوابوں میں نظر آتی ہیں۔ سو یہ غیبی دنیا ہمارے خوابوں میں بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔

مجید امجد ؔ نے اپنی ایک نظم کب کے مَٹّی کی نیندوں میں کے ایک بند میں کیا خوب کہا ہے کہ

کب کے مَٹّی کی نیندوں میں سو بھی چکے و ُہ

میری نیندوں میں اب جاگنے والے

ابھی ابھی تو ، میری دنیا ، سوئی ہوئی تھی

اُن کی جاگتی آنکھوں کے پہرے میں

ابھی ابھی و ُہ یہیں کہیِں تھے

میرے خوابوں کی عمروں میں

ابھی ابھی اُن کے مٹیالے ابد کی ایک ذرا سی ڈلی گھُلی تھی

اِن میری آنکھوں میں

اور دکھائی دیئے تھے ، میری خودبیں بینائی میں

و ُہ سب ٹھنڈے ٹھنڈے سُکھ ، جو

اُن کے دِلوں کا اُنس اور پیار تھے

میرے حق میں

ابھی ابھی تو اِس میری بے فہمی کی فہمید میں تھا

یہ سب کچھ

اور اب میرے جاگنے میں سب کھو گئے

و ُہ میری نیندوں میں جاگنے والے

مجید امجدؔ۔ 28 اکتوبر ، 1970 ۔ ساہیوال ۔

کبھی کبھی غیب کی یہ دنیا اِس حد تک ذہن پر حاوی ہو جاتی ہے کہ مِیت کے نہ ہونے کے احساس کو اور بھی شدّت سے محسوس کروانے لگتی ہے۔ اُس کے نہ ہونے کی کمی بار بار کسک دیتی ہے اور شا ید اِسی کیفیت کے بارے میں عدیمؔ ہاشمی نے لکھا تھا کہ

یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ

بھو ُل جانے کے سِوا اب کوئی بھی چارہ نہ تھا

بچّے اِس غیبی دنیا سے بڑے مانوس ہوتے ہیں ۔ اُن کا تخئیل حد درجہ قوی ہوتا ہے اور ہماری یہ دنیا بچّوں کو بھی دُکھ دینے سے نہیں چوُکتی۔ چناچہ بہت سے بچّے اپنا ایک خیالی دوست یا سہیلی بنا کر اُس سے گھنٹوں باتیں کر سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر کا بچّہ زندہ ہوتا ہے وُہ دُکھوں کے چُنگل سے فرار کے لئے اِس غائب نگری میں پناہ ڈھونڈ نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجید امجد ؔ کی ایک نظم میں ایک منظر بیان ہوتا ہے جہاں خدا آسمانوں سے دنیا میں اُتر آیا ہے اور چُپ چاپ کھڑا ایک غریب بچّی کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ننھی سی بچّی بھی حقیقتوں کی دنیا سے نکل کر اپنے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی ہے اور اُس کے چہرے پر اُس کے دُکھ کی کتھا صاف پڑھی جا سکتی ہے

ننھی بھولی

ننھی بھولی، مَیلے مَیلے گالوں والی

بے سُدھ سی اِک بچّی

تیری جانب دیکھ رہی ہے ،

دیکھ اُس کی آنکھیں تیری توجّہ کی پیاسی ہیں

اُس کی نازک ، بے حِس ٹھوڑی کو اپنی انگلی

کی سنہری پور سے مَس تو کر، اور

اُس سے اِتنا تو پوچھ ، اچھّی بِلّو ! تو ُ کیوں چُپ ہے

اور جب و ُہ مُنہ پھیر کے اپنی آنکھیں اپنے

ہی چہرے پہ جھُکا لے

تو ُ ہی بڑھ کر اُس کے ماتھے کو اپنے

ہونٹوں سے لگا لے، ہاں ایسے ہی

کیوں ، اُس جھنجھیلو نے تجھ سے کہا کیا ؟

یہ کیا ؟ تیری آنکھیں بھیگ گئیں . . . ؟

کیوں . . . ؟

اُس نے تجھ سے کہا کیا ؟

ساتوں آسمانوں کے مالک

اِتنے پتلے دِل والے مالک ! ہم بھی روز

اِس چہرے کی کتھا سنتے ہیں

ہم تو کڑا کر لیتے ہیں جی

ایسے موقعوں پر

مجید امجدؔ۔ 6نومبر ، 1969 ۔ ساہیوال ۔

اِس نظر نہ آنے والی دنیا میں وقت گزارنا ایک طرح کی دشت نوردی ہے۔ اِس دنیا میں سفر کے لئے کوئی سمت متعین نہیں ہے۔ ہر طرف ریت ہی ریت ہے۔ باد ِ صر صر ایک ٹیلے سے ریت کو اُڑا اُڑا کر لے جاتی ہے اور کسی دوسری جگہ پر ٹیلہ بنا ڈالتی ہے۔ منظر اور پس منظر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی اِس ویرانی کے سفر سے خوف بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ منیر ؔ نیازی لکھتے ہیں

رہتا ہے اِک ہراس سا قدموں کے ساتھ ساتھ

چلتا ہے دشت دشت نوردوں کے ساتھ ساتھ

A. Hameed (1928-2011) Urdu Novelist, Short Story Writer, Columnist, Children’s Author

 A Hameed-01 Cropped 1MB

گلاب کی ٹہنی سے لکھنے والا

تحریر :  طلعت افروز

About Talat Afroze, PhD

یہ کالم ۱۴ مئی، ۲۰۱۱ کو گوُگل بلوگ  سپاٹ   ’’نئی منزل ، نئی راہیں ! ‘‘ پر طلعت افروز نے شایع کیا جس کا انٹرنیٹ لنک یہ ہے 

  ہیلو ؟ !! السلام علیکم ! مسعود ، مَیں طلعت بات کر رہا ہو ُں ، ٹورونٹو سے 

دوسری طرف سے مسعود حمید کی مخصوص آواز آئی جو اُس کے ابو اور امی دونوں سے ملتی جلتی تھی

’’ ہاں ! طلعت ! وعلیکم السلام 

’’مسعود ، بڑا دُکھ ہؤا خبر سُن کر ! ہمارا ایک بہت بڑا اثاثہ ہم سے کھو گیا ہے ‘‘

ہاں ، بالکل ! ‘‘ مسعود کھوئی کھوئی سی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ ’’مجھے بھی یقین نہیں آ رہا۔ لگتا ہے ابّو ُ ابھی بھی اپنے کمرے میں ہیں اور ابھی اُٹھ کر ہمارے پاس آ جائیں گے ۔ امی تو بالکل تنہا رہ گئی ہیں ۔ کوشش کرتا ہو ُں کہ اُنہیں اکیلا نہ چھوڑو ُں ۔‘‘ کچھ دیر مزید بات ہوتی رہی اور پھر مَیں نے اجازت چاہی اور فون رکھ دیا۔ میرے بڑے ماموں جان ، محترم اے۔حمید ، اردو ادب کے ایک کامیاب ناول نگار، 28 اور 29 ایپرل، 2011 کی درمیانی شب کو دنیا سے رُخصت ہو چکے تھے ۔

اپنے ماموں کے دنیا سے جانے پر آج مجھے مجید امجد ؔ کی نظم ’’دوام ‘‘ کی ایک سطر یاد آ رہی ہے

  کوئی دَم توڑتی صدیوں کے گِرتے چَوکھٹے سے جھانکتا چہرہ

پوری نظم کچھ یوں ہے

دوام

کڑکتے زلزلے اُمڈے ، فلک کی چھت گِری ، جلتے نگر ڈولے

قیامت آ گئی ، سورج کی کالی ڈھال سے ٹکرا گئی دنیا

کہیِں بجھتے ستاروں ، راکھ ہوتی کائناتوں کے

رُکے انبوہ میں کروٹ ، دو سایوں کی

کہیِں اِس کھَولتے لاوے میں بَل کھاتے جہانوں کے

سیہ پُشتے کے اوجھل ، اَدھ کھُلی کھڑکی

کوئی دَم توڑتی صدیوں کے گِرتے چَوکھٹے سے جھانکتا چہرا

زمینوں آسمانوں کی دہکتی گرد میں لِتھڑے

خنک ہونٹوں سے یوں پیوست ہے اب بھی

ابھی جیسے سحر بستی پہ جیتی دھو ُپ کی مایا اُنڈیلے گی

گلی جاگے گی ، آنگن ہُمہمائیں گے

کوئی نیندوں لدی پلکوں کے سنگ اُٹھ کر

کہے گا ’’ رات کتنی تیز تھی آندھی

مجید امجد ؔ ۔ مارچ ، 1961 ۔

مشہور صحافی خالد حسن    (ذوالفقار علی بھٹو کے پریس سیکریٹری ) اپنے ایک انٹرنیٹ کالم میں لکھتے  ہیں کہ 1948 میں جب سعادت حسن منٹو نے اے۔ حمید کا پہلا افسانہ پڑھا تو کہنے لگے ’’ یہ کیا ہے؟! اے۔ حمید تو بجلی کا کھمبا بھی دیکھ لے تو اُس پر روُمان کا دورہ پڑ جاتا ہے 

منٹو کی یہ بات اے۔ حمید کے اکثر ناولوں اور کہانیوں کے لئے کہی جا سکتی ہے۔

و ُہ اردو افسانے اور ناول میں حقیقت نگاری اور رو ُمان کے ملاپ سے نثر لکھنے کے قائل تھے۔

اُن کے مہکتے طرز ِ تحریر کے بارے میں کرشن چندر نے لکھا ’’ اے۔ حمید گلاب کی ٹہنی سے لکھتا ہے 

اے۔ حمید کے دیرینہ ساتھی اکمل علیمی نے 13 مئی 2011 کے ہفتہ وار اخبار “فرائیڈے ٹائمز” میں لکھا ہے کہ   اے۔ حمید اپنے  آبائی شہر  امرتسر  کو  کبھی نہ بھُلا  سکے۔    جب  اے۔ حمید “وائیس اف امےریکا” کے لیے کام کرنے دو سال کے لئے واشنگٹن گئے تو ایک دن اکمل علیمی سے کہنے لگےامرتسر میرا کھویا ہؤا فلسطین ہے اور مَیں اُس کی دیوار ِ الم ہو ُں ! مَیں امرتسر کو یاد نہیں کرتا کیونکہ یاد تو و ُہ کرتا ہے جو بھو ُل چکا ہو ! امرتسر میرے خون میں رچ بس چکا ہے۔ مَیں سونے لگتا ہو ُں تو وُہ میری آنکھوں میں ہوتا ہے اور مَیں جاگتا ہوُں تو وہی میرے سامنے ہوتا ہے۔  مَیں چلتا ہوُں تو کمپنی باغ میرے ساتھ چلتا ہے اور مَیں بیٹھتا ہو ُں تو سکتّری باغ کے درخت مجھ پہ سایہ فگن ہوتے ہیں۔ مَیں بولنے لگتا ہو ُں تو امرتسر کے مؤذنوں کی صدائیں میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہیں اور چُپ ہوتا ہو ُں تو امرتسر کی نہر کے پانی کی آواز میرے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہے۔ مَیں ایک ہاتھ کی لکیروں کو دیکھتا ہو ُں تو اُس میں میرے بچپن کی گلیاں سوئی ہوئی مِلتی ہیں اور دوسرے ہاتھ کو دیکھتا ہو ُ ں تو اُس میں پھوُل، درخت اور بہاریں جھونکے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ ایک دوست امرتسر جاتے سمے مجھ سے پوچھنے لگا کہ تمہارے لئے وہاں سے کیا لاؤں ؟ میَں نے کہا میرے لئے کمپنی باغ کا ایک پھول   لیتے آنا 

مجھے یاد ہے کہ 1966 میں جب ہم سمن آباد، لاہور کے مغربی کنارے پر ایک کرائے کے مکان میں رہنے کو آئے تو میں پہلی جماعت کا طالبعلم تھا۔ رات کو صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے بعد چارپائیاں بچھ جاتیں اور سفید چادروں پہ لیٹ کر ہم ریڈیو پاکستان سے گیت اور ڈرامے سُنا کرتے تھے۔ انتظار حسین کا لکھا کھیل آخری آدمی بھی میں نے انہیں راتوں میں سُنا ۔ ابّو ُ فیروز سنز سے میرے لئے بچوں کے ناول لا کر دیتے تھے جن میں ـ’’گوریلا ! ‘‘ (افریقہ کے جنگلوں میں رہتے گوریلوں کی کہانی) ، ’’ لنگڑا فرشتہ ‘‘ (جبار توقیر کا ناول جو ایک لڑکے اور ایک ڈاکو کی دوستی کے بارے میں تھا ) ، ’’شاہین محاذ ِ جنگ پر‘‘ (جو کہ 1965 کی جنگ کے دوران ایک لڑکے کی بہادری کے بارے میں تھا ) اور ’’بوستان ِ سعدی ‘‘ مجھے اب تک یاد ہیں ۔ سمن آباد آ کر رہنے سے ہم اپنے ماموں اے۔ حمید کے قریب آ گئے جو سمن آباد میں کچھ سال پہلے اپنی رہائش کے لئے ایک کوٹھی بنوا چکے تھے ۔ وُہ اپنے بچوں مسعود اور لالہ رُخ اور ہماری ممانی جان (ریحانہ قمر صاحبہ ) کے ساتھ ہمیں ملنے آئے اور اپنے صحن کے باغیچے میں، انار کے پیڑ کے پاس ، ہم سب نے اُن کے ساتھ فوٹو کھنچوائے ۔

A Hameed Family 37 www_dareechah_com

اُوپر دکھائی گئی تصویر میں میَں اپنی امّی کے بالکل آگے کھڑا ہوُں

A Hameed Family 09 www_dareechah_com

میری امّی بیگم عشرت شفیع اپنے بڑے بھائی اے۔ حمید کے ساتھ

A Hameed Family 11 www_dareechah_com

اے۔ حمید اپنی اہلیہ بیگم  ریحانہ قمر کے ساتھ  اپنے فلیمنگ روڈ والے گھر کی چھت پہ

پھر و ُہ گاہے بہ گاہے ، جب بھی انہیں ریڈیو کی نوکری سے فرصت ملتی، میری امّی جان سے ملنے آ جاتے۔ میرے ابّو ُ کی طرح میری امّی کو بھی ادب سے خاص لگاؤ تھا اور ماموں اور امّی کی گاڑھی چھنتی تھی ۔ کئی دوپہریں یہ دونوں بہن بھائی ہمارے گھر کے چھوٹے سے کچن میں بیٹھے نمکین ، گلابی رنگت والی ، خوشبو ُ دار کشمیری چائے پیتے رہتے اور اردو ادب ، گیتوں اور آرٹ فلموں کے بارے میں ، ریڈیو کی دنیا کی شخصیتوں کے بارے میں باتیں چلتی رہتیں جنہیں ہم بچّے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی بیچ بیچ میں کچن میں آ آ کر سنتے رہتے ! مجھے یاد ہے کہ اُس سال برسات میں ایک دن ماموں ہمارے لئے بہت سے ’’ ٹپکا ‘‘ آم لے کر آئے جنہیں بالٹی میں برف ڈال کر ٹھنڈا کیا گیا اور پھر ہم سب نے مزے سے اُن کا رس چو ُسا اور بعد میں ٹھنڈا دودھ پیا ۔ اُن دنوں ہمیں معلوم ہؤا کہ ہمارے بڑے ماموں ریڈیو پاکستان کے لئے کام کرتے ہیں اور افسانے اور ناول لکھتے ہیں۔

اگلے سال ہم سمن آباد کی کھُلی فضا اور مضافات کو چھوڑ کر اندرون شہر (لوہاری دروازہ) کی ایک تنگ گلی (کوچہ پیر شیرازی) میں بنے پانچ چھ منزلہ مکانوں میں سے ایک نسبتاً نئی بلڈنگ کے فلیٹ میں چلے آئے ۔ یہ ہمارے بچپن کا وُہ زمانہ تھا جب ہم نے دس سالوں میں دس مکان بدلے ۔ اِس گھٹن والے ماحول میں اور ان تنگ تنگ گلیوں میں سے روز سکول (کیتھیڈرل سکول ) کے لئے تانگے میں جاتے ہوئے اور واپسی پر ڈبل ڈیکر بس میں ہال روڈ سے واپس آتے ہوئے مَیں نے اپنے بدلے ہوئے حالات کو محسوس کیا۔ اُن دنوں میں دوسری جماعت میں تھا۔ اُنہی دنوں مَیں نے اپنے ماموں کا پہلا ناول ’’ڈربے ‘‘ پڑھا جو ایسی ہی تنگ گلیوں اور گھٹن بھرے مکانوں میں بستے لوگوں کے بارے میں تھا۔ اِس ناول کا مجھ پر اِتنا اثر ہؤا کہ مَیں نے ابّو ُ سے کہہ کر ایک موٹا سا رجسٹر منگوایا اور اپنی زندگی کی کہانی لکھنی شروع کر دی جس کی پہلی سطر کچھ یو ُں تھی ’’ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ بچّے کیسے پیدا ہوتے ہیں

Talat-LawrenceGardens-1967-300pixels

بچپن کی ایک تصویر ، جن دنوں میَں نے پہلی بار اپنے ماموں کا ناول ’’ڈربے ‘‘ پڑھا    (لارنس باغ، لاہور، 1967 )

اے۔ حمید کا پہلا اردو ناول ’’ ڈربے ‘‘ تقسیم ِ ہند کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور میں آ بسنے والے ایک پنجابی کشمیری مہاجر خاندان کے بارے میں ہے اور درحقیقت میرے ماموں کے گھر والوں اور رشتے داروں کی سچی کہانی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ’’ آرٹسٹ بھائی ‘‘ میرے ماموں سے چند سال چھوٹے بھائی مقصود احمد (جو کہ اُن کے لنگوٹئے یار بھی تھے ) کی ذات پر مبنی ہے اور ناول کا راوی میرے سب سے چھوٹے ماموں ، (پروفیسر ارشاد غالب ) کو بنایا گیا ہے۔ میری رائے میں یہ ناول اے۔ حمید کا سب سے اہم ناول ہے

Maqsood-Maamoon-Circa1955-300pixels

میرے ماموں مقصود احمد  ناول ڈربے کے کردار آرٹسٹ بھائی

Ghalib-Maamoon-Murree-Circa1955-300pixels

 اے۔ حمید کے ناول ’’ڈربے ‘‘ کا ایک اور کردار، میرے چھوٹے ماموں پروفیسر ارشاد غالب ، مری 1955 

اے۔ حمید اپنے ایک افسانے ’’چاندنی اور جزیرے ‘‘ میں اپنے اِس آرٹسٹ بھائی کے بارے میں ہمیں مزید باتیں بتاتے ہیں۔ یہ افسانہ سری لنکا کے جنگلوں اور اُس کے ایک چھوٹے سے گائوں میں بسنے والی لڑکی کے ذکر سے شروع ہوتا ہے۔ یہ و ُہ کردار ہے جسے غالباً اے۔ حمید اُس وقت مِلے جب و ُہ دوسری جنگ ِ عظیم کے دنوں میں گھر سے بھاگ کر پہلے امرتسر سے  کلکتہ   ،  پھر  بمبئی اور پھر اپنی بڑی بہن اور بہنوئی (کیپٹن ممتاز ملک) کے پاس سری لنکا کے شہر کولمبو چلے گئے تھے ۔ کیپٹن ممتاز ملک اُس وقت برطانوی فوج میں ریڈیو کولمبو سے جنگی پروپیگنڈا نشر کرنے پر مامور تھے ۔ اُن دنوں اے۔ حمید برما کے شہر رنگون میں بھی کچھ وقت گزار کر آئے۔ وُہ اپنی والدہ اور اپنے آرٹسٹ بھائی کے بارے میں اِس افسانے میں لکھتے ہیں

کولمبو سے انّا پو ُرنا کا ایک اور خط آیا ہے۔ یہ خط انتہائی شکستہ ہندی میں لکھا ہے اور میرے سامنے میز پر کھُلا پڑا ہے۔ کھڑکی کے باہر جنوری کی سرد رات ٹھٹھر رہی ہے اور میں سگریٹ سلگائے نیم وا آنکھوں سے انّا پو ُرنا کے جو ُڑے میں لگی ہوئی کنول کی زرد کلیوں کو دیکھ رہا ہو ُں۔ میرے اِردگرد میرا کنبہ سو رہا ہے۔ میز پر جلتے لیمپ کی روشنی مدّھم ہے۔ میں اِس کی بتّی زیادہ اونچی نہیں کر سکتا۔ میری ماں کی آنکھیں خراب ہیں اور و ُہ زیادہ تیز روشنی میں سو نہیں سکتی۔ مَیں نے لیمپ کے دونوں پہلو ئوں کو کتابوں سے ڈھانپ کر سونے والوں کی جانب اندھیرا کر دیا ہے۔ اِس کے باوجود ماں کو نیند نہیں آ رہی۔ آنکھوں کی خرابی کے علاوہ اُسے درد ِ ریح کا بھی عارضہ ہے۔ و ُہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد درد سے نڈھا ل ہو کر لمبی سی ’ہائے ‘ کرتی ہے اور انّا پو ُرنا کے جو ُڑے سے کنول کے پھو ُل زمین پر گر پڑتے ہیں اور بانس کے جنگلوں پر چمکنے والا چاند ایک دم ڈو ُب جاتا ہے اور میَں لنکا کے گُل پوش جزیرے سے ایک بار پھر اِس گُھٹے ہوئے نیم روشن کمرے میں آ جاتا ہو ُں جہاں دن بھر خچروں کی طرح محنت کرنے والے اب لکڑی کے شہتیروں کی مانند بے سُدھ پڑے ہیں۔

دائیں جانب آرٹسٹ بھائی مسعود کا بستر خالی ہے۔ و ُہ ابھی تک نہیں آیا ۔ اُسے یقیناً پرسی  مِل گیا ہو گا۔ پرسی لدھیانے کا عیسائی لڑکا ہے اور اِن دونوں کا آپس میں بہت یارانہ ہے۔ مسعود ایک مقامی سینما کے بورڈوں پر تصویریں بناتا ہے اور پرسی باٹا کی فیکڑی میں کمپنی کی طرف سے بھیجے ہوئے پبلسٹی کے نمونوں کی نقلیں تیار کرنے پر ملازم ہے۔ ہفتے کی شام کو دونوں ضرور مِلتے ہیں ۔ پہلے و ُہ کسی سستے سے ہوٹل میں جا کر چائے کا ایک پیالہ پیتے ہیں  “پاسنگ شو سگریٹ کی ایک ڈبی لیتے ہیں اور کوئی نہ کوئی انگریزی فلم دیکھنے چلے جاتے ہیں۔ فلم دیکھنے کے بعد و ُہ سینما ہال سے باہر نکل کر لارنس باغ میں آ جاتے ہیں اور باغ کی پُر سکوں، سایہ دار روشوں پر قدم قدم چلتے ہوئے فلم کے قدرتی مناظر اور اُس کے ساتھ دکھائے گئے کارٹون کے شوخ اور تر و تازہ رنگوں پر آہستہ آہستہ باتیں کرتے جاتے ہیں۔ پھر و ُہ دونوں خاموش ہو جاتے ہیں اور تاروں کی چھائوں میں نیم روشن دھندلا راستہ خاموشی سے طَے کرتے ہیں۔ پھر کسی جگہ گھاس پر سگریٹ پھینک کر یا گھنے درختوں کے نیچے سے گزرتے ہوئے اپنے آپ ہی پرسی دھیمی اور خواب ایسی آواز میں مسعود کو اپنے وطن کے گلی کوچوں کی باتیں سنانا شروع کر دے گا۔ اُس کا لہجہ آہستہ آہستہ سوگوار ہوتا جائے گا اور گھنی گھنی پیازی آنکھیں اندھیرے میں انگاروں کی طرح چمکنے لگیں گی۔

مسعود اور پرسی ایک دوسرے کی ضرورتوں کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ ایک روز پرسی کو تین روپوں کی ضرورت تھی۔ مسعود کی جیب خالی تھی اور اُن دنوں و ُہ دن میں صرف دو سگریٹ پیا کرتا تھا۔ لیکن و ُہ پرسی کو پریشان نہ دیکھ سکا۔ اُس نے گھر آ کر سب کے سامنے ٹِفن کیر ئیر اُٹھا یا اور بازار جا کر ساڑھے چار روپوں میں بیچ ڈالا۔ تین روپے اُس نے پرسی کو دے دئیے اور باقی پیسوں میں کیک کے چند ٹکڑے اور پاسنگ شو کی دو ڈِبیاں لیتا آیا۔ آتے ہی اُس نے خوشی کا ایک نعرہ مارا اور سماوار میں چائے ڈال کر سب کے درمیان بیٹھ کر زور شور سے باتیں شروع کر دِیں۔ اُس نے بڑے زور دار الفاظ میں ماں کو یقین دلایا کہ و ُہ اگلی تنخواہ پر ایک ٹِفن کیرئیر ضرور خرید لائے گا۔ ماں کو یقین آ گیا۔ و ُہ اگر کمزور الفاظ بھی استعمال کرتا تو ماں یقین کر لیتی۔ مائیں جلد یقین کر لیتی ہیں۔ پھر چائے کی تین پیالیاں پی کر مسعود نے بالٹی گود میں رکھی اور اُسے طبلے کی طرح بجاتے ہوئے گانے لگا

 رہا کر دے مجھے صیّاد ابھی فصل ِ بہاری ہے

کسی وقت و ُہ بے حد اُداس ہو جاتا ہے۔ سگریٹ سلگا کر و ُہ ٹانگیں باورچی خانے کی دیوار سے لگا دیتا ہے   اور بڑے خاموش گِلہ آمیز لہجے میں بول اُٹھتا ہے : ’’ یہاں جب بھی آؤ   دال پکی ہوتی ہے۔ کیسا انقلاب آیا ہے ۔ ہماری یہاں کوئی قدر نہیں ہے۔ اب مَیں ضرور رنگو ُن چلا جاؤُں گا۔

اُس رات و ُہ میرے پاس بیٹھا گھنٹوں مجھ سے رنگو ُن کی بارش میں بھیگی ہوئی سڑکوں ، سبزے سے ڈھکی ہوئی جھیلوں اور دریا میں لہرانے والے بانس کی لمبی لمبی شاخوں کی باتیں سنتا رہا۔ پھر جب اُس پر پاسپورٹ کی اُلجھنوں ، برما کی سیاسی صورت ِ حال اور رنگون کی شدید مہنگائی کا اِنکشاف ہؤا   تو  اُس  نے   نااُمید ہو کر سر دیوار سے لگا دیا   اور صرف اِتنا کہہ کر چُپ ہو گیا

اب تو اِسی ڈربے میں عمر گزرے گی 

اے۔ حمید اپنے پہلے ناول ’’ڈربے ‘‘ کے شروع میں ایک منظر بیان کرتے ہیں جہاں آرٹسٹ بھائی کسی انگریزی فلم کی کہانی اپنے گھر والوں کو سُنا رہا ہے 

بارش کے قطرے پتوں کا منہ دھو رہے تھے ، ہوا میں ٹہنیاں دوہری ہوئی جا رہی تھیں اور ہیرو ایک کھوہ میں بیٹھا چُپ چاپ گیلا سگریٹ پی رہا تھا ۔ مَیں کہتا  ہوُں ہمارے ہاں کبھی ایسی فلمیں نہیں بن سکتیِں۔ یہ لوگ . . . اِن کی

اور و ُہ بلا تکلف اپنی چھوٹی بہن کے سامنے دیسی فلم سازوں کو ایک آدھ گالی مرحمت کر دیتا۔ اُسے انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ و ُہ صرف چوتھی جماعت تک سکول میں پڑھا تھا مگر اُسے دعوٰی تھا کہ و ُہ انگریزی فلموں کی کہانیاں بہ خوبی سمجھ لیتا ہے اور جتنا مزہ و ُہ لیتا ہے اور کوئی شخص نہیں لے سکتا۔ والٹ ڈزنی کے رنگین کارٹونوں سے اُسے والہانہ عشق تھا ۔ اُس کے خیال میں والٹ ڈزنی کو رنگ استعمال کرنے کا صحیح شعور تھا۔ باقی لوگ محض بدّھو ُ تھے۔ اُسے لاہور چھائونی والے سینما کی دو باتیں بے حد بھاتی تھیں۔ پہلی یہ کہ وہاں تک پہنچنے کا راستہ درختوں کی دو رویہ قطاروں اور باغوں میں سے ہو کر گزرتا تھا اور برسات کے بعد وہاں ایک دل فریب سماں بندھ جاتا ۔ اور دوسری بات یہ کہ سینما کا ہال ہر شو میں تقریباً خالی رہتا تھا۔ و ُہ بڑے مزے سے آ کر سُناتا آج ہال میں محض آٹھ آدمی تھے۔ آہا ! کتنا لطف آیا۔ جی چاہتا تھا وہیں بیٹھے رہیے

اُسے دیسی فلموں سے دِلی بَیر تھا اور یہ بَیر اور نفرت اُس وقت دو چند ہو جاتی جب و ُہ چھائونی سے انگریزی فلم دیکھ کر آ رہا ہوتا۔ اُس سمے دیسی سینما کے سامنے سے گزرتے ہوئے و ُہ منہ دوسری طرف کر لیا کرتا تھا۔ مگر اُسے ہندی فلموں کے گانوں سے لگائو تھا۔ اُس کی آواز رسیلی تھی مگر و ُہ کسی کے سامنے نہ گاتا تھا۔ ’چتر لیکھا ‘ ، ’وِدّیا پتی ‘ ، ’سڑیٹ سنگر ‘ ، ’زندگی ‘ اور دیگر کئی پُرانی فلموں کے گیت اُسے ازبر تھے۔ نئی فلموں میں موسیقی کا بدلتا ہُؤا رُحجان اُسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ اُس کے خیال میں اِن گانوں میں شور زیادہ اور موسیقی کم تھی۔ جب و ُہ کبھی گھر کے آنگن میں اکیلا ایک طرف بیٹھا ’چتر لیکھا ‘ کی ایک آدھ تان ہلکے سُروں میں اُڑا دیتا تو اُس کے چوڑے چہرے پر ایک دل فریب موہنی جھلکنے لگتی۔ آنکھیں نشے کی ترنگ میں بند سی ہو جاتیں اور و ُہ مزے میں آ کر سگریٹ سلگا لیتا۔

  اُنیس  سو  سینتالیس کے فسادات کے دوران دن بھر گھر میں پڑے پڑے اُس کی طبیعت میں چڑ چڑا پن آ گیا تھا۔ لیکن بہت جلد اُس نے اِس کا علاج ڈھونڈھ نکالا۔ محلّے کے ایک آدھ دوستوں سے اُس کی بے تکلفی تھی۔ و ُہ وقت بے وقت اُن کے ہاں چلا جاتا اور دیر تک بیٹھا گپّیں مارتا رہتا ۔ چونکہ اُس نے اپنے ایک میراثی دوست سے ڈھولک بجانا بھی سیکھ لیا تھا اِس لئے وہاں فوراً ڈھولک آ جاتی ، انگیٹھی پر چائے اُبلنے لگتی ، سگریٹ پان منگوائے جاتے اور رات گئے تک خوب موج میلہ رہتا۔ ــ

اے۔ حمید نے اِس کے بعد بہت سے ناول لکھے جن میں ’’ برف باری کی رات ‘‘ (ماموں کے ادبی اور فلمی دنیا کے دوستوں کے ساتھ گزری مری کے ہوٹل کی ایک رات کی کہانی)، ’’ زرد گلاب ‘‘ (کشمیر سے ہجرت کر کے لاہور میں آنے والی ایک لڑکی کی کہانی )، ’’جنگل روتے ہیں ‘‘ (ایک پہاڑی لڑکی کی رسوائی اور طوائف بننے کی کہانی ) ، ’’ مَیں خزاں میں آؤُں گا ‘‘ اور ’’ بارش میں جدائی ‘‘ (دِلّی دروازے کے ایک سکول ماسٹر کی ناکام شادی ،  بعد ازاں ٹیوشن پڑھنے والی ایک لڑکی سے خاموش محبت اور سکول ماسٹر کی قربانی اور تباہی کی کہانی) قابل ِ ذکر ہیں۔

اے۔ حمید نے ناولوں کے علاوہ افسانے بھی لکھے جن کا مجموعہ ’’ منزل منزل‘‘ کے نام سے چھپا۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے لئے ہفتہ وار کالم ’’ امرتسر کی یادیں ‘‘ اور بعد میں ہفتہ وار کالم ’’ لاہور کی یادیں ‘‘ بھی لکھا جسے محترم خالد حسن نے انگریزی میں ترجمہ کر کے انٹرنیٹ پر اکیڈیمی آف پنجاب اِن نارتھ امےریکا کی ویب سائیٹ سے شائع بھی کیا ہے۔

کچھ یادیں، کچھ آنسو ‘‘ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے شروع کے دَور اور اُس میں مِلنے والے بہت سے لوگوں کو کہانیوں میں پرویا۔ اُن کی تحریروں میں بھانت بھانت کے کردار بھر ے ہوئے ہیں جو ہمیں آزادی کے بعد کے پاکستان اور اِس میں بسنے والوں کے جیتے جاگتے ، چلتے پھرتے اور سانس لیتے عکس پیش کرتے ہیں جو ہمارے دماغ میں کھُبتے چلے جاتے ہیں۔ اپنی کردار نگاری میں مزاح سے بہت کام لیتے ہیں۔ اُن کے افسانے ’’چاندنی اور جزیرے ‘‘ میں لاہور کی ایک حویلی کے اندر بنیں چھوٹی چھوٹی اندھیری کوٹھڑیوں میں رہنے والے نچلے طبقے کے لوگوں کی تصویر کچھ یوں پیش کی گئی ہے 

سپاہی کی بیوی نٹ کھٹ ہے۔ اُس کی ابھی ابھی شادی ہوئی ہے ۔ و ُہ ہر دوسرے روز اپنے خاوند کے ساتھ سینما دیکھنے چل دیتی ہے اور بطخ کی طرح کو ُلھے مٹکا مٹکا کر چلتی اِس چڑیا گھر سے باہر نکل جاتی ہے۔ اگلے دن و ُہ اِس کٹڑی کی ہر عورت کے پاس بیٹھ کر کسی نہ کسی طریقے سے رات والی فلم کا ذکر چھیڑ دیتی ہے اور ہیروئین کے کپڑوں اور زیوروں کی تعریفیں شروع کر دیتی ہے۔ و ُہ بار بار اِس واقعے کا ذکر کرتی ہے 

جب و ُہ مجھے اندر لے جانے لگے تو گیٹ کیپر نے کچھ نہ کہا۔ اپنی وردی میں تھے نا . . . ہم نے تو کبھی ٹکٹ نہیں خریدا بہن عیشاں ۔ تم فکر نہ کرو مَیں  تمہیں  ایک پاس منگوا دو ُں گی

صبح سے شام تک و ُہ چھابڑی والوں سے گلے سڑے پھل خرید کر کھاتی رہتی ہے اور دن میں کئی بار منہ دھو کر آنکھوں میں چمچوں سے سُرمہ ڈالتی ہے۔ کسی وقت و ُہ چارپائی پر لیٹے لیٹے نہ معلوم کس خیال کے تحت پُر شکم انگڑائی لیتی ہے اور ترکھان کی بیوی کو آنکھ مار کر کہتی ہے 

’’ہائے دولتے ! میرا تو سارا بدن دُکھ رہا ہے ‘‘

اُس کا بدن دُکھے نہ دُکھے لیکن اُسے دیکھ کر لوکو شاپ کے چمرّخ مِستری کی دھوتی ضرور کھُل جاتی ہے۔ درزی کی ناک کٹی بیوی سپاہن کے ترو تازہ جسم اور خوبصورت پتلے ناک سے جلتی رہتی ہے۔ ایک دن اُسے فلم ’’لچّھی ‘‘ کا کوئی گیت گنگناتے دیکھ کر اُس نے موٹی موچن کے کان میں کہا 

’’دیکھا   بؤا ! کتنی اجاش (عیاش) عورت ہے

لوکو ورکشاپ کے دُبلے پتلے مِستری کو دیکھ کر نہ جانے مجھے گنجے بٹیروں کا خیال کیوں آ جاتا ہے۔ و ُہ مٹیالی رنگت اور لمبے جبڑوں والا درمیانی عمر کا آدمی ہے جو منہ اندھیرے ہی ورکشاپ کے بھونپو ُ کی آواز پر اُٹھ بیٹھتا ہے ۔ اُس کی بیوی پہلے سے ہی کھانا تیّار کر رہی ہوتی ہے۔ اندر دھؤاں ہی دھؤاں بھر جاتا ہے اور مِستری پمپ پر منہ ہاتھ دھوتے ہوئے گنگنائے جاتا ہے 

  تیرے در تے دھو ُنی لائی یار وٹا لے دیوا

کسی وقت و ُہ جبڑے پھیلا کر غُرّا اُٹھتا ہے 

’’ او بھو ُتنی دی اے . . . ! تیرے دھوئیں نے ساڈیاں اکھّا ں کڈھ چھڈیاں نیں ۔ بُجھا اے پیو ُ اپنے نو ُں 

روٹی تھیلے میں رکھ کر و ُہ کمبل میں اچھی طرح منہ سر لپیٹتا ہے او ر ڈاکوؤں ایسا حلیہ بنا کر کھڑ کھڑ کرتی سائیکل پر سوار ہو کر لوکو شاپ کی طرف چل دیتا ہے۔ چھُٹی کے دن و ُہ حقّہ لے کر اپنی کوٹھڑی کے باہر بیٹھ جاتا ہے اور دوسروں کی ہر بات ، ہر کا م میں ٹانگ اڑانے لگتا ہے۔ کسی وقت و ُہ اُردو بولتا ہے اور کسی وقت پنجابی۔ سب سے نازک وقت و ُہ ہوتا ہے جب و ُہ اُردو بول رہا ہوتا ہے۔ کسی زمانے میں و ُہ فوج میں نائیک رہ چکا ہے۔ اچھی بھلی پنجابی بولتے بولتے اُس پر اچانک اُردو بولنے کا دورہ پڑتا ہے اور و ُہ اُسے اُلٹی چُھری سے ذبح کرنے لگتا ہے۔ سپاہن کو منہ دھوتے دیکھ کر پہلے و ُہ دھوتی کَس کر باندھے گا اور پھر کہے گا

بھابھی یہ کونسا صابون ورتتی ہو ؟ لیف بائی ہے ؟ بڑا نامراد صابون ہے۔ میری مانو تو ’لک کس ‘ ورتا کرو ۔ ائیں ایسی کش بو چھوڑتا ہے کہ ہاضمہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔‘‘

پھر فوراً ہی ناک کٹی درزن کی طرف آ جائے گا 

  ماسی عیشاں ! تو ُ تو اِس دنیا میں عیش کرنے آئی ہے۔ پر خدا بھلا کرے کیلا کھا کر ’چِھلّڑ ‘ کو ُڑے میں پھینک دیا کرو۔ آدمی اِس پر سے ’تِلک‘ پڑے تو ’گِٹّا ‘ ضرور نکل جاتا ہے۔

پھر حقے کا دھؤاں چھوڑتے ہوئے یونہی جیسے ہَوا سے پو ُچھے گا 

’’وَجّا کیا ہو گا اِس وقت ؟ ‘‘

ہندوستانی موچن سے باتیں کرتے ہوئے و ُہ بڑے اہتمام سے اُردو بولتا ہے ۔ و ُہ اُسے جنگ کی باتیں بـڑے شوق سے سنایا کرتا ہے۔ گنجان بھنوئیں سکیڑ کر جیسے کچھ یاد کرتے ہوئے بٹیرے کی طرح اچانک بول اُٹھتا ہے 

انگریز لفٹین کی بیٹی مر گئی مگر زناب کیا مزال جو اُس کی میم کا ایک ’اتّھرو ُ ‘ بھی نکلا ہو۔ بس اٹن شن ہو کر قبر پر کھڑی تھی۔ بڑی ’صبرناک ‘ عورت تھی امّاں . . . اپنا بودی اُن دنوں چھوٹا سا تھا ۔ بس اُسے و ُہ میم اُٹھائے اُٹھائے لئے پھرتی تھی۔ ولائیتی بسکٹ اور کاچو ُلیٹ بہت کِھلایا کرتی تھی

اِسی طرح اپنے افسانے ’’ سماوار ‘‘ میں و ُہ اپنے پینٹر اُستاد اور یٰسین سینما آپریٹر کی تصویر کشی کچھ یو ُں کرتے ہیں 

و ُہ میرا اور لالی کا مُشترکہ اُستاد ہے اور سینما کا ہیڈ پینٹر ہے ۔ ہمارا اُستاد سینما کے ہر آدمی سے فحش مذاق کرنے کا عادی ہے۔ سینما کے آپریٹر یٰسین سے تو گالی گلوچ تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ یٰسین لمبا چوڑا بھاری بھرکم آدمی ہے جو اُونٹ کی طرح چلتا ہے اور ریچھ کی طرح سانس لیتا ہے۔ مشین کے اصلی کاربن بیچ کر نقلی کاربن سے کام چلانا اُس کا دل پسند مشغلہ ہے اور جب روشنی مدّھم ہو جانے پر ہال میں اُسے گالیاں پڑتی ہیں تو و ُہ غُصّے میں آ کر دیوار کے چورس سوراخ کے ساتھ منہ لگا کر چیخنے لگتا ہے 

چلو تمہاری ماں . . . تمہاری بہن . . . تمہاری 

سردیوں میں اُس کے ہاتھ ہمیشہ بغل میں ہوتے ہیں اور گرمیوں میں و ُہ صرف ایک دھوتی باندھتا ہے۔ ہمارے کمرے میں آ کر جب و ُہ تخت پر بیٹھتا ہے تو اُس کے تختے چرچرانے لگتے ہیں۔ و ُہ فلمی رقّاصہ ’’مِس کُکّو ‘‘ کا عاشق ہے اور اُسے ہمیشہ ’ بُلبُل ‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ’’ ربڑی کر دو ُں گا ‘‘ اُس کا تکیہ ئِ کلام ہے۔ ہمارے اُستاد کی پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر و ُہ پکار اُٹّھے گا 

’’حُقّہ پِلا اوئے خو ُشیئے ! نہیں تو ربڑی کر دو ُں گا ‘‘

یٰسین حُقّے کا رسیا ہے۔ و ُہ حُقّے کی نَے منہ میں رکھ کر سینما کی مشین سٹارٹ کرتا ہے۔ ہمارے اُستاد کے ہرفن مولا بڑے بھائی سے جنگ کی باتیں سُن سُن کر و ُہ بڑا حیران ہؤا کرتا ہے اور کان میں دِیا سلائی پھیرتے ہوئے پکار اُٹھتا ہے 

’’تم دیکھ لینا لالہ ! اب ہر جگہ انگریز وں کی ربڑی ہو گی ‘‘

  ہائے میری بُلبُل ! مَولا نے چاہا تو کبھی تیری بھی ربڑی کریں گے 

امے ری کانو ‘‘  اُن کے امریکا میں گزرے دنوں کا سفرنامہ ہے۔ اِس کے علاوہ ’’اردو ادب کی داستان ‘‘، ’’اردو شعر کی داستان‘‘ اور اشفاق احمد کے بارے میں کتاب ’’داستان گو ‘‘ تحریر کیں۔ اے۔ حمید نے مقبول اکیڈیمی کے ذریعے بچّوں کے لئے ’’ عنبر ناگ ماریا‘‘ دیو مالائی ناولوں کا ایک ضخیم سلسلہ بھی تحریر کیا۔ پھر پی۔ٹی۔وی۔ اور پروڈیوسر حفیظ طاہر کے ساتھ مل کر بچّوں کی ڈرامہ سیریز ’’ عینک والا جِن ‘‘ لکھی جو بہت مقبول ہوئی اور اِسے لاہور سٹیج پر بھی پیش کیا گیا ۔

اے۔ حمید کی بہت سی کتابیں انٹرنیٹ کے ذریعے سنگ ِ مِیل پبلی کیشنز سے یا  پھر  مقبول اکیڈیمی لاہور  سے  خرید ی جا سکتی ہیں جن میں مندرجہ ذیل کتب قابل ِ ذکر ہیں 

بارش میں جدائی (ناول )، طوفان کی رات (ناول )، منزل منزل (افسانے )، کچھ یادیں کچھ آنسو ُ (افسانے)، بارش اور خوشبو (کلیات افسانے)، خزاں کا گیت (افسانے )، مٹّی کی مونا لیزا (افسانے ) ، لاہور کی یادیں (تائثرات )، یادیں : نواں لاہور، پرانا لاہور (تائثرات )، امے ری کانو (سفر نامہ )، داستان گو (اشفاق احمد) ، بہار کا آخری پھو ُل (ناول )، اور چنار جلتے رہے (ناول) ، ناریل کا پھو ُل (ناول)، پیپل والی گلی (ناول)، پیلا اُداس چاند (ناول )،
ویران گلی میں لڑکی 
(ناول )، پھو ُل گرتے ہیں (ناول )، قصہ آخری درویش کا (طنز و مزاح)

امرتسر کی یادیں۔سن اشاعت:۱۹۹۱

چاند چہرے: فیض احمد فیض ، سیف الدین سیف، پروفیسر وقار عظیم، اخلاق احمد دہلوی، ابن انشاء،ناصر کاظمی، احمد ندیم قاسمی، عبدالمجید عدم، احمد راہی، ابراہیم جلیس، راجہ مہدی علی خان، چراغ حسن حسرت، مرزا سلطان بیگ وغیرہ پر خاکے۔

گلستان ادب کی سنہری یادیں: سنہری یادوں اور باتوں کا ایک مرقع ۔

اے۔حمید کی وفات پر کچھ دیگر احباب نے بھی انٹرنیٹ پر مضمون اور بلوگ پوسٹ چھاپے جن کی تفصیل یوں ہے

ثناء جمال کا مضمون

راشد اشرف کے  دو  مضامین

اے۔حمید کی علالت کے دوران لکھا مضمون  اور اے۔حمید کی وفات کے وقت لکھا مضمون

اکمل علیمی کا مضمون

  عرفان جاوید کا مضمون