The Trial for the Murder of Sara Shaguftaسارا شگفتہ کے قتل کا مقدمہ تحریر آصف اکبر

Sara Shagufta Portrait Photo

   افسانہ   :       سارا شگفتہ کے قتل کا مقدمہ

تحریر: آصف اکبر              

سارہ شگفتہ نثری نظم کی اور جدید اُردو شاعری کی ایک معروف، بے باک اور باغی پاکستانی شاعرہ تھیں۔ وہ 31 اکتوبر 1954 کو پنجاب کے شہر گُجرانوالہ میں پیدا ہوئیں اور 4 جون 1984 کو تیس سال سے کچھ کم عمر میں اُنہوں نے کراچی میں ٹرین کی پٹڑی پر لیٹ کر اپنی جان دے دی۔ یہ افسانہ سارہ کی زندگی اور موت کا احاطہ کرتا ہے۔

ابتدائیہ
امرتا پریتم نے سارہ شگفتہ کے بارے میں ایک کتاب لکھی ایک تھی سارا۔ اُس کے پانچویں باب انسانی صحیفے کی آرزوُ کو امرتا نے یوں شروع کیا ہے
میں نہیں جانتی کہ کبھی میری طرح سارا نے بھی اس عدالت کی تمنّا کی ہو گی یا نہیں، جس عدالت میں کوئی نظم بھی گواہی دے سکے۔ میں نے ضرور کی ہے
صرف تمنّا ہی نہیں کی، تصوّر میں ایک عدالت بھی تعمیر کر لی اور دیکھا گواہ کے کٹہرے میں سارا کی نظم کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے

اگر انگلی کاٹ کر سوال پوچھا جائے گا
تو جواب بے پور ہوگا

سُنو
میَں عبادت کے لیے غار نہیں انسان چاہتی ہوں
اور تلاوت کے لیے انسانی صحیفہ

پس میں نے یعنی آصف اکبر نے بھی سارہ کا مقدمہ اپنے تصوّر کی عدالتوں میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ کارروائی ملاحظہ کیجیے۔

قانون کی عدالت میں
————-
پیشکار : مدّعی آصف اکبر بنام معاشرہ حاضر ہو۔
میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچتا ہوں۔ منصف کی کرسی پر ایک بے نام چہرے والا شخص، رخ پر بے حسی کی نقاب چڑھائے اور قانون کی عینک لگائے کسی سے فون پر بات کر رہا ہے۔ میں جتنی دیر میں میں اپنے اوسان بحال کرتا ہوں، وہ فون سے فارغ ہو کر مقدمے کے کاغذات پر ایک نظر ڈالتا ہے۔ کاغذ دیکھ کر جج ناگوار لہجے میں کہتا ہے یہ کیا مذاق ہے؟ مدّعی کون ہے اور کہاں ہے؟
میں مودّب کھڑا ہو کر کہتا ہوں عالیجاہ میں مدّعی ہوں میرا نام آصف اکبر ہے۔
جج: یہ قتل کب ہوا تھا۔
میں: جناب قتل ہونا تو شائد 1970 سے بھی پہلے شروع ہو گیا تھا مگر 1984 میں اس عورت کے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرنے پر یہ سلسلہ تکمیل کو پہنچا۔
جج: یہ آپ کیا پہیلیاں بھجوا رہے ہیں۔ یہ قانون کی عدالت ہے ، ٹی وی کا کوئی مارننگ شو نہیں ہے۔ آپ کا وکیل کہاں ہے؟
میں: عالیجاہ میرا کوئی وکیل نہیں۔ میں معزّز عدالت سے استدعا کروں گا کہ مجھے ہی اس مقدمے کی پیروی کی اجازت دی جائے۔
جج: دیکھیے صاحب، آپ ایک باشعور شہری لگ رہے ہیں۔ آپ کو شائد اندازہ نہیں ہے کہ آپ اس عدالت کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ میں اس مقدمے کو برخواست کر رہا ہوں۔
میں: حضور مجھے اندازہ ہے کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اور اس وقت بھی آپ کی عدالت میں سینکڑوں مقدمات زیرِ التوا ہوں گے۔ مگر میں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ اس مقدمے کو چلانے کی اجازت دیجیے، کیونکہ اگر آپ نے فارغ کر دیا تو میں یہ مقدمہ تاریخ کی عدالت میں لے جاؤں گا۔ وہاں شائد آپ کو گواہ کی حیثیت سے حاضر ہونا پڑے۔
جج: (کچھ سوچ کر) چلیے ٹھیک ہے۔ میں آپ کی بات سنوں گا، مگر عدالت کا وقت ختم ہونے کے بعد۔ آپ شام 5 بجے یہیں آجائیے، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو ابھی وقت نہیں دے سکتا۔
———-
شام پانچ بجے کے لگ بھگ جج صاحب کا پیشکار آواز دیتا ہے مدّعی آصف اکبر حاضر ہو۔
میں بہ سرعت کمرہ عدالت میں پہنچ جاتا ہوں۔
جج: مجھے کاغذات دیکھنے کے بعد اس مقدمے میں کافی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آج ہی اس مقدمے کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کی کارروائی مکمّل کر لوں چاہے رات کے بارہ ہی کیوں نہ بج جائیں۔ آپ کو دشواری تو نہیں ہوگی؟ پھر اگر مقدمہ قابلِ سماعت قرار پایا تو قواعد کے مطابق ملزمان، وکیل صفائی اور گواہان کو طلب کرکے ان کی موجودی میں باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔
میں: جی نہیں عالیجاہ۔ میں بہت ممنون ہوں کہ آپ اتنا وقت دے رہے ہیں۔
جج: آپ کہتے ہیں کہ سارہ شگفتہ نامی اس عورت کو قتل کیا گیا مگر ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ اس نے خودکشی کی تھی، یہ کیا معمّہ ہے؟
میں: عالی جاہ یہ ایسا قتل ہے جس میں کسی شخص کو ذہنی طور پر اتنی اذیّت دی جاتی ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسے قتل ساری دنیا میں ہوتے ہیں، اور ہمارے معاشرے میں بھی بہت عام ہیں۔
جج: مگر قانون کی نظر میں یہ چیز قتل نہیں۔
میں: اسی بات کا تو رونا ہے۔ کسی شخص سے ہزار روپے چھین لیے جائیں تو یہ قانون کی نظر میں جرم ہے، مگر اس کی شخصیت چھین لی جائے یا مسخ کر دی جائے تو قانون کی نظر میں جرم نہیں، اور معاشرہ اس سے ہمدردی رکھتے ہوئے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
جج: مگر اس کرسی پر بیٹھ کر میں صرف قانون کے مطابق ہی فیصلہ دے سکتا ہوں۔

میں: جناب آپ مقدمے کی سماعت تو کیجیے، پھر آپ جو بھی فیصلہ دیں گے وہ ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔
جج: کیا اس جرم کی جسے آپ قتل کہہ رہے ہیں پولیس میں رپورٹ درج کروائی گئی؟
میں: جی نہیں جناب
جج: وہ کیوں، بغیر پولیس رپورٹ کے مقدمہ کیسے چل سکتا ہے؟ تفتیشی رپورٹ تو پولیس ہی دے گی۔
میں: جناب والا اجازت دیں تو اس سوال کا جواب کچھ دیر بعد دینا چاہوں گا۔
جج: ٹھیک ہے۔ مقتولہ کون تھی، کہاں کی رہنے والی تھی اور کیا کرتی تھی، عدالت کے سامنے کوائف پیش کیے جائیں۔
میں: مقتولہ کا نام سارہ تھا۔ 1954 میں گجرات میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ تانگہ چلاتا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے باپ سے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔ کچھ سالوں کے بعد اس کا باپ ڈھیر سارے بچّوں کو بے یار و مددگار اس کی ماں کے پاس چھوڑ کرگھر سے چلا گیا، اور اس نے کسی اور عورت سے شادی کر لی۔ اس کی ماں نے کسی صورت کپڑوں پر پھول وغیرہ بنا کر بچوں کو بڑا کیا۔ اور جیسے ہی سارہ کی عمر 14 سال ہوئی، یعنی قانونی طور پر شادی کی عمر کو پہنچنے سے بہت پہلے ہی، اس کی شادی کر دی۔ سارہ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا مگر اس کا یہ شوق گھٹ کر رہ گیا، اور اس کو شوہر کے گھر جانا پڑا۔
جج: آپ نے مدّعا علیہان کی ایک فہرست داخل کی ہے۔ کیا اس عورت کی ماں کا نام بھی قتل کے ملزموں میں شامل کیا ہے آپ نے؟
میں: جی نہیں جناب۔ اس کی ماں اس کی زندگی میں شامل شاید واحد انسان تھی جسے سارہ سے نہ صرف بھرپور ہمدردی تھی، بلکہ اس نے سارہ کی شادیوں کے بعد بھی اس کی بھرپور خدمت کی۔ یہ درست ہے کہ اس نے کم عمر سارہ کی شادی ایک خراب آدمی سے کردی، مگر یہ اس کے حالات کا جبر تھا اور اس میں کوئی بد نیّتی نہیں تھی۔
جج: آپ کا مرنے والی سے کیا رشتہ تھا۔
میں: جناب وہ انسانیت کے رشتے سے، اور اسلام کے رشتے سے اور ہموطنی کے رشتے سے اور کراچی کی شہری ہونے کی حیثیت سے، اور ادب و شاعری کے رشتے سے میری عزیزہ تھی۔
جج: آپ کی اس سے ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟
میں: میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس کا نام بھی میں نے کچھ عرصے پہلے ہی سنا ہے۔ یہ درست ہے کہ جس زمانے میں وہ ادب کی دنیا میں داخل ہوئی، میں بھی ایک شاعر اور ادیب کی حیثیت سے کراچی میں ہی اپنی شناخت بنا رہا تھا۔ مگر وہ جس ادبی دائرے کی فرد تھی وہ قمر جمیل کے گرد گھومتا تھا اور میری قمر جمیل سے بھی کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ اس حلقے کے دوسرے لوگوں سے۔ میری ملاقاتیں احسان دانش، سلیم احمد، ماہر القادری، حکیم سعید، رحمان کیانی، شکیل احمد ضیا، احمد ہمیش، سلیم کوثر اور ان جیسے بہت سےحضرات سے تو رہیں مگر سارہ شگفتہ کے حلقے سے میں ناواقف ہی رہا۔ لیکن میرا یہ ادبی دور تین چار سال تک ہی رہا۔ اس کے بعد تعلیمی مصروفیات اور پھر شہروں سے دور ملازمت کے سبب میں تمام حلقوں سے کٹ کر رہ گیا۔
جج: اگر آپ انسانیت اور ہم شہر ہونے کے رشتے سے یہ مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں تو اس کے مدّعی آپ اکیلے کیوں ہیں۔
میں: جنابِ والا، میں نے چاہا کہ کچھ اور لوگوں، خصوصاً اپنی خواتین شاگردوں کو بھی اس مقدمے کی مدعیت میں شامل کروں مگر وہ سب لوگ خوفزدہ سے ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ وہ شدّت پسند لوگوں کی نظروں میں نہ آ جائیں۔
جج: اچھا مقدمے کی طرف آئیے، پھر کیا ہوا۔
میں: اس شخص سے سارہ کے تین بچے ہوئے۔ وہ شخص مار مار کر سارہ کے جسم پر نیل ڈال دیتا تھا۔ جب سارہ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس شخص نے سارہ کو جنازے پر جانے سے روک دیا اور کہا کہ آج کوئی انسان نہیں ایک کتّا مرا ہے۔ سارہ کے ضد کرنے پر اسے پائپ سے مار مار کر بیہوش کر دیا۔ رات کسی وقت وہ ہوش میں آکر دیوار پھاند کر جنازے میں شرکت کے لیے چلی گئی۔ واپسی پر پھر اس کے شوہر نے اسے پائپ سے مارا ۔ ایک بار سارہ کی بہن کی نوخیز بیٹی اس کے گھر رہنے کے لیے آئی۔ رات اس بچی نے خوفزدہ ہو کر سارہ کو مدد کے لیے پکارا۔ یہ اس کے کمرے میں پہنچی تو دیکھا کہ اس کا شوہر اس لڑکی کے بستر پر تھا۔ سارہ مزاج کی تیز تھی۔ اس نے شوہر کو برا بھلا کہا۔ بچی کی عزت تو بچ گئی مگر سارہ خود طلاق کا داغ لے کر اپنی ماں کے گھر واپس آ گئی۔
جج: اس واقعے کا کوئی گواہ۔
میں: وہی بچی اس واقعے کی واحد گواہ ہے اور اب پتا نہیں کہاں ہو گی۔
جج: یہ بہت برا ہوا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں عدالتی نظام گواہوں اور گواہیوں کی بنیاد پر چلتا ہے۔ بسا اوقات عدالت کو یقین بھی ہوتا ہے کہ گواہی جھوٹی ہے، مگر وہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہے، اور بسا اوقات عدالت کو یقین ہوتا ہے کہ دعویٰ سچّا ہے مگر اس کے حق میں کوئی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے عدالت اس کو تسلیم نہیں کر سکتی۔
میں : درست کہا جنابِ عالی۔ عام طور پر جب کوئی جر م ہوتا ہے تو اوّل تو اس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، اور اگر کوئی گواہ ہوں بھی تو وہ سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کا ایک سبب تو یہ خوف ہوتا ہے کہ مجرم ان کو نقصان پہنچائیں گے، اور دوسرا سبب عدالتوں کی طول طویل کارروائیاں اور کارروائی کے دوران مخالف وکیلوں کی طرف سے جرح کے نام پر گواہوں کی تذلیل ہے۔ اس معاملے میں عورت کے ساتھ کیے جانے والے جرائم تو زیادہ تر پولیس میں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ امریکہ جیسے ملک میں جہاں قانون کی حکمرانی کا بول بالا سمجھا جاتا ہے، ہر چھ میں سے ایک عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا جاتا ہے۔ وہاں اندازاً سالانہ تیرہ لاکھ سے کچھ زیادہ ایسے جرائم ہوتے ہیں، جن میں سے بمشکل اسّی سے نوّے ہزار کی پولیس میں رپورٹ ہوتی ہے، اور گواہیوں کے پیچیدہ نظام کے سبب تیرہ لاکھ مجرموں میں سے مشکل سے ہزار بارہ سو کو سزا ملتی ہے۔
جج: اور پاکستان میں؟
میں: جناب پاکستان میں تو پولیس رپورٹ لکھانا ہی بہت مشکل کام ہے۔ عورتوں کے ساتھ مارپیٹ تو ہمارا قومی ورثہ ہی سمجھ لیجیے، اس لیے اس کی تو رپورٹ ہی کوئی نہیں ہوتی۔ ویسے تو مرد بھی محفوظ نہیں، مگر مرد کم از کم بھاگ کر کہیں دور تو جا سکتے ہیں۔
جج: اچھا آگے چلیے۔
میں: عالی جاہ اس کے پہلے شوہر کا نام ملزموں میں شامل ہے۔
جج: ٹھیک ہے، مگر طلاق دے دینے پر خواہ وہ بلا سبب یا ظالمانہ ہی کیوں نہ دی گئی ہو، شائد دنیا کے کسی قانون میں کوئی سزا نہیں۔ کیا آپ نے اس مقدمے میں گواہوں کی کوئی فہرست داخل کی ہے؟
میں: گواہ تو بہت سے ہو سکتے تھے، مگر اہم گواہوں میں اَمرِتا پریتم اور ممتاز رفیق کے نام شامل کرنے کی درخواست کروں گا۔
جج: کیا آپ ان گواہوں کی حاضری یقینی بنا سکتے ہیں؟
میں: جنابِ عالی، امرتا پریتم تو اب اس دنیا کی باسی نہیں رہیں، تاہم وہ اپنی گواہی سارا شگفتہ کے بارے لکھی اپنی ایک کتاب میں چھوڑ گئی ہیں۔
جج: کتاب کی گواہی تو اس عدالت کے لیے ایک نیا اور دلچسپ نکتہ ہے۔ عدالت کو بتایا جائے کہ ملکی قانون کے مطابق کسی کتاب کی گواہی کسی مقدمے میں کس حد تک قابلِ قبول ہے۔
میں: ملکی قانون کے اعتبار سے تو کسی فاضل وکیل سے دریافت کر کے ہی بتا سکوں گا۔ البتّہ فلپائن کے قانون کے مطابق خاندانی بائبل پر تحریر کی ہوئی کسی تحریر کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔
جج: ممتاز رفیق نامی گواہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے۔
میں: ممتاز رفیق ایک معروف ادیب و شاعر ہیں اور اس ادبی دائرے کے آدمی ہیں جس میں مقتولہ اور اس کے دو شوہر شامل تھے۔ وہ مقتولہ کے دوسرے نکاح کے گواہ بھی ہیں جو ایک معروف شاعر سے ہوا تھا۔
جج: کیا آپ ممتاز رفیق کو اس عدالت میں حاضر کر سکتے ہیں؟
میں: میرے کہنے سے شائد وہ نہ آئیں۔ پھر 33 سال پہلے قتل ہونے والی ایک عورت کے لیے وہ اپنے ان زندہ دوستوں کو کیوں ناراض کریں گے جو اس وقت بہت نیک نام ہیں۔ خاص کر اس صورت میں جب ان کو اس عورت سے کچھ زیادہ ہمدردی بھی نہ ہو۔
جج: پھر ان کی گواہی کیسے لی جائے گی؟
میں: انہوں نے بھی ایک خاکوں کی کتاب لکھی ہے، بہ عنوان تصویر خانہ، جس میں مقتولہ کا خاکہ بھی بھید بھری کے عنوان سے لکھا ہے۔ میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ اس کتاب کو بھی گواہی کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔
جج: اگر عدالت نے کتاب کی گواہی مانی تو جہاں تک امرتا پریتم کا سوال ہے ان کی بات کو تو گواہی کے طور پر قبول کیا ہی جائے گا، جس پر وکلا ءِ صفائی کو جرح کرنے کی اجازت ہوگی، مگر ممتاز رفیق کی کتاب کی گواہی؟ کیا آپ حلف اٹھائیں گے کہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ سچ لکھا ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں لکھا۔
میں: میں یہ حلف اٹھاؤں گا کہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ سچ اور ظن یعنی قیاس آرائی کا آمیزہ ہے۔ اور عدالت کے سامنے سچ اور ظن الگ ہو ہی جائے گا۔
جج: سارہ کے بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کیجیے۔
میں : پہلے شوہر سے طلاق پانے سے پہلے ہی اس نے اپنے طور پر کتابیں خرید کر، تعلیم کے مخالف شوہر کی مار کھا کھا کر بھی، نویں جماعت کا امتحان دیا اور ساتھ ہی خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر میں ایک معمولی ملازمت شروع کر دی، اس کے بعد شائدمیٹرک کا امتحان بھی پاس کیا۔ اس کے شوہر نے جب سارہ کو طلاق دی، تو اس کا حق ِ مہر بھی ادا نہیں کیا اور تینوں بچّوں کو لے کر میانوالی چلا گیا۔ سارہ حد سے زیادہ دلیر تھی۔ تنِ تنہا میانوالی جا پہنچی اور سابق شوہر سے حق مہر اور بچوں کا مطالبہ کیا۔ اس بد بخت نے اس پر اپنے لوگوں کے ذریعے فائر کھلوا دیے۔ سارہ بمشکل وہاں سے ایک فوجی افسر کی مدد سے جان بچا کر لوٹی۔ پھر اس نے عدالت میں بچّے حاصل کرنے کے لیے مقدمہ کیا۔ یہاں اس کے سابق شوہر نے اس پر بد چلنی کا الزام لگایا۔ سارہ نے بچّے حاصل کرنے کی خاطر عدالت کے سامنے اس الزام کو قبول کر لیا اور کہا کہ یہ بچے اس شخص کے نہیں کسی اور کے ہیں، اس لیے میرے حوالے کیے جائیں۔ پولیس کی مدد سے سارہ نے بچّے حاصل تو کر لیے مگر کچھ عرصے بعد اس کا سابق شوہر اس کے گھر آیا اور سارہ سے کہا کہ کچھ دن کے لیے بچّوں کو اس کے ساتھ جانے دے۔ اس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ خود چند روز بعد بچّوں کو واپس پہنچا جائے گا۔ مگر پھر بچّے کبھی بھی سارہ کو نہیں مل سکے۔ وہ ساری زندگی ان کی یاد میں تڑپتی رہی، اور آخری وقت تک اس حوالے سے بھی شدید ذہنی اذیّت کا شکار رہی۔ جنابِ والا یہ سارہ کا ایمانی قتل تھا۔
جج: ٹھیک۔ آگے چلیے۔
میں : سارہ جہاں کام کرتی تھی وہاں پندرہ بیس لڑکیاں ملازم تھیں اور مرد صرف ایک۔ ایک شرمیلا سا نوجوان جو شاعر بھی تھا اور شاعروں کے ایک حلقے سے بھی تعلّق رکھتا تھا۔ سارہ کی طلاق کے کچھ عرصے بعداس شاعر نے سارہ کو شادی کی پیشکش کی۔ ہمارے دوسرے گواہ ممتاز رفیق کا ذاتی اندازہ یا قیاس ہے کہ سارہ شگفتہ نے نوجوان شاعر کو پھانس لیا۔
جج: اوہو۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ سارہ نے شاعر کو پھانسا؟
میں: عالی جاہ اس بات کا مقدمے سے براہِ راست کوئی تعلّق نہیں۔ تاہم ہمارے قانونی اور فقہی نظام میں کسی عورت کا شادی کے لیے کسی مرد کو شادی کی پیش کش کرنا کوئی جرم نہیں، اور جدید اخلاقی نظام کی روُ سےبھی یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک وکیل اپنا موکّل تلاش کرتا ہے۔
جج: اچھا پھرکیا ہوا۔
میں: جناب ، شادی کے بعد سب سے پہلے تو شرمیلے شاعر نے سارہ کی ملازمت پر پابندی لگائی کہ یہ خاندانی روایت کے خلاف ہے۔ اس طرح اس کا معاشی قتل کیا، کیونکہ اس کی اپنی آمدنی محدود تھی اور اس کے گھر کا خرچ بمشکل پورا ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب اس کی بیوی کا وضع حمل کا وقت آیا تو اس نے بیوی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ بیوی نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ شوہر نجانے کہاں غائب تھا۔ بیوی نے بچے کی لاش کو اسپتال میں چھوڑا۔ گھر آئی تو شوہر گھر میں تھا، اور روز کے معمول کے مطابق دو چار دانش ور دوست گھر میں بیٹھے ادبی مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ سارہ نے شوہر کو بچے کی اطلاع دی۔ شوہر اور اس کے دوستوں نے افسوس کا اظہار کیا، اور ایک دو منٹ کی خاموشی کے بعد پھر اپنی ادبی بات چیت میں محو ہو گئے۔ سارہ نے اکیلے جا کر کسی جاننے والی سے کچھ رقم ادھار لے کر اسپتال کازچگی کا بل چکایا۔ بچے کی تدفین کے لیے سارہ کے پاس پیسے نہیں تھے۔ سارا نے ڈاکٹر سے کہا کہ بچے کی لاش کو

خیراتی طور پر کہیں دفن کروا دے۔ یہ سارہ کا جذباتی قتل تھا۔

اس کے بعد سارہ نے فیصلہ کیا کہ وہ خود بھی شاعری کرے گی اور ان لوگوں کو دکھائے گی کہ شاعری کیا ہوتی ہے۔
جنابِ عالی ہمارے معاشرے میں کسی عورت کو ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کے لیے پانچ سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں۔
سب سے پہلا مسئلہ اس کی تعلیم
دوسرا مسئلہ ا دبی حلقوں، محفلوں، اور تحریروں تک رسائی
تیسرا مسئلہ لکھی ہوئی چیز کی اشاعت کی اجازت
چوتھا مسئلہ مردوں کی دنیا میں خود کو منوانا
اور پانچواں مسئلہ مردوں کے قدم بقدم چلتے ہوئے اپنی عزّت، عصمت اور نیک نامی کی حفاظت۔

آج کی دنیا میں پہلا مسئلہ تو بڑی حد تک حل ہو گیا،لیکن دوسرا مسئلہ جوُں کا توُں ہے کیونکہ ایک لڑکی /عورت اس طرح روزانہ اپنے گھر سے نکل کر کسی کافی ہاؤس یا کسی دوست کے گھر نہیں جا سکتی جیسے ایک مرد جا سکتا ہے۔ تیسرا مسئلہ اشاعت کا ہے جو اب بھی قائم ہے۔ اوّل تو شادی سے پہلے بھی گھر والے اپنی بیٹی کی تحریروں کی اشاعت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے، اور شادی کے بعد توشوہر بالکل پسند نہیں کرتے کہ ان کی بیوی کا نام رسالوں میں چھپے۔ چوتھا مرحلہ مردوں کے اِس سماج میں عورت لکھاری کا خود کو منوانا ہے جو اب بھی بہت دشوار ہے۔ عورتوں کو لوگ اپنے برابر آتے دیکھ کر عجب احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں، کجا یہ کہ کوئی عورت ان کو بہت پیچھے چھوڑ جائے۔ یہ لوگ یہی سمجھتے اور افواہیں پھیلاتے ہیں کہ اچھا لکھنے والی ہر عورت کسی مرد سے لکھوا کر اپنے نام سے چھپواتی ہے۔ اور پانچویں آزمائش یعنی ایک عورت کا عملی زندگی میں رہتے ہوئے اپنی نیک نامی کی حفاظت کرنا پاکستانی معاشرے میں تقریباً ناممکن ہے ۔ عورت کتنی بھی باعصمت ہو لوگ تہمت لگانے سے باز نہیں آتے۔ ہاں ان عورتوں کو استثنا حاصل ہے جو گھر کی چاردیواری میں رہ کر اسلامی قسم کی تحریریں اسلامی قسم کے رسالوں میں چھپواتی ہیں۔
جج: کیا آپ کے بیان کا مقدمہ سے کوئی تعلّق ہے؟
میں: جی جناب بالکل ہے اور ابھی یہ بات واضح ہو جائے گی۔ سارہ ایک بہت باصلاحیت عورت تھی۔ اُس میں سمجھنے کا مادہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور سیکھنے کا بھی۔ ساتھ ہی اُس میں اظہار کی بھی صلاحیت بے پناہ تھی۔ تعلیم سے محرومی کو اس نے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا اور اپنے طور پر مطالعہ کر کے اس نے اپنے علم کے معیار کو بلند کیا۔ اور ساتھ ساتھ شاعری شروع کر دی۔ صنفِ سخن کے طور پر اس نے نثری نظم کو چُنا جو اُس زمانے میں نئی نئی متعارف کروائی جا رہی تھی اور جہاں نام پیدا کرنے کی بہت گنجائش تھی۔ وہ فطری طور پر بیباک تھی اس لیے مردانہ محفلوں میں شمولیت اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنی، اور چونکہ اس زمانے میں نثری نظم کو قبول عام حاصل نہیں ہؤا تھا اس لیے اس پر یہ الزام بھی نہیں لگ سکا کہ وہ کسی سے لکھواتی ہے۔ لیکن جناب وہ بدنصیب عورت آخری مرحلے یعنی اپنی نیک نامی کی حفاظت میں ناکام ہو گئی۔مکمّل ناکام۔ وہ بلا کی فطین بھی تھی اور دلیر بھی۔اس کی یہی دلیری اس کو لے ڈوبی، جیسے جاپانیوں کی دلیری ناگا ساکی کو لے ڈوبی تھی۔
جج: کیا اس پر لگنے والے الزام بے بنیاد تھے یا ان میں کچھ سچّائی بھی تھی۔
میں: حضور میں اس معاملے میں کوئی معلومات نہیں رکھتا، اس لیے عدالت کی معاونت سے قاصر ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ فرد چاہے انتہائی پارسا ہو یا انتہائی بدکردار، اس کا قتل کسی بھی باشعور معاشرے میں روا نہیں رکھا جا سکتا۔ الّا یہ کہ کسی قانون کی عدالت نے اسے سزا سنا دی ہو۔
جج: عدالت کو آپ کے نکتے سے اتّفاق ہے۔ بیان جاری رکھیے۔
میں: سارہ کے شوہر کے دوستوں کا شوہر کی موجودگی میں اس کے گھر بلا تکلّف روز کا آنا جانا تھا۔ ایک دن ان میں سے ایک دوست نما صاحب نے سارہ سے، جی ہاں جناب شادی شدہ سارہ سے جو اس کے دوست کی بیوی تھی، عالی جاہ وہ کوئی رکھیل نہیں تھی، منکوحہ تھی، اس سے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان الفاظ کے پیچھے حقیقت کیا تھی۔ کسی کو نیچا دکھانے کی خواہش، کوئی شرط لگائی گئی تھی یا کوئی مقابلہ تھا۔ سارہ نے بہرحال دو ٹوک الفاظ میں اس بکواس کو وہیں مسترد کر دیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
سارہ عورت تھی نا، اور سادہ دل بھی۔ شائد کسی کو اپنے راز میں شریک کرنا چاہتی تھی۔ چند روز بعد شائد سارہ نے خود ہی یہ بات اپنی ایک ملنے والی کو بتائی، لیکن بقول سارہ کے اس نے خود بھانپ لی۔ عین ممکن ہے وہ کُٹنی باقاعدہ سازش کا حصّہ رہی ہو ۔ اس نے بات بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ وہ آدمی تم کو کیسا لگتا ہے؟ سارہ نادان بھی تھی اور بیحد دلیر بھی، کہہ بیٹھی کہ خوبصورت ہے، اسمارٹ ہے، اچھا لگتا ہے۔ مگر وہ عورت راز کو راز نہ رکھ سکی۔ بات کسی طرح سارہ کے شوہر تک پہنچ گئی۔ ایک شام اس کا شوہر اپنے دوست نما کو ساتھ لیے گھر پہنچا۔ سارہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ کیا تم نے یہ الفاظ کہے ہیں؟ دلیر سارہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقرار کر لیا، اور مردانگی سے بھرے شوہر نے وہیں کھڑے کھڑے اسے تین طلاق دے دیں۔ یوں عالیجاہ اس آدمی نے سارہ کا سماجی اور فقہی قتل کیا۔ اب وہ عورت بے گھر بھی تھی، بے روزگار بھی اور بے سہارا بھی، اور بالکل اکیلی بھی۔ اس دوسری طلاق سے پہلے ہی سارہ ایک معروف شاعرہ بن چکی تھی۔ مختصر عرصے میں شہرت کی بلندی۔ اس کے مقابلے میں اس کا شوہر اور اس کے دوست رینگ رہے تھے۔ شاید طلاق کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو۔
جج: آپ جذباتی گفتگو کا فن خوب جانتے ہیں، مگر ابھی تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی جسے قانون کی خلاف ورزی کہا جا سکے۔
میں: جناب والا وہ نکتہ اب میَں آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔ اس طلاق کے بعد وہ دوست نما جس کی وجہ سے یہ طلاق ہوئی تھی، بظاہر بہت شرمندہ تھا۔ اس نے عدّت ختم ہونے کے بعد سارہ کو شادی کی پیشکش کی۔ سارہ اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر بے سہارا ہونے کی وجہ سے مجبور تھی۔ اس شخص نے بھی گویا ضد باندھ لی تھی کہ سارہ سے شادی کر کے رہے گا۔ ہر طرح کی منّت خوشامد، دوستوں کا دباؤ، نتیجتاً سارہ مان گئی اور اس کا نکاح اس دوست نما سے ہو گیا۔ یہ شخص خود بھی نثری نظم کا شاعر تھا، اور آج بھی لوگ اس قاتل کا شمار نثری نظم کے بانیوں میں کرتے ہیں۔
جج: گویا یہ سارہ شگفتہ کی تیسری شادی تھی۔
میں: جی جناب۔ وہ شخص سارہ کو شادی کر کے اپنے گھر تو لے گیا مگر اس کی ماں اور بہنوں نے پہلے دن سے ہی سارہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس کی ماں کا خیال تھا کہ سارہ نے اس کے بیٹے کو پھانس لیا ہے۔ اسی دن سے ذہنی اذیّت کا آغاز ہو گیا۔ ایک ہفتے بعد اس کے شوہر کی سوچ بھی کھُل کر سامنے آ گئی۔ وہ سارہ کی شہرت اور مقبولیت سے حسد کرتا تھا۔ اس نے سارہ کو بے تحاشا مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ اس کے جسم کو اپنے پیروں سے کچل بھی دیتا تھا۔ ساتھ ہی شدید طنز آمیز باتیں۔ سارہ سے اپنے جوتے پالش کرواتا تھا اور کہتا تھا عظیم شاعرہ میرے جوتے پالش کر رہی ہے۔
جج: یہاں قانونی جرم کا آغاز ہوتا ہے، مگر یہ قتل نہیں، نہ اقدامِ قتل ہے۔
میں: جی جناب۔ مگر اُن چند ماہ میں جو سارہ نے اس شقی القلب درندے کے ساتھ طلاق لینے کی جد و جہد میں گزارے، وہ اپنا ذہنی سکون برقرار نہ رکھ سکی۔ یوں اس شخص نے ایک پہلے سے بہت دکھی عورت کو ایک ذہنی مریضہ بنا دیا۔ کسی طرح اس بھیڑیے سے طلاق لینے کے بعد سارہ نے پانچ بار خودکشی کی کوشش کی۔ کئی بار اسپتال میں داخل رہی۔ اسے بجلی کے جھٹکے دیے جاتے تھے۔ اس کو پاگل نہ ہوتے ہوئے بھی پاگلوں کے ساتھ رکھا گیا۔ عالیجاہ ان لوگوں کا نام بھی ملزمان میں شال کرنے کی درخواست ہے۔
جج: مگر اسپتال کے اسٹاف نے تو وہی کیا جو ان کی سمجھ میں آیا۔
میں: جناب ایک عام آدمی بھی ایک صحیح الدماغ اور ایک پاگل میں فرق کر سکتا ہے، تو کیا وہاں کے ڈاکٹرز اور اسٹاف کو اتنا اندازہ نہیں ہوگا۔ یہ لوگ اس کے قتل میں برابر کے شریک ہیں جناب۔ پاگل خانے میں رہنے سے اس کے مرض میں اور شدت آ گئی۔ اور اس کا خودکشی کا رجحان مزید بڑھ گیا۔ ایک اسپتال کے وارڈ بوائے نے اس کو پاگل سمجھ کر اس کو چھیڑا۔ سارہ نے اس کو ڈانٹ تو دیا مگر اسے ساری عمر اس بات کا قلق رہا کہ اسپتالوں کے لوگ اتنے گھٹیا بھی ہو سکتے ہیں۔
جج: مگر قانونی طور پر یہ بات صرف ماہر ڈاکٹروں کا ایک پینل ہی طے کر سکتا ہے کہ ڈاکٹروں نے کوئی غلط بات کی۔
میں: بہتر ہے جناب۔
جج: مزید کچھ
میں: جی جناب عالی۔ کسی ڈاکٹر نے نے اس کی ماں کو کہا کہ اس کا علاج شادی ہے۔ سارہ کی والدہ نے ایک بار پھر سارہ کی شادی کر دی۔ وہ ایک جاگیردار تھا۔ وہ بھی انتہائی اذیّت پسند اور تشدّد پسند نکلا۔ سارہ نے اس سے بمشکل طلاق لی۔ مگر وہ شخص سارہ کے پیچھے پڑا رہا۔ وہ بھی سارہ کی شاعری کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار تھا۔ جس اسپتال میں سارہ زیرِ علاج وہاں اس کے کمرے میں گھس گیا۔ گارڈز نے سارہ کو اس سے بچایا۔ پھر اس شخص نے کسی کو درمیان میں رکھ کر سارہ کو کراچی میں ایک گھر میں بلایا کہ کسی عزیزہ کی طبیعت بہت خراب ہے اور وہ سارہ سے ملنا چاہتی ہے۔ سارہ پھر بیوقوف بن کر وہاں چلی گئی۔ یہاں اس نے سارہ کو چاقو کے کئی وار کر کے لہو لہان کر دیا۔ آواز سن کر ایک پڑوسی دیوار کود کر اندر پہنچا۔ سارہ پھر موت کے منہ سے بمشکل نکل سکی۔ جناب والا، یہاں میں آپ کے اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں جو آپ نے ابتدا میں پوچھا تھا کہ اس جرم کی پولیس رپورٹ کیوں نہیں کروائی گئی۔ عالی جاہ زخمی شگفتہ جب اقدام قتل کا مقدمہ درج کروانے کے لیے تھانے گئی تو تھانیدار نے کہا کہ بی بی مقدمہ درج کرنے کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جج صاحب جب ایک زخمی عورت سے مقدمہ درج کرنے کے لیے گواہ مانگے جاتے ہیں تو آج 33 سال بعد کون سا پولیس والا میرا مقدمہ درج کرے گا۔
جج: یہ واقعہ واقعی بہت پرانا ہو گیا۔ اب اس کو زندہ کرنے کا کیا فائدہ۔
میں: عالی جاہ قتل جیسا جرم کتنا بھی پرانا ہو جائے قانون کی نظر میں ہمیشہ قابلِ سزا رہتا ہے، خواہ مجرم کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اور آج اگر آپ سارہ کے مجرموں کو سزا سنائیں گے تو کل کو دوسری عورتوں کو بھی انصاف مل سکے گا۔
جج: یہ نکتہ بھی درست ہے۔
میں: جناب والا، ان حالات میں وہ پاگل تو نہیں ہوئی، مگر اکثر اس پر پاگل پن کے دورے سے پڑتے تھے۔ جب اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائیوں نے اسے گھر سے نکال دیا۔ گویا ایک بار پھر اس کا سماجی قتل کر دیا گیا۔ چند سال یونہی گزرے۔ وہ بدنام ہوتی گئی۔ لوگوں نے اس پر اپنے گھروں کے دروازے بند کرنے شروع کر دیے۔ اتنی اچھی شاعرہ، اور اس کے ساتھ معاشرے کا یہ سلوک۔ یہ اس کا اخلاقی قتل تھا۔
جج: لوگوں کا حق ہے جس کو چاہیں اپنے گھر میں داخل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں۔ کیا وہ اخلاقی اعتبار سے بدنام ہو گئی تھی؟
میں: جی جناب، وہ بہت بدنام ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود وہ ایک انسان تو تھی۔ اس کے انسانی حقوق تو نہیں چھینے جا سکتے تھے۔ اس کے ساتھ تو یہ بھی ہوا کہ یونیورسٹی کے کسی طالب علم نے اس کے اعزاز میں ایک ادبی محفل رکھنے کے بہانے اسے ایک گھر میں بلایا، جہاں اس کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ سارہ اس کے ساتھ ایک رات گزارے۔ سارہ ششدر رہ گئی۔ اس نے سختی سے انکار کیا۔ اگر وہ اوباش ہوتی تو اس لڑکے کو کیوں انکار کرتی۔ جناب یہ تو ممکن ہے کہ کہیں کہیں اس نے اخلاقی حدود بھی پار کی ہوں، مگر کون تھا جو اس کا طلبگار نہیں تھا، اور کون تھا جو اسے بدنام کرنے میں پیش پیش نہیں تھا۔ مگر ہم کو یہ بات یاد رکھنی ہو گی کہ وہ شروع سے ایسی نہیں تھی۔ جب تک اس کو اس کے دوسرے شوہر نے کھڑے کھڑے طلاق نہیں دی تھی، وہ ایک پارسا گھریلو عورت تھی۔
جج: اس کے بعد کیا ہؤا؟
میں: بالآخر جون 1984 کی ایک صبح سارہ نے ایک ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے خودکشی کی، مگر عالیجاہ یہ قتل تھا۔ وہ اپنے بیٹے سے ملنے کوئٹہ گئی تھی۔ وہاں پتا نہیں اس سے کیا کہا گیا۔ ماں اور بیٹے کا تعلق بہت نازک ہوتا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بیٹے نے ماں کو کچھ کہا جس کے نتیجے میں اس نے مرجانا بہتر سمجھا۔ جناب کیا اس کو جذبات کے ہتھیار سے کیا گیا قتل نہیں سمجھا جائے گا۔
جج: کیا آپ کی بات مکمّل ہو گئی۔
میں: جی ہاں جنابِ والا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ بیان کردہ حقائق کی روشنی میں کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا جائے۔ اور جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
جج: عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے کہ گو بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کے چار شوہروں اور متعدد دیگر افراد نے اس کو ذہنی اذیّتیں دے دے کر اس کو بار بار اقدامِ خودکشی اور آخرکار خودکشی کی طرف دھکیلا، جو اخلاقی نقطہء نظر سے قتل ٹھہرتا ہے مگر ناکافی گواہان، دھندلے شواہد، مسخ شدہ حقائق، براہ راست قتل نہ ہونے اور ضابطے کے مطابق کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اس کیس کو اس قانونی عدالت میں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم مدّعی اگر چاہے تو اس کیس کو اخلاق کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اخلاق کی عدالت میں

عدالت کا پیشکار: اخلاق کی عدالت میں مسماۃ سارہ شگفتہ کے قتل کا مدّعی آصف اکبر پیش ہو۔

میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچ کرمنصفین کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں۔کمرہ عدالت میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ کچھ وکلاء، کچھ عام شہری اور کچھ نمایاں دانشور۔ منصفین کی تعداد دس کے قریب ہے، جو سب اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں۔
(
عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔)
ایک جج: مدّعی آصف اکبر آپ نے درخواست دی تھی کہ اس مقدمہ قتل میں ایک بڑی بنچ تشکیل دی جائے جس میں اخلاقی قوانین سے متعلق تمام نمایاںطبقات کو نمائندگی دے جائے۔ آپ کی درخواست قبول کرتے ہوئےایک بڑی بنچ تشکیل دے دی گئی ہے۔ آپ کو اس بنچ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔
میں: عالیجاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے بنچ کے فاضل ممبران کی فہرست فراہم کی جائے۔
(
عدالت کی جانب سے مجھے اور کچھ اور لوگوں کو فہرست فراہم کی جاتی ہے۔)
فہرست منصفینِ عدالتِ اخلاق برائے سارہ شگفتہ مقدمہ ء قتل
نمائندہ صحافت
نمائندہ اساتذہ
نمائندہ ماہرینِ تاریخ
نمائندہ ماہرینِ عُمرانیات
نمائندہِ ادب
نمائندہِ سائنس
نمائندہِ قانون
نمائندہِ سیاست
نمائندہِ علماء
نمائندہِ خواتین، جن کو ایک خاتون کا مقدمہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔
————-
میں: مجھے اس عدالت کے منصفین میں نمائندہِ علماء کی شمولیت پر اعتراض ہے۔ میری درخواست ہے کہ ان کو زحمت نہ دی جائے۔
نمائندہ علماء: آپ کو میری شمولیت پر کیوں اعتراض ہے۔
میں: آپ کے طبقے کو اخلاقی قانون سازی کا ماخذ سمجھا جاتا ہے، اور کوئی بھی اخلاقی قانون بناتے ہوئے اس طبقے کا بنیادی اصول عورت دشمنی ہوتا ہے، اس لیے مجھے یقین ہے کہ استغاثہ کتنا ہی جائز کیوں نہ ہو آپ ہمیشہ عورت کے خلاف فیصلہ دیں گے۔
عدالت کی سربراہ: آپ کا یہ مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔
میں: اگر آپ یہ یقین دلادیں کہ نمائندہ علماء سمیت تمام ارکان منصف کا ہی کردار ادا کریں گے اور خود مقدمے میں فریق نہیں بنیں گے تو مجھے یہ پینل قبول ہوگا۔
سربراہ: یہ عدالت آپ کو یقین دلاتی ہے کہ سارے منصف منصف کا کردار پوری سچّائی سے ادا کریں گے، اور مقدمے میں فریق نہیں بنیں گے۔
میں: مجھے آپ کی یقین دہانی پر پورا اعتماد ہے۔ عدالت سے درخواست ہے کہ مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔
عدالت: عدالت نے اپنی معاونت کے لیے ایک معروف قلمکار کو وکیل صفائی کے طور پر کام کرنے کی زحمت دی ہے۔ وہ کارروائی کے دوران جہاں مناسب سمجھیں گے، آپ سے سوالات اور جرح کرتے رہیں گے۔ آپ استغاثہ پیش کریں۔
میں: میرا استغاثہ 4 جون 1984 کو کراچی میں ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہونے والی معروف خاتون شاعرہ سارہ شگفتہ کو انصاف کی فراہمی کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں میں نے ایک قانونی عدالت میں بھی انصاف طلبی کے لیے درخواست دی تھی، مگر ضابطوں کی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ مقدمہ وہاں قابلِ سماعت نہیں ٹھہرا۔ اس مقدمے میں میں نے جو کوائف بیان کیے تھے ان کی تمام تفصیل اِس فاضل عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔ وقت بچانے کے لیے میں ان معاملات کو دہرانے سے گریز کروں گا۔
میری استدعا ہے کہ سارہ شگفتہ کے زندگی کے حالات کی روشنی میں اس عدالت کی جانب سے اس کی موت کو ایک قتل قرار دیا جائے اور اس کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا سنائی جائے۔
وکیل صفائی: آپ کو علم ہے کہ سارہ کی اخلاقی شہرت کیا ہے؟
میں: مجھے اچھی طرح علم ہے کہ اس کی اخلاقی کیفیت کیا تھی، اور اس کے بارے میں اس کی زندگی میں کیا کیا کہا گیا، اور اس کی موت کے بعد بھی اس پر کیا کیا الزامات لگائے گئے۔ مگر اس مقدمے کا اس کی اخلاقی شہرت سے کوئی لینا دینا نہیں۔
یہاں استغاثہ اس بات کا خواہاں ہے کہ معاشرے نے اور معاشرے کے کرداروں نے اس خاتون کے ساتھ جو جسمانی اور ذہنی تشدّد کیا، جس کے نتیجے میں وہ بڑی حد تک دماغی بیماریوں کا شکار ہو گئی، اور آخرکار یا تو اس نے خود موت کو گلے لگا لیا، یا وہ موت کا شکار ہو گئی، اس سلوک کو آہستہ رو قتل قرار دیا جائے۔
وکیل صفائی: اس کے لیے مدّعی کو عدالت کے سامنے ثابت کرنا ہوگا کہ مرحومہ کی دماغی کیفیت واقعی اس کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے غیر متوازن ہوئی تھی۔
میں: میں معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس عدالت میں کسی امر کو ثابت کرنے کے معیار واضح کیے جائیں۔
کیا اخلاقی طور پر کوئی شخص صرف الزام لگنے کی وجہ سے برا گردانا جا سکتا ہے؟
عدالت (ماہرِعُمرانیات): جی نہیں۔ اصولاً تو کسی شخص کو صرف الزام لگنے کی وجہ سے برا نہیں گردانا جانا چاہیے۔ مگر معاشرے میں اخلاقی قدروں کے زوال پذیر ہونے کی وجہ سے اس کے ارکان کبھی حقیقت اور کبھی ظن و گمان کو بنیاد بنا کر منفی باتیں کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ جب یہ باتیں تواتر کے ساتھ کی جانے لگیں تو جس کے بارے میں بات کی جارہی ہو، وہ بدنام ہوجاتا ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے اپنی ذاتی مثال دینا چاہوں گا۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: دور طالب علمی میں، میں کچھ عرصے جامعہ کراچی کے ہاسٹل میں مقیم رہا۔ وہاں ایک شام ایک لڑکے نے جسے میں زیادہ نہیں جانتا تھا مجھے شطرنج کھیلنے کی دعوت دی۔ میں نے اس کے کمرے میں ایک دو گھنٹے اس کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہوئے گزارے۔ دو دن کے بعد مجھے ڈپارٹمنٹ میں ایک دوست ملے۔ کہنے لگے سنا ہے آپ جوا کھیلنے لگے ہیں؟ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ جوا تو الحمد للہ میں نے آج تک ایک پیسے کا نہیں کھیلا۔ میں نے ان دوست سے پوچھا کہ آپ یہ بات کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ بولے فلاں دن آپ اس لڑکے کے کمرے میں گئے تھے۔ میں نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگے وہ تو جواری ہے۔ آپ اس کے کمرے میں گئے تھے تو ظاہر ہے جوا کھیلنے گئے ہوں گے۔
عدالت سے میری درخواست ہے کہ اس منطق پر غور کیا جائے جو ہمارے معاشرے میں عام ہے یعنی ظاہر ہے۔
وکیل صفائی: آپ یونیورسٹی شطرنج کھیلنے گئے تھے یا تعلیم حاصل کرنے؟
میں: میں معزّز عدالت کے ریکارڈ پر یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ یہ سوال مقدمے سے متعلّق نہیں، اس لیے میں اس کا جواب نہیں دینا چاہتا۔
وکیل صفائی: تو پھر آپ نے جو اپنا واقعہ سنایا کیا وہ مقدمے سے کوئی تعلّق رکھتا ہے؟
میں: آپ عدالت سے درخواست کیجیے۔ یہ فیصلہ عدالت کرے گی کہ میرا واقعہ متعلّق ہے یا نہیں۔
عدالت: آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو نہ دیجیے۔
میں: میں شکر گزار ہوں۔ میں وکیل صفائی کا بھی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے یہ سوال کر کے ہمارے روایتی اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
عدالت: آپ مقدمے پر بات کیجیے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے صرف یہ بات لانا چاہ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ادھوری معلومات کی بنیاد پر مکمّل نتائج اخذ کرنے کے کتنے ماہر ہیں۔
وکیلِ صفائی: جیسے آپ ادھوری معلومات کی بنیاد پر اس عدالت میں مقدمہ لے آئے ہیں۔
میں: میں عدالت سے رولنگ چاہتا ہوں کہ کیا وکیلِ صفائی کو مقدمے کی کارروائی کے دوران یہ بات کہنے کا حق حاصل ہے؟
عدالت: معلومات کو مکمل یا نامکمّل قرار دینا صرف عدالت کا اختیار ہے۔ تاہم بحث کے دوران وکیل صفائی اس جانب عدالت کی توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔
میں: میں نے درخواست کی تھی کہ اس عدالت میں کسی امر کو ثابت کرنے کے معیار واضح کیے جائیں۔
عدالت: اس عدالت میں عالمی اخلاقی اقدار ہی معیار ہیں۔ کسی چیز کو ثابت کرنے کے دو طریقے ہیں۔ اوّل گواہی یا بیان۔ دوسرے منطقی استدلال۔ گواہی میں گواہ کی شہرت کی اہمیت اس عدالت میں بھی ویسی ہی ہے جیسی قانون کی عدالت میں۔
میں: اس وضاحت کے لیے شکر گزار ہوں۔ ایک وضاحت اور چاہتا ہوں کہ ایک مسکین سے شخص کو اگر کوئی طاقتور ستاتا ہے، اس پر تشدد کرتا ہے، اس کو گالیاں دیتا ہے، اس کو جسمانی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے، اور ایسی جگہ جہاں کوئی گواہ نہیں، تو اس کے لیے قانون کی عدالت تو گواہ مانگتی ہے، کیا اخلاق کی عدالت بھی اس پر گواہ طلب کرے گی؟
عدالت: اگر اس شخص کی شہرت بری نہیں، یعنی وہ جھوٹا نہیں سمجھا جاتا ، تو اخلاق کی عدالت اس شخص کو سچّا سمجھے گی۔ چاہے وہ کوئی گواہ نہ بھی پیش کر سکے۔
میں: اور اگر ایک عورت بیان دیتی ہے کہ اس پر اس کا شوہر جسمانی تشدد کرتا ہے جس کا گواہ ظاہر ہے مشکل سے ہی کوئی مل سکتا ہے، تو کیا وہ اخلاق کی عدالت میں سچی سمجھی جائے گی؟
عدالت: جی ہاں، اگر اس کی شہرت سچ بولنے کے معاملے میں بری نہیں۔
میں: اگر ایک بری عورت، بہت بری عورت، سمجھ لیجیے جسم فروش، یہ فریاد لے کر آتی ہے کہ اس کے ساتھ کچھ لوگوں نے جسمانی اور ذہنی تشدّد کیا ہے، اور زیادتی کی ہے تو کیا اس کو اس عدالت میں سچا مانا جائے گا؟
عدالت: وکیلِ صفائی آپ کیا کہتے ہیں؟
وکیلِ صفائی: یہ تو حالات پر اور تفتیش پر منحصر ہوگا۔
میں: میں عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ اس نکتے پر خصوصی توجہ دی جائے کہ شہرت بری ہونے اور سچ بولنے کے معاملے میں شہرت بری ہونے میں فرق ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص شرابی جواری ہو مگر سچ بولتا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی بہت پرہیزگار ہو مگر جھوٹ بولتا ہو۔
عدالت: آپ کا یہ نکتہ ملحوظ رکھا جائے گا۔
میں: اب ہم مقدمے کے پہلے ملزم کی جانب آتے ہیں۔ یہ سارہ کا پہلا شوہر۔اس کے بارے میں سارہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک جاہل اور اوباش شخص تھا، بات بات پر اتنا مارتا تھا کہ بدن پر نیل پڑ جاتے تھے۔ اور جب چاہتا جانوروں کی طرح ہم بستری کرتا تھا۔
وہ کہتی ہے خیر کوئی بات نہیں۔ ہمارے یہاں کا شوہر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور بیوی کو تو ایسا ہونا ہی ہے۔
بیوی کی بھانجی کے ساتھ زیادتی کا خواہشمند یہ شوہر، اس خواہش میں رکاوٹ ڈالنے کی سزا میں بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور بچوں کو لے کر چلا جاتا ہے۔
جب سارہ نے عدالت میں بچوں کے حصول کے لیے درخواست دی تو اس پر بد چلنی کی تہمت لگائی۔ عدالت نے جب بچے ماں کے حوالے کر دیے تو اس ماں کی خوشامد کر کے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ بچوں کو کچھ دن کے لیے ساتھ جانے دو، اور پھر وہ بچے کبھی واپس نہیں ملے۔ جب وہ لینے کے لیے میانوالی گئی تو اس پر فائر کھول دیا گیا۔
میں اس معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شخص کو سارہ کے قاتلوں میں شمار کیا جائے، جس نے اس پر نہ صرف جسمانی، ذہنی اور روحانی تشدّد کیا، اور ایک عقلمند، علم کی جویا، بچوں سے محبت کرنے والی، محنتی، شریف عورت کو بچوں کی جدائی کے مستقل عذاب میں مبتلا کر کے اس کی زندگی کو جہنّم بنا دیا، جو آخرکار اس کی دردناک موت پر منتج ہوئی، بلکہ اس پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، جس سے اس کی جان بچ جانا ایک معجزہ ہی تھا۔
وکیل صفائی: میرے معزّز دوست یہ بتانا بھول گئے کہ سارہ نے بچوں کے مقدمے کی عدالت میں اپنی بد چلنی کو تسلیم کیا تھا۔
میں: اور آپ نے مان لیا۔ یہ بھول گئے کہ سارہ جب تک پہلے شوہر کے گھر میں رہی سخت پردے میں اور ساس کی نگرانی میں۔ بعد میں مجبور ہو کر اس نے ملازمت شروع کر دی تھی مگر اس میں بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر۔ کہ گھر پر بچے، کھانا پکانا، دوسرے کام اور پڑھنا۔ اس نے عدالت میں یہ بات احتجاجاً تسلیم کی تھی، اقراری بیان نہیں دیا تھا۔

عدالت: وکیل صفائی غیر ضروری مداخلت سے اجتناب کریں۔
وکیل صفائی: بہتر ہے۔
میں: اب ہم دوسرے ملزم کی طرف آتے ہیں۔ یہ ایک نوجوان شاعر تھا جو سارہ کے ساتھ کام کرتا تھا۔ دونوں نے طے کیا کہ انہیں شادی کر لینی چاہیے۔ ایک دو ملاقاتوں کے بعد ان کی شادی ہو گئی۔
وکیل صفائی: میں عدالت کی اجازت سے اس طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ وہ نوجوان شاعر ایک سادہ لوح شخص تھا جس پر سارہ نے ڈورے ڈال کر اپنے جال میں پھنسایا۔
میں: میں بھی عدالت کو یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ نکاح کرتے وقت وہ نوجوان عاقل اور بالغ تھا، اور اس نے کسی دباؤ کے بغیر یہ نکاح دو گواہوں کی موجودی میں برضا و رغبت کیا تھا۔ اگر اس نوجوان کو کو کوئی بھی بہی خواہ سادہ لوح کہتا ہے تو وہ درحقیقت اس کی تنقیص کرتا ہے۔ ساتھ ہی میں اپنے معاشرے کے دہرے اخلاقی معیار کی طرف بھی عدالت کی توجّہ دلانا چاہوں گا۔ ساری دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کو، کسی دوسرے عورت یا مرد کو کسی بھی جائز معاشرتی معاملے کی طرف بلانے کی قانونی اور اخلاقی آزادی ہے خواہ وہ نکاح ہو، کاروبار ہو، انجمن سازی ہو، کھیل ہو۔ برائی جب ہوتی ہے جب اس معاملے میں کوئی غلط بیانی کی جائے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اگر عورت خود کسی مرد کو نکاح کی تجویز دے تو شرعی اعتبار سے جائز ہونے کے باوجود معاشرتی اقدار کے نام نہاد علمبردار اس کو ڈورے ڈالنا کہہ دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ سارہ کے بیان کے مطابق اس نوجوان نےخود اسے شادی کی پیشکش کی تھی۔
عدالت: آگے چلیے۔
میں: سب سے پہلی شکایت یہ کہ اس شوہر ثانی نے سارہ کی سرکاری ملازمت چھڑوا دی۔ دوسری شکایت یہ کہ بیوی کو مالی طور پر اپنا محتاج رکھا۔ تیسری زیادتی بیوی کو تنہائی کا شکار بنایا۔ یہاں تک کہ یہ شخص شام گھر لوٹنے کے بعد بھی سارا وقت دوستوں کے ساتھ مصروف رہتا تھا۔ بیوی کا کام صرف کھانا پکانا تھا۔ اور سب سے بڑی زیادتی جس کی بابت سارہ نے بہت تفصیل سے بتایا ہے کہ جب اس کو دوسرے شوہر کے بچے کی ولادت کا درد شروع ہوا تو اس کا شوہر اپنے علم کے غرور میں (شاید یہ خیال کر کے کہ ابھی ولادت میں بہت وقت ہے) اسے اکیلا چھوڑ کر کہیں نکل گیا۔ مالک مکان عورت اس کی چیخیں سن کر اس کے پاس آئی اور اسے پانچ روپے تھما کر اسپتال چھوڑ آئی۔ کچھ دیر بعد بچہ پیدا ہوا جس کو لپیٹنے کے لیے سارہ کے پاس تولیہ بھی نہیں تھا۔ پانچ منٹ بعد بچہ مر گیا۔ وہ اسپتال میں بچے کی لاش چھوڑ کر گھر پہنچی جہاں کچھ دیر بعد اس کا شوہر اور اس کے دوست بھی پہنچے۔ سارہ نے شوہر کو بچے کی موت کی اطلاع دی۔ یہ خبر سن کر سب لوگ دو منٹ خاموش رہے اور اس کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔ فرائڈ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اور راں بو کیا کہتا ہے وغیرہ۔ سارہ کہتی ہے اس روز علم میرے لہو میں قہقہے لگا رہا تھا۔ ۔۔۔۔ ایک گھنٹا گفتگو رہی اور خاموشی آنکھیں لٹکائی مجھے دیکھتی رہی۔پھر دوست رخصت ہوئے۔ سارہ تنِ تنہا گھر سے نکل کر اپنی کسی دوست کے پاس گئی اور اس سے تین سو روپے ادھار مانگے۔ تین سو روپے لے کر اسپتال پہنچی، اسپتال کا بل دو سو پچانوے روپے ادا کیا۔ بچے کی لاش کو لاوارث چھوڑ کر اور ڈاکٹر سے یہ کہہ کر کہ چندہ کر کے اسے دفن کر دینا، گھر واپس پہنچ گئی۔ یہ وہ سلوک ہے جو کوئی شخص کسی اجنبی کے ساتھ بھی نہیں کرتا مگر سارہ کے ساتھ ہوا۔ اس دن سارہ کی کایا پلٹ ہوئی اور وہ ایک گھریلو عورت سے آتش بیان شاعرہ بننے کے سفر پر روانہ ہو گئی۔
وکیل صفائی: یہ محض جھوٹ ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کے سامنے یہ بات کہنا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ فکری اعتبار سے اس وقت تین بڑے طبقوں میں منقسم ہے۔ ایک طبقہ دینی فکر کا دعویدار ہے۔ یہ طبقہ اپنے مخالفین کو بے دھڑک جھوٹا، بدکردار، سازشی اور ملک دشمن کہنے کا عادی ہے۔ سارہ چونکہ اس کایا پلٹ کے بعد دین سے کسی حد تک منحرف ہو گئی تھی، اور مروّجہ اخلاقی اقدار کو اس نے اپنے پاؤں تلے مسل دیا تھا، اس لیے یہ طبقہ اس کی ہر بات کو جھوٹ قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ ایک دوسرا طبقہ دین کا مخالف ہے، اس کا مضحکہ اڑاتا ہے اور تمام دینی شعائرکی نفی کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سارہ کا وجود ایک نعمت غیر مترقّبہ ہے۔ جبکہ ایک مختصر سا طبقہ وہ بھی ہے جو دین پر قائم رہتے ہوئے ہر شخص کے لیے انصاف کا خواہاں ہے، خواہ کسی کا کردار کیسا بھی کیوں نہ ہو۔
عدالت: سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کیسے کیا جائے۔
میں: میں درخواست کروں گا کہ مجھے اپنی بات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اس نکتے پر ہم بعد میں یقیناً بات کریں گے تاکہ عدالت کو انصاف کرنے میں مدد مل سکے۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: اس دن اسپتال سے گھر لوٹ کر فوری طور پر سارہ نے ایک نظم لکھی۔ اس کے اپنے الفاظ میں؛


میں نے اپنے دودھ کی قسم کھائی شعر میں لکھوں گی ! شاعری میں کروں گی! میں شاعرہ کہلواؤں گی!
اور دودھ باسی ہونے سے پہلے ہی میں نے نظم لکھ لی۔
لیکن تیسری بات جھوٹی تھی۔ مجھے کوئی شاعرہ نہ کہے۔ شائد میں کبھی اپنے بچّے کو کفن دے سکوں۔

اِمرَتا آج چاروں طرف سے شاعرہ شاعرہ کی آوازیں آتی ہیں! لیکن ابھی تک کفن کے پیسے پورے نہیں ہوئے

معزّز عدالت نوٹ کرے۔ اس بچّے کی لاش جسے سارہ کفن نہیں دے سکی، اس کے لیے آسیب بن گئاس نے اس آسیب کے اثر میں نثری نظمیں لکھیں۔ شاعر شوہر کے ساتھ اس کے جو دوست گھر میں آتے سارہ ان کو اپنی نظمیں سناتی اور داد پاتی۔ شوہر بھی خوش خوش سب سے کہتا کہ اب تو میری بیوی بھی شاعرہ بن گئی ہے۔
سارہ نے شائد میٹرک بھی نہیں کیا تھا۔ اس کی مادری زبان بھی اردو نہیں تھی۔ شاعر سے شادی سے پہلے اس کا اٹھنا بیٹھنا بھی پڑھے لکھوں میں نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے غضب کی شاعری کی اور شہرت نے اس کے قدم چومے۔ دلیری اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ شاعری کے میدان میں غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے اس کا لفظی مخزن (ڈکشن) مروّجہ الفاظ سے بہت مختلف تھا۔ وہ الفاظ کو، ایسے الفاظ کو جن کو دوسرے لوگ شاعری میں استعمال کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، بیباکی سے استعمال کرنے لگی۔ گالیاں کھائی ہوئی، مار کھائی ہوئی، فاقے بھگتی ہوئی، طلاق بھگتی ہوئی، نظر انداز کی ہوئی، تینوں بچوں کی جدائی کا شکار، تنہائی کی ماری عورت نے جب شاعری کی تو وہ داد پانے کے لیے نہیں تھی۔ وہ شاعری اس کی روح کی چیخ تھی۔ اس کو خود بھی اس کا احساس نہیں تھا کہ وہ کیا کیا کہے جا رہی ہے۔
اب اس مقدمے کا سب سے مکروہ کردار سامنے آتا ہے۔ بچّے کی موت کو چھ ماہ سے کچھ اوپر ہو گئے۔ اس دوران اس کے شوہر کے ایک دوست نما فتنہ پرور شخص کا بھی اس کے شوہر کے ساتھ اس کے گھر آنا جانا رہا۔ اب پتا نہیں یہ سازش تھی، حسد تھا، انتقام تھا یا محض دل لگی، مگر ایک دن اس دوست نما نے سارہ سے کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ سارہ نے اس کو وہیں دوٹوک انداز میں روک دیا۔ پھر ایک عورت نے جو سارہ کی دوست سمجھی جاتی تھی اس سے اس فتنہ پرور کے بارے میں پوچھا کہ وہ تم کو کیسا لگتا ہے۔ سارہ نے بات کو ایک مذاق سمجھتے ہوئے کہہ دیا کہ اچھا لگتا ہے۔ وہ عورت شائد بھیجی ہی اسی مقصد سے گئی تھی۔ بات شاعر شوہر تک پہنچ گئی۔ وہ اس دوست نما اور کچھ اور لوگوں کو ساتھ لیے گھر آیا اور اس نے سارہ کے ہاتھ میں قرآن دے کر پوچھا کہ کیا تم نے یہ بات کہی ہے۔ سارہ کے اقرار پر اس نے مزید کچھ پوچھے بغیر اس کو تین طلاقوں سے نواز دیا۔
میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شاعر شوہر کا نام قاتلوں میں شمار کیا جائے۔ اس کے اس اقدام کی وجہ سے ہی سارہ کا گھر اجڑا اور اس کے بعد وہ حالات پیدا ہوئے جن کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیّت کی شکار ہوئی، اور اس نے بار بار خودکشی کی کوششیں کیں۔ اور آخر کار عنفوانِ شباب میں ہی موت نے اسے گلے لگا لیا۔
عدالت: آپ کی درخواست نوٹ کر لی گئی ہے۔
میں: میں معزّز عدالت کی توجّہ اس جانب مبذول کروانا چاہوں گا کہ کچھ دریدہ دہن لوگوں نے محض سوئے ظن رکھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ سارہ اس وقت بدکردار ہو چکی تھی، اس لیے اس کے شاعر شوہر نے طلاق دی۔ حالانکہ بیانات بتاتے ہیں کہ اس کے دوسرے شوہر کو طلاق کے فوراً بعد بھی اپنی نا انصافی کا احساس ہو گیا تھا اور ایک عرصے بعد بھی ان کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی جس میں اس شاعر نے اپنی غلطی کی تلافی کا انتہائی سنگین ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت سے کہنا چاہوں گا کہ یہ سب غلط بیانی ہے۔
میں: میں معزّز عدالت سے درخواست کروں گا کہ اب مجھے عدالت کے اس سوال کا جواب دینے کی اجازت دی جائے کہ سچ اور جھوٹ کی پہچان کیسے ہو؟
عدالت: ضرور۔ اجازت ہے۔
میں: کسی بھی انسان کو کوئی جرم، برائی یا گناہ کرنے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
1-
مقصد/وجہ
2-
مہارت/ہمّت
3-
ماحول
جھوٹ بولنا بھی ان جرائم، برائیوں اور گناہوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی کوئی انسان بات کرنا ہے تو وہ فطری طور پر سچ بولتا ہے، اگر سچ بولنے سے اس کے مقاصد پورے ہوتے ہوں۔ جھوٹ وہ اس وقت بولتا ہے جب اس کے سامنے جھوٹ بولنے کا کوئی مقصد ہو۔ مالی منفعت، سزا سے بچنا، شرمندگی سے بچنا، دشمنی، جھوٹی عزّت پانا اور قائم رکھنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنے والے لو گ بالعموم بزدل کم ہمّت اور ناکام لوگ ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو اپنی عزّت کی پرواہ نہیں ہوتی اور جن کی اپنی نظر میں ان کی عزّت نہیں ہوتی وہ دھڑلّے سے جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ بولنے کے لیے ماحول بھی سازگار ہونا چاہیے۔ جھوٹ ایسا ہو جس پر لوگ یقین کر لیں یعنی جو امکانات اور حالات سے مطابقت رکھتا ہو اور جس کا پول کھلنے کے امکانات کم ہوں۔ اور جس بارے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے سننے والے اس کے بارے میں براہِ راست نہ جانتے ہوں۔
ان عوامل پر غور کر کے فیصلہ کرنے والے بڑی حد تک جھوٹ اور سچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
عدالت: اس کیس میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سارہ شگفتہ کے بارے میں جو باتیں آپ نے کہیں وہ سچ ہیں۔
میں: سارہ شگفتہ ایک دلیر عورت تھی جو اپنے حق کے لیے لڑنا جانتی تھی۔ کم سے کم چار بار اس نے یہ لڑائی جسمانی طور پرلڑی۔ ایک بار جب اس کے باپ کا انتقال ہوا اور وہ بیہوشی سے اٹھ کر دیوار پھاند کر باپ کے جنازے میں شرکت کرنے گئی۔ دوسری بار جب وہ اپنے بچوں کو لینے میانوالی گئی۔ تیسری بار جب تیسرے شوہر کے گھر سے دیوار پھاند کر اسقاط حمل کرانے گئی اور چوتھی بار جب چوتھے شوہر نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا۔ ایسے دلیر لوگ جھوٹ بہت کم بولتے ہیں۔ پھر جب اس نے اپنی یادداشتیں لکھنی شروع کی ہیں اس وقت تک وہ خودکشی کی تین چار کوششیں کر چکی تھی۔ گویا زندگی کی اس کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔ جس شخص کے نزدیک زندگی ہی کوئی اہمیت نہ رکھتی ہو وہ جھوٹ کیوں بولے گا۔
پھر جو باتیں بھی سارہ نے اپنے بارے میں بتائی ہیں ان میں سے کوئی ایسی نہیں جو امرِ محال ہو۔ مارپیٹ، تشدّد، گالی گلوچ، حبسِ بیجا، مہر نہ دینا، نان نفقہ کا خرچ نہ دینا، جائداد میں حصّہ نہ دینا۔ سازشیں کرنا، بہتان لگانا یہ سب ہمارے معاشرے کا معمول ہے اور یہی کچھ سارہ نے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ اس لیے ہم یہ کس بنیاد پر سوچ سکتے ہیں کہ سارہ نے جھوٹ بولا ہوگا۔
وکیلِ صفائی: نفرت کی بنیاد پر۔ اسے جن لوگوں سے نفرت تھی ان کے بارے میں اس نے فسانے گھڑے۔
میں: یہاں زیادہ تر بات اس کے شوہروں کے بارے میں ہو رہی ہے۔ اگر اس کو ان لوگوں سے شادی سے پہلے سے نفرت ہوتی تو وہ شادی کرتی ہی کیوں۔ اور شادی کے بعد جو نفرت ہوئی اس کے اسباب یقیناً قوی تھے۔ میں عدالت کی توجّہ اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے دوسرے شوہر پر تشدّد یا بدکلامی کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ اگر اسے نفرت کی بنیاد پر جھوٹ بولنا ہوتا تو اس پر بھی یہ الزام لگنا چاہیے تھا۔
وکیل صفائی: اس عورت کا اپنا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ مختلف افراد کے ساتھ اس کے نامناسب تعلقات تھے۔
میں: محترم دوست، شائد آپ کو اندازہ نہیں کہ اس انداز سے تہمت لگا کر آپ حدِّ قذف کے مستحق ہو رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس اس امر کے چار صالح گواہ ہیں کہ وہ ایک بدکار عورت تھی۔ یا آپ بھی سنی سنائی بات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
عدالت: وکیلِ صفائی آپ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ ایسے سنگین الزامات سے پرہیز کریں جو ثابت نہ کیے جا سکیں۔
وکیلِ صفائی: جی بہتر۔ میں محتاط رہوں گا۔
میں: میں عدالت کی توجّہ اس امر کی طرف بھی دلانا چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ مردانہ غرور (شاونزم) کا شکار معاشرہ ہے۔ اس معاشرے میں شعر و ادب پر بھی مردوں کا اجارہ ہے۔ کوئی بھی عورت جو اس میدان میں آنا چاہتی ہے اور اپنے جوہر دکھاتی ہے یہ کورچشم لوگ اس پر تہمتیں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عورت ان کے پہلو گرم کرے۔ سارہ کا بھی یہی مسئلہ تھا اور آج کی ادیبہ کا بھی یہی مسئلہ ہے۔ آج بھی فیس بک جیسے میڈیا پر ادب کی دنیا میں قدم رکھنے والی خواتین کو روزانہ بہت سی دوستی کی درخواستیں ملتی ہیں، اور بڑے بڑے ثقہ لوگ موقع ملتے ہی جامے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر بیسیوں ایسی خواتین سے واقف ہوں جو ان حالات کا شکار ہوئی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔
عدالت: آپ اس عدالت میں اس بات کی کوئی گواہ پیش کر سکتے ہیں؟
میں: عدالت بخوبی واقف ہے کہ اگر کوئی عورت اس عدالت میں ایسی گواہی دے گی تو اس سے معاشرہ کیسے پیش آئے گا۔ اس لیے کوئی عورت گواہی کے لیے شاید ہی تیّار ہو۔لیکن آج ہی مجھے ایک شاعرہ نے بتایا کہ سانگھڑ ریڈیو سے ایف ایم چینل پر شاعرات کے انٹرویو پر پروگرام کرنے والا ایک پروڈیوسر جو ایک سرکاری افسر بھی ہے، کیسے شاعرات کا فون نمبر حاصل کرنے کے بعد ان سے نامناسب گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور پروگرام کو عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کو ویڈیو کالز کرتا ہے۔
عدالت: یہ بات انتہائی افسوسناک ہے۔
میں: اس مردانہ حاکمیّت زدہ معاشرے کی اخلاقی اقدار مردوں اور عورتوں اور غریبوں امیروں کے لیے بالکل مختلف ہیں۔ ایک طرف جوش ملیح آبادی جس نے اپنی کتاب میں بے شمار عورتوں کے ساتھ جنسی تعلّقات کی داستانیں لکھی ہیں، منبر پر بیٹھ کر مرثیے پڑھتا ہے۔ عمران خان جس کی غیر قانونی اولاد امریکہ میں سانس لے رہی ہے، اس ملک کے اعلیٰ ترین ایوان کا رکن اور تیسری بڑی پارٹی کا سربراہ ہے۔ مصطفیٰ زیدی جس کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا آج بھی ایک معزّز شاعر مانا جاتا ہے۔ لیکن سارہ شگفتہ جو چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اس کا ان بیہودگیوں سے کوئی تعلّق نہیں، اس پر لگائے گئے الزامات بلا تحقیق تسلیم کر لیے جاتے ہیں اور صالحین کا ایک ٹولہ ان کی تشہیر صرف اس لیے کرتا ہے کہ وہ ایک عورت تھی۔

وکیل صفائی: اس بات کا بھی تو امکان ہے کہ سارہ نے پہلے شوہر کے تشدد کے بارے میں جھوٹ بولا ہو۔
میں: میں عدالت کی توجّہ اس نکتے کی جانب دلانا چاہوں گا کہ سارہ ایک دلیر عورت تھی۔ جھوٹ وہ بولتا ہے جو لوگوں سے ڈرتا ہو۔ اس لیے سارہ کو جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ عدالت کے سامنے یہ نکتہ بھی لانا چاہوں گا کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں عورت کو ملازمہ، لونڈی ،کنیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور بیوی پر شوہر کا جسمانی تشدد اور شدید بدکلامی بہت عام چیز ہے، اور ہم معاشرے کے معاشی طبقاتی نظام میں جتنا نیچے جاتے ہیں اتنی ہی یہ چیز بڑھتی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جتنا شہر سے دوری بڑھتی ہے اتنا ہی تشدد بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اس لیے سارہ کے اس بیان میں کوئی ایسی انوکھی ناقابلِ یقین بات نہیں جس کے لیے اسے جھوٹا قرار دیا جا سکے۔
عدالت: آپ کا نکتہ درج کر لیا گیا ہے۔ آگے چلیے۔
میں: آگے چلنے سے پہلے میں عدالت کی اجازت سے ذاتی مشاہدے کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا، جس سے مجھے اس مقدمے کے آئندہ نکات کو بیان کرنے میں سہولت ہو جائے گی۔
عدالت: اجازت ہے۔
میں: یہ 35 سال پہلے کی بات ہو گی کراچی میں میرا گھر تھا۔ ایک دن کہیں سے ایک کتے کا بچہ دروازے پر آ کر بیٹھ گیا۔ والدہ نے اسے پینے کے لیے دودھ دیا، اور کچھ کھانے کو۔ وہ پلّا اس دن کے بعد سے وہیں رہنے لگا۔ ادھر ادھر جاتا بھی تو لوٹ آتا۔ میں اپنی کار گھر کے باہر چبوترے پر کھڑا کرتا تھا۔ جب کار کھڑی ہوتی تو وہ کار کے نیچے گھس کر بیٹھتا تھا۔ اور اس کے اسٹارٹ ہوتے ہی نیچے سے نکل کر ایک طرف ہوجاتا تھا۔ ایک سال کے عرصے میں وہ بڑا ہو گیا۔ گھر والوں کو بھی اس سے بہت لگاؤ ہو گیا تھا اور اسے بھی سب گھر والوں سے۔
ایک دن گلی میں بچے کرکٹ کھیل رہے تھےکہ انکی گیند میری کار کے نیچے چلی گئی۔ وہ کار کے نیچے سے گیند نکالنے پہنچے تو وہاں وہ کتا بیٹھا تھا۔ بچوں نے کتے کو ہٹانے کے لیے اس کو پتھر مارے تو وہ بھونکنے لگا۔ پتھر اسے لگتا تو وہ کار کے نیچے سے نکل کر بھونکتا اور پھر نیچے چلا جاتا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلا جب تک میرے گھر میں سے کسی نے نکل کر اسے ایک طرف کرکے گیند بچوں کے حوالے نہیں کر دی۔ مگر اب وہ بچوں کو دیکھ کر بھونکا کرتا تھا۔بچے بھی اس کو پتھر مارتے تھے۔ اس کے نتیجے میں وہ کٹکھنا ہو گیا۔ کاٹا تو کسی کو نہیں مگر لوگوں کو دیکھ کر ان کے پیچھے جاتا تھا۔ چلتی ہوئی گلی تھی، لوگوں کو پریشانی ہوتی تھی۔ ایک بار دو آدمی پستول لے کر آ گئے اس کو مارنے۔ میں نے ان کو روکا اور کہا کہ گولی گاڑی کو لگی تو نقصان ہوگا جو ان کو بھرنا پڑے گا۔ وہ چلے گئے۔
دو تین دن بعد آٹھ دن لوگ بڑے بڑے ڈنڈے لے کر وہاں پہنچ گئے اور کہا کہ اس کتے کو یا تو آپ لوگ کہیں لے جائیں یا ہم اس کو مار دیں گے۔ انہوں نے ڈنڈوں کی مدد سے اسے کار کے نیچے سے نکالا اور پھر مار مار کر ہلاک کر دیا۔ مرتے وقت اس کی آنکھوں میں سوال تھا کہ میرا قصور کیا تھا؟
وکیل صفائی: کیا آپ سارہ شگفتہ کو اس کتے سے تشبیہ دے رہے ہیں؟
میں: عدالت سے استدعا ہے کہ وکیلِ صفائی کو ہدایت کی جائے کہ اسی وقت بات کریں جب عدالت ان کو معاونت کے لیے طلب کرے۔
عدالت: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سارہ ایک پاک دامن عورت تھی؟
میں: ممکن ہے کہ اپنی بیماری، ذہنی کرب کی شدّت ، معاشرے کے برتاؤ اور تنہائی سے ہار کر اس نے زندگی کے آخری سالوں میں کسی کو اپنا سہارا بنا لیا ہو۔ مگر چونکہ وہ عملاً بے دین ہو چکی تھی اس لیے کسی کے ساتھ تعلّق قائم کر لینے میں اس کی نظر میں کوئی برائی نہ رہ گئی ہو گی۔ اگر وہ پاک دامن نہ بھی ہو تو بھی بری عورت ہرگز نہیں تھی۔ دنیا میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں۔ جو لوگ آپ کے مذہب میں یقین نہ رکھتے ہوں آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اپنی مذہبی اقدار کا ان پر اطلاق کریں۔
عدالت: ٹھیک ہے۔ عدالت نے آپ کا نقطہء نظر سن لیا۔ اب آگے چلیے۔
میں: سارہ کو شاعر شوہر سے کھڑے کھڑے طلاق مل گئی۔ اس کے بعد فتنہ پرور نے ہزار کوششوں سے اور منّت خوشامد سے سارہ کو اس سے نکاح کرنے پر راضی کر لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ چونکہ سارہ کو طلاق اس کی وجہ سے ہوئی ہے اس لیے اس کے صدمے کی تلافی کرنا اس کا فرض ہے۔ لیکن نکاح کے چند دن کے اندر ہی اس نے سارہ پر بے پناہ جسمانی تشدّد شروع کر دیا۔ اس کو ذہنی طور پر مفلوج کرنے میں اس فتنہ پرور کے گھر کی چھ سات عورتوں نے بھی بھرپور حصّہ لیا۔ اس شخص کو سارہ کے مقابلے میں ادبی حیثیت سے شدید احساسِ کمتری تھا۔ جبھی وہ اس سے جبرا ً اپنے جوتے پالش کرواتا تھا اور پھر طنزیہ انداز میں کہتا تھا کہ عظیم شاعرہ میرے جوتے پالش کر رہی ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ اس فتنہ پرور کو سارہ کی کوئی بات اس وقت بری لگ گئی تھی جب وہ دوسرے شوہر کے نکاح میں تھی اور اس نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت سارہ کی ازدواجی زندگی تباہ کی، اور پھر اس سے نکاح کر کے اس کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کر کے اپنا بدلہ لیا۔ سارہ کا طلاق کا مطالبہ اس شخص نے ٹھکرا دیا اور اسے گھر میں محبوس کر دیا۔ سارہ کو اس سے انتہائی شدید نفرت ہو گئی، جس کے نتیجے میں اس نے اس شخص کے بچے کی ماں بننے سے انکار کر دیا اور اپنا حمل ضائع کروانے کے لیے وہ دیوار پھاند کر کسی ڈاکٹر کے کلینک گئی۔ آخر کار کسی نہ طرح سے وہ اس ظالم سے طلاق لینے میں تو کامیاب ہو گئی مگر اس کی شخصیت مسمار ہو گئی۔ وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئی۔ اس حد تک کہ اس کا اسپتال میں بجلی کے جھٹکوں سے علاج کیا جانے لگا۔
وہ پاگل نہیں تھی مگر اس کو پاگل خانے میں داخل کیا گیا جہاں اسے پاگلوں کے درمیان رہنا پڑا۔ اس کی جسمانی حالت بے انتہا خراب ہو چکی تھی۔ نیند بالکل غائب۔ دیوانوں کی طرح لکھنا۔ کاغذ پر کاغذ سیاہ کرنا۔ خودکشی کی چار کوششیں کرنا۔ ان سب چیزوں کی وجہ اس پر ہونے والا جسمانی اور ذہنی تشدّد تھا۔
میں معزّز عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ سارہ کے تیسرے شوہر کا نام آہستہ قتل کے بڑے ملزم کے طور پر درج کیا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔
عدالت: آپ کی بات استغاثہ کے مطالبات میں شامل کر لی گئی ہے۔
میں: اب میں اس جرم کے آخری نمایاں مجرم کو سامنے لانا چاہوں گا۔ سارہ کی ماں کو کسی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اس کے لیے زندگی سکون سے گزارنے کا واحد راستہ شادی ہے۔ اس بیچاری ماں نے مرتے مرتے سارہ کی زندگی سنوارنے کی ایک کوشش اور کی۔ اس نے منتوں سماجتوں سے سارہ کو راضی کیا اور پھر اس کا نکاح ایک اور اوباش سے کر دیا جسے سارہ نے جاگیردار کے نام سے متعارف کروایا۔ یہ شخص بھی دوسروں سے مختلف نہیں تھا۔ جسمانی اور ذہنی تشدّد اس کا بھی وطیرہ تھا۔ اس کو بھی سارہ کی شاعری سے چڑ تھی اور یہ بھی اسے اس حوالے سے ایذا پہنچاتا تھا۔ سارہ نے اس سے بمشکل طلاق حاصل کی، مگر اس شخص نے طلاق کے بعد سارہ کو دھوکے سے ایک مکان میں بلا کر اس کو چاقو سے قتل کرنے کی کوشش کی، جو ایک پڑوسی کی مداخلت کے سبب ناکام ہو گئی۔ میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شخص کا نام بھی قتل کے ملزمان کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
عدالت: آپ کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔
میں: یہ بدقسمت سارہ کا آخری شوہر تھا۔ اس کے بعد اس کی ماں بھی نہ رہی اور سارہ اس دنیا میں مکمّل طور پر تنہا رہ گئی۔ ماں کے چالیسویں سے پہلے ہی اس کے بھائیوں نے اسے گھر سے نکال دیا، اور اسے ماں کے مکان میں سے اس کا حصّہ بھی نہیں دیا۔ اس واقعے کے بعد سارہ تقریباً ایک سال تک زندہ رہنے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر معاشرے نے اس کو چین نہیں لینے دیا۔ اور تو اور اس کو آمرانہ حکومت کے خلاف نظمیں لکھنے کی پاداش میں مارشل لائی حکّام نے پکڑکر چالیس دن لاہور کے شاہی قلعے میں محبوس رکھا۔ یہاں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا مجھے علم نہیں مگر بہرحال وہ ان کی معزز مہمان نہیں تھی۔
میں عدالت کے علم میں یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ موت سے آنکھیں چار کرتے وقت بھی سارہ نہ صرف ایک صحتمند ذہن کی مالک تھی، بلکہ اس کو کراچی کے ادبی حلقوں میں ایک ممتاز مقام بھی حاصل تھا۔ ہرچند وہ اپنی بیباک نظموں کے حوالے سے ، جن میں اس نے کسی حد تک برہنہ لفظ استعمال کیے، مشہور ہو چکی تھی، مگر پھر بھی سنجیدہ لوگوں کے دلوں میں اس کا احترام تھا۔ سلیم احمد اسے اپنی بیٹی کہتے تھے، اور ان کی وفات تک سارہ ان کے گھر ان کی محفلوں میں جایا کرتی تھی۔ وہ قمر جمیل جیسے معروف اور محترم شاعر کے حلقے کی فرد تھی، اور سارہ کو قمر جمیل نثری شاعری کا مستقبل سمجھتے تھے۔ یہ بات سب لوگ جانتے ہیں کہ قمر جمیل اور سلیم احمد کے درمیان ہمیشہ ایک ناخوشگوار سا فاصلہ رہا۔ 1983 میں سلیم احمد کے انتقال کے بعد قمر جمیل نے کوئی ایسی نامناسب بات کہی جو سارہ کو ناگوار گزری۔ وہ اتنی دلیر تھی کہ اس نے اپنے گرو کو بھی نہیں چھوڑا اور ان سے کہہ بیٹھی جمیل بھائ ، نفرت سے بڑا رزق آپ نے نہیں چکھا، اور اسی لذّت نے آپ کے اندر خوف کے گہرے کنویں کھود رکھے ہیں۔
لیکن اسی سارہ کے ساتھ ادبی حلقوں کے چھچھورے لوگوں نے جو اندوہ  ناک سلوک کیا وہ ادبی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔ یہ باتیں کسی حد تک کتابوں میں آ چکی ہیں۔ لیکن کمینگی کی انتہا یہ کہ ایک شخص نے دوسرے سے سارہ کے بارے میں کہا بن جال کی مچھلی ہے۔ لیکن میں تو بہن کہہ چکا۔ اب تم نمٹو۔جس کو بہن کہا اس کے بارے میں ایسی بات کوئی دلّال ہی کہہ سکتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں قدم قدم پر مل جاتے ہیں۔
میری گفتگو تمام ہوئی۔ معزّز عدالت سے درخواست ہے کہ میرے استغاثے کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنائے۔
عدالت: وکیل صفائی کچھ کہنا چاہیں گے۔
وکیلِ صفائی: میں اپنا نقطہء نظر پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ تمام حالات ایک دھند میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس لیے محض ایک پاکستان دشمن اور اسلام دشمن عورت کی چھاپی ہوئی کتاب کی بنیاد پر فیصلے نہ دیے جائیں جس کے جھوٹ سچ کا کوئی اعتبار نہیں۔
میں: میں معزّز عدالت سے احتجاج کرتا ہوں۔ امرتا پریتم ایک انسان دوست خاتون تھیں۔ انہوں نے تقسیم کی خونریزی کے وقت اج آکھاں وارث شاہ نوںجیسی انسانیت دوست نظم لکھی تھی۔ دشمن ملک کا شہری ہونے کا مطلب لازماً دشمن ہونا نہیں۔ان میں بھی کچھ انسان دوست ہوتے ہیں، اور امرتا ان میں سے ایک تھیں۔
عدالت: عدالت آج کی کارروائی ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ فیصلہ تمام ارکان عدالت کے مشورے کے بعد کل سنایا جائے گا۔
———-
دوسرا دن اخلاق کی عدالت کا کمرہ
پیشکار: سارہ شگفتہ کے مقدمے کی کارروائی شروع ہو رہی ہے۔
میں اندر کمرے میں جاتا ہوں۔ کچھ اور لوگ بھی آ رہے ہیں۔
عدالت: کل آصف اکبر نے اس عدالت میں استغاثہ پیش کیا تھا کہ سارہ شگفتہ نامی شاعرہ کی خودکشی یا حادثاتی موت کو آہستہ قتل قرار دیا جائے۔ عدالت کے معزّز ارکان نے استغاثہ کے دلائل سننے اور وکیل صفائی کا نقطہء نظر جاننے کے بعد بہت تفصیلی بحث کے بعد ایک فیصلہ رقم کیا ہے، جس میں کچھ ارکان کے اختلافی نوٹ بھی شامل ہیں۔ فیصلہ یہ ہے۔
استغاثہ کی شاعرہ سارہ شگفتہ کی موت کو قتل کا روپ دینے کی کوشش زیادہ کامیاب نہیں۔ عدالت سمجھتی ہے کہ اس بدنصیب عورت پر شدید تشدّد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ تکلیف دہ ذہنی عارضے کا شکار ہوئی۔ تاہم یہ واقعات اس ملک اور دوسرے بے شمار ملکوں کی عورتوں کے ساتھ بہت تواتر کے ساتھ پیش آتے ہیں مگر وہ بہت کم خودکشی یا موت پر منتج ہوتے ہیں، اس لیے اس موت کو قتل قرار دینا مناسب نہیں۔ عدالت کے کچھ ارکان استغاثہ سے متفق بھی ہیں مگر اکثریت سمجھتی ہے کہ سارہ کی صورتحال میں زیادہ دخل اس کی اپنی فطرت کا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت ان لوگوں کی شدید مذمّت کرتی ہے جنہوں نے سارہ کے ساتھ جسمانی تشدّد کیا یا اسے ذہنی عذاب میں مبتلا کیا، یا اس کے ساتھ مالی نا انصافی کی۔ اسی طرح اس کو بدنام کرنے کے شوقین لوگوں کی بھی یہ عدالت مذمّت کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت مدّعی کو اجازت دیتی ہے کہ وہ چاہے تو یہ مقدمہ ادبی تاریخ کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔

ادبی تاریخ کی عدالت میں

عدالت کا پیشکار: ادبی تاریخ کی عدالت میں مسماۃ سارہ شگفتہ کے قتل کا مدّعی آصف اکبر پیش ہو۔

میں تیزی سے کمرہ عدالت میں پہنچ کرمنصفین کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں۔کمرہ عدالت میں دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ کچھ وکلاء، کچھ عام شہری ، کچھ شاعر، اور کچھ معروف دانشور۔ حاضرین میں سلیم احمد اور قمر جمیل نمایاں ہیں۔ پیچھے کی نشستوں پر نمایاں نہ ہونے کے خواہشمند خاموش مبصرین میں مرزا غالب، میر تقی میر، سر سید احمد خان ، اکبر الٰہ آبادی اور فیض احمد فیض بھی نظر آ رہے ہیں۔
منصفین کی تعداد بیس کے قریب ہے، جو سب اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں۔
(
عدالت کی کارروائی شروع ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔)
ایک جج: مدّعی آصف اکبر آپ نے درخواست دی تھی کہ اس مقدمہ قتل میں ایک بڑی بنچ تشکیل دی جائے جس میں اردو کی ادبی تاریخ سے متعلق تمام نمایاںشخصیات کو نمائندگی دی جائے۔ آپ کی درخواست قبول کرتے ہوئےایک بڑی بنچ تشکیل دے دی گئی ہے۔ آپ کو اس بنچ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔
میں: عالیجاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے بنچ کے فاضل اراکین کی فہرست فراہم کی جائے۔
(
عدالت کی جانب سے مجھے فہرست فراہم کی جاتی ہے۔)

سارہ شگفتہ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی
اردو کی ادبی تاریخ کی عدالت کے معزز فاضل منصفین کی فہرست

محمد حسین آزاد
الطاف حسین حالی
شبلی نعمانی
حکیم عبد الحئی
عبد السلام ندوی
محمد یحییٰ تنہا
آغا محمد باقر
عبد القادر سروری
شمس اللہ قادری
رام بابو سکسینہ
مرزا محمد عسکری
احسن مارہروی
حامد حسن قادری
مخمور اکبر آبادی
عبد القیوم
احتشام حسین
کلیم الدین احمد
مولوی عبد الحق
ڈاکٹر ابوللیث صدیقی
ڈاکٹر انور سدید
(
عدالت کا سربراہ مولانا محمد حسین آزاد کو مقرّر کیا گیا ہے اور وہی عدالت کی ترجمانی بھی کریں گے۔)
—————
میں: مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے اس مقدمے کو اہمیت دیتے ہوئے ایک انتہائی جامع بنچ تشکیل دیا ہے، جس کے تمام ارکان انتہائی لائق اور فاضل ہیں۔ مجھ کو اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے۔ اور میں اس مقدمے میں اس عدالت کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کو پوری دلجمعی سے قبول کروں گا۔ جیسا کہ اس معزز عدالت کے علم میں ہے کہ یہ مقدمہ اس سے پہلے قانون کی عدالت میں اور پھر قانون کی عدالت کی اجازت سے اخلاق کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اخلاق کی عدالت نے اپنے فیصلے میں اجازت دی ہے کہ اگر مدعی چاہے تو اس مقدمے کو ادبی تاریخ کی عدالت میں لے جا سکتا ہے۔
عدالت: آپ نے مقدمہ داخل کرتے ہوئے دونوں عدالتوں کی کارروائی کی تفصیل بھی فراہم کی ہے، اور عدالت نے آپ کے مقدمے کو صرف اس لیے سماعت کے لیے منظور کیا ہے کہ اخلاق کی عدالت نے نہ صرف آپ کو اس مقدمے کو اس عدالت میں لانے کی اجازت دی ہے بلکہ بین السطور اخلاق کی عدالت کی یہ خواہش بھی جھلک رہی ہے اس مقدمے کا فیصلہ تاریخ کی عدالت میں ہی ہو۔

واضح رہے کہ یہ عدالت تاریخ کی عدالت ہے اور سب سے زیادہ مستند فیصلہ ہمیشہ تاریخ کی عدالت کا ہی مانا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تمام عدالتوں کی مانند یہ بالا ترین عدالت بھی اپنا فیصلہ دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر ہی کرتی ہے اور اگر شہادتیں مبہم یا کاذب ہوں تو فیصلے بھی حق سے ہٹ سکتے ہیں۔ اسی لیے عدالتیں فریقین کو وکلاء کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دیتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ درست شہادتیں فراہم کی جا سکیں۔ اور اسی لیے عدالتیں معاونین اور ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں۔

جہاں تک آپ کے مقدمے کا تعلق ہے عدالت اس بات کو واضح کر دینا چاہتی ہے کہ اسے صرف حق اور ناحق کا فیصلہ سنانے کا اختیار ہے کسی کو سزا دینا اس عدالت کے اختیار سے باہر ہے۔

اب آپ کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کریں۔

میں: میں معزز عدالت کے سامنے مقدمے کی تفصیلات کو دہرانے سے گریز کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ شاید بالخصوص ، اور انسانی معاشرے بالعموم اپنے اندر ہونے والے واقعات کو حالات کی دھول کے دھندلکے پر عقائد کی روشنی ڈال کر دیکھتے ہیں۔ یہ دھول بیٹھنے میں کچھ وقت لیتی ہے۔ شاید سو سال، شاید ہزار سال۔ اتنی مدت گزرنے کے بعد لوگ تو فنا ہو چکے ہوتے ہیں مگر واقعات زندہ رہتے ہیں اور تاریخ نویس پھر سچ اور جھوٹ کو کھنگالتا ہے۔ اسی سبب سے یہ عدالت کسی معاصر عدالت کی نسبت سارہ شگفتہ کے بارے میں بہتر اور غیر جانبدار فیصلہ دے سکتی ہے۔ اس لیے اس عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ تحریری شہادتوں اور بیانات کی روشنی میں سارہ کی موت کو معاشرے کے ہاتھوں ایک جیتے جاگتے انسان کا قتل قرار دیا جائے تاکہ اس مظلوم عورت کو کم از کم رتاریخ میں تو انصاف مل سکے اور تاریخ کے صفحات آنے والے دور کے انسانوں کو بتا سکیں کہ جس زمانے میں مملکت خداداد کے شہری دین ، جمہوریت اور پانچ ہزار سالہ تہذیب کے نام لیوا تھے ، اس دور کے باشعور شاعر اور ادیب ایک بیکس عورت کے ساتھ کیسا سلوک کرتےتھے۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت کی اجازت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زمانہء قبل از تاریخ سے آج تک ہر دور میں بے شمار انسان قتل ہوتے رہے ہیں۔ اس زمانے میں بھی ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ لوگ روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ شامل نہیں جو مدعی کی موکلہ کی طرح خودکشی کر کے جان دے دیتے ہیں یا گھٹ گھٹ کر مرجاتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں اتنی وسعت نہیں کہ ہر ہر فرد کے قتل کا مقدمہ سن کر اس کا فیصلہ ان میں شامل کیا جائے۔ ان صفحات میں صرف ان لوگوں کو جگہ مل سکتی ہے جو انسانوں پرنمایاں انداز میں، برے یا بھلے طور پر اثر انداز ہوئے ہوں۔ میں عدالت سے درخواست کروں گا کہ چونکہ سارہ شگفتہ پاکستان کی ان کڑوڑوں عورتوں میں سے ایک تھی جن کا تاریخ میں کوئی مقام نہیں ہے، اس لیے اس مقدمے کو خارج کیا جائے اور دوسری عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا جائے۔
میں: میں عدالت سے درخواست گزار ہوں کہ مجھے یہ واضح کرنے کی اجازت دی جائے کہ سارہ شگفتہ کا تاریخ میں ایک منفرد مقام ہے۔
وکیل صفائی: میں معزز عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ سارہ شگفتہ نہ تو کوئی سیاسی شخصیت تھی نہ اس کے پاس کوئی علمی مقام تھا۔ اس نے تو شائد میٹرک بھی پاس نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ایدھی کی طرح کوئی فلاحئ کام کیے نہ اس نے ملا فضل اللہ کی طرح قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور نہ اس نے ممتاز قادری کی طرح کسی گورنر کو مارا۔ عدالت اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ تیسرے درجے کے شاعروں کو کسی تاریخ میں کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔
میں: وکیل صفائی کا اعتراض بودا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ یہ جان لیں کہ تاریخ نے حکمرانوں کے بعد جن لوگوں کے نام سب سے زیادہ محفوظ رکھے ہیں وہ علماء، شاعر اور ادیب ہی ہیں۔ پھر اب تاریخ کے میدان میں بہت سی نئی جہتیں شامل ہو چکی ہیں اور ادب کی تاریخ ان میں ایک نہایت اہم جہت ہے۔ جب بھی بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ لکھی جائے تو اس میں خواتین شاعروں اور ادیبوں کو ایک اہم حصہ دیا جائے گا اور جہاں بیسویں صدی کی اہم ادب لکھنے والی خواتین کی بات ہو گی وہاں سارہ شگفتہ کا نام لازماً آئے گا۔
عدالت: وکیل صفائی کا اعتراض مسترد کیا جاتا ہے۔ کارروائی جاری رہے۔
وکیل صفائی: میں سارہ شگفتہ کے مشکوک اخلاقی کردار کی طرف بھی عدالت کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔متعدد افراد کے مضامین اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نامناسب لباس پہنتی تھی، سگریٹ پیتی تھی، گالیاں دیتی تھی، اپنی نظموں میں ننگے الفاظ استعمال کرتی تھی، مختلف مردوں کے ساتھ اس کی دوستی تھی اور آخری عمر میں وہ احمد سلیم نامی ایک امیر آدمی کے ساتھ اس کی داشتہ کے طور پر رہ رہی تھی۔
میں: میں عدالت کی توجہ اس نکتے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا کہ قتل یا تشدد کے کسی مقدمے میں متاثرہ فریق کے کردار پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ایک طوائف بھی اگر قتل کر دی جائے، جو اپنی مرضی سے ہی کیوں نہ بدن فروش بنی ہو، اس کے قاتل کو بھی وہی سزا ملتی ہے جو پوپ کے قاتل کو ملے گی۔
وکیل صفائی: ایک عام آدمی اگر بدکردار ہو تو اسے معاشرے کی جبری غلاظت سمجھ کر برداشت کیا جاتا ہے مگر ادیب اور شاعر تو بزعمِ خود معاشرے کی نفاست کا علم اٹھائے پھرتے ہیں، ان کو تو باکردار ہونا ہی چاہیے۔ صفائی کرنے والا اگر خود گندگی پھیلانے لگے تو پھر کوئی جگہ کیسے صاف رہ سکتی ہے۔
میں: ادیب ہوں یا دانشور، طبیب ہوں یا منصف، سائنسداں ہوں یا سیاستداں، تاریخ ان کے کارناموں پر نظر رکھتی ہے اور ان کی ذاتی زندگی پر بالعموم پردے ڈالے رکھتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ پرانے زمانے میں بھی اور آج بھی شاعر شراب سے شغل رکھتے تھے اور ہیں۔ جگر مراد آبادی جیسے محترم شاعر دن رات شراب کے نشے میں ڈوبے رہتے تھے۔ اسی باعث ان کو اپنی بیوی کو طلاق دینی پڑی۔ پھر جب انہوں نے توبہ کی تو معزز ٹھہرے۔ کون نہیں جانتا کہ مشرق اور مغرب کے بہت سے شاعر اور ادیب بدکردار تھے۔ فراق گورکھپوری اور جوش ملیح آبادی کو ان کی تمام تر بدکرداریوں کے باوجود اگر نصابی کتب میں جگہ مل سکتی ہے تو کیا سارہ شگفتہ کو صرف اس لیے مصلوب کیا جائے گا کہ وہ ایک عورت تھی۔
اس بات کو فراموش نہ کیا جائے کہ مقتولہ /مظلوم عورت شروع میں ایک انتہائی پاکیزہ کردار کی عورت تھی۔ وہ شاعر سے شادی ہونے کے بعد بھی نماز کی پابندی کرتی تھی اور جب گھر میں اس کے شوہر کے دوست جمع ہوتے تھے تو وہ ایک الگ کمرے میں اکیلے بیٹھی رہتی تھی۔ اس تنہا باکردار عورت کو محفلوں تک لانے والا اور بیباک بنانے والا یہ معاشرہ ہی تھا، جس نے اس کو پے در پے صدمے دیے۔
عدالت: وکیل صفائی کا نکتہ مسترد کیا جاتا ہے۔ عدالت کو مرنے والی کے کردار سے کوئی غرض نہیں ہے۔ کارروائی جاری رہے۔

میں: پہلے میں عدالت کے سامنے تین معزز دانشوروں کے وہ تبصرے پیش کرنا چاہوں گا جو انہوں نے سارہ کے بارے میں لکھے تھے۔
سب سے پہلے مبارک احمد، معروف ادیب کہتے ہیں؛
پاکستان میں شاعرات شاعری کے میدان میں شعری معیار و مقدار کے اعتبار سے شاعروں سے کہیں آگے نکل گئی ہیں، جس کی مِثال دنیا کے کسی اور ملک میں کسی بھی عہد کے حوالے سے نہیں ملے گی۔ اِن شاعرات میں جو جدید تر شاعری سے متعلق ہیں، سارا شگفتہ ، عذرا عباس ، کشور ناہید، نسرین انجم بھٹی، انوپا ، تنویر انجم ، شائستہ حبیب زیادہ نُمایاں ہیں لیکن سارا شگفتہ اِن سب میں سرِفہرست ہے۔ بطور سُپر پوئٹس اور کوئین آف پوئٹکس وہ معجزہ سے کم نہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ زیرِنظر مجموعہ کلام کُل نہیں بلکہ کُل کا ایک جزو ہے اور جیسا کہ میرے عِلم میں ہے ، جُوں جُوں کلام ترتیب پاتا گیا ، سارا شگفتہ کے مزید شعری مجموعے اشاعت پذیر ہوں گے اور میری بیان کردہ رائے کی کُھلی تائید کرتے نظر آئیں گے کہ اِس ارفع سطح کی شاعری مغرب میں بھی نہیں ہو رہی۔ یہ شاعری ہر چند کہ بیشتر موجودہ جدید تر شعری روایت کی صورت مربوط نہیں ، لیکن اثر انگیزی میں اپنا جواب نہیں رکھتی، اور اعلٰی سطح کی مربوط شاعری کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے، اور یہ بھی کہ جدید تر شاعری نے غالب کے پوئٹک بَیریئر کو کراس کرتے ہوئے نئی شعری روایت کو جنم دیا ہے، جو اِس صدی کا قابلِ قدر کارنامہ ہے اور سارا شگفتہ اِس کی بہترین مثال۔
(
مبارک احمد، یکم فروری 1985ء )
دوسری شہادت احمد ہمیش کی ہے جو اردو ادب کا ایک مستند نام تھے۔ وہ کہتے ہیں
برصغیر میں سارا شگفتہ کی شاعری کی غیر معمولی شکتی سے کم و بیش لوگ باخبر ہوچکے ہیں۔ مگر مسئلہ ابھی شعری و ادبی تاریخ میں اُس کے مقام کے دیانت دارانہ تعین کا ہے۔ جب کہ وہ جیتے جی ایسی بحثوں سے سخت بیزار تھی، جو شاعری کو رُجحان سازی اور عصریت کے نارم (NORM) سے جبرا وابستہ رکھنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ اُسے ایسے نقادوں سے شدید نفرت تھی، جو شعری تنقید خاص کر اُردو کی شعری تنقید میں پیٹنٹ مغربی حوالوں سے باز نہیں آتے ، اور اپنی زبان کے شاعروں کی تخلیقی اَہمیتوں کو دانستہ یا غیر دانستہ گرانے یا دریافت کی دَرد سَری سے بچنے کے لئے دھوکا دینے والی تن آسانی میں اُن کے نام ایک ہی سطر میں بریکٹ کر دیتے ہیں۔ جب کہ سارا شگفتہ کے نام اور اُس کی شاعری کو دُوسرے ہم عصروں اور اُن کی شعری و ادبی کار روائیوں سے بریکٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو ضرور ہے کہ اُس نے اکثر نظمیں نثری نظم کی فارم میں لکھیں مگر اُس کی نثری شاعری گذشتہ تین دہائیوں سے اب تک کی نثری شاعری سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اُس کی ووکیبلری کی ساخت بےمِثل ہے۔ اگر ہم اُس کے شعری تھیم کا احاطہ کریں تو اُس کی آنکھیں ایک کَلیدی عرصہ، انتہائی زندگی اور انتہائی موت پر مُحیط ہیں۔ کم از کم بر صغیر میں سارا شگفتہ کے سِوا کوئی ایسی عورت نظر نہیں آتی، جس نے شعروادب کے میڈیم سے اِس انتہا پر سَچ بلکہ بَرہنہ سچ بولا ہو۔۔۔۔کہ اس سے اُس کی ذاتی دیو مالا بَن گئی ہو۔

(SELF-MYTH)
(
احمد ہمیش — 18، اگست 1984ء )
وکیل صفائی: چلیے اگر یہ مان بھی لیا جائے سارہ شگفتہ ایک بہت اہم شاعرہ تھی تو اس کا اس بات سے کیا تعلق ہے کہ اس کی موت کو قتل قرار دیا جائے۔
میں: محترم آپ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پہلے آپ نے کہا کہ تاریخ کی عدالت میں صرف تاریخی شخصیات کے مقدمات سنے جا سکتے ہیں تو میں اس بات کو واضح کر رہا ہوں کہ سارہ شگفتہ ایک تاریخی شخصیت کی حامل تھی۔
تیسری اہم شہادت محترم قمر جمیل کی ہے جن کی حیثیت سارہ شگفتہ کے گرو کی تھی۔ انہوں نے کہا؛
سارا شگفتہ کی شاعری کی رسائی اُن حقیقتوں تک ہوتی ہے ۔ جہاں تک ہمارے نثری نظم لکھنے والوں کی رسائی کبھی نہیں ہوئی۔ وہ اعلٰی ترین ذہنی اور شعری صلاحیتوں کی مالک ہے، انسانی نفس کے ادراک میں جو قُدرت اُسے حاصل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں۔
(
قمر جمیل یکم فروری 1985ء)
اس کے علاوہ بھی سارہ شگفتہ کے بارے میں کتابیں اور مضامین لکھے گئے، میڈیا پر ڈرامے ہوئے، یادگاری تقریبات ہوئیں۔ امرتا کی کتاب ایک تھی سارہکے علاوہ انور سین رائے نے ذلّتوں کے اسیرکتاب لکھی۔ پھر عذرا عبّاس نے کتاب لکھی۔ کچھ لوگوں نے اسکی مخالفت بھی بھرپور کی۔ اب جس فرد کے بارے میں اتنی کتابیں لکھ دی جائیں اس کی کوئی تاریخی اہمیّت تو ہو گی ہی۔
عدالت: آپ کی پیش کردہ ان شہادتوں سے عدالت مطمئن ہو گئی ہے کہ سارہ شگفتہ کی ایک تاریخی اہمیّت ہے اور اس کا مقدمہ اس عدالت میں سنا جانا چاہیے۔ اب آپ اپنی گفتگو اگلے نکتے پر لائیں۔
میں: میں معزز عدالت کی توجہ اس نکتے کی طرف دلانا چاہوں گا کہ اگر ایسے حالات پیدا کر دیے جائیں کہ کوئی شخص خود اپنی جان لے لے چاہے وہ دانستہ ہو یا حادثاتی تو پھر اُسے قتل قرار دیا جانا چاہیے۔ جیسے کسی انسان کے پیچھے شکاری کتے چھوٹ دیے جائیں اور وہ شخص گھبرا کر بھاگتے ہوئے سڑک پر آکر کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو اسے قتل ہی کہا جائے گا۔
پس اگر ایک عورت کو متواتر ایسی جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی جائیں جن کی وجہ سے اس کی شخصیت ریزہ ریزہ ہو جائے، جس کی وجہ سے اسے اسپتال میں پاگلوں کے وارڈ میں رہنا پڑے اور جس کی وجہ سے بجلی کے جھٹکے دیے جائیں، بے حساب دوائیں کھانی پڑیں اور وہ طرح طرح کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جائے اور ایسے میں خودکشی کی کئی ناکام کوششوں کے بعد آخر کار وہ ٹرین کے نیچے آکرجان دے دے تو اس کو بھی قتل عمد قرار دیا جانا چاہیے۔
میں مقدمے کو مزید طول دیے بغیر اس معزز عدالت سے درخواست کروں گا کہ پیش کردہ شہادتوں اور حقائق کی روشنی میں اپنا فیصلہ سنائے۔
عدالت: وکیل صفائی کو مزید کچھ کہنا ہے؟
وکیل صفائی: جی نہیں
عدالت: مقدمے کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ اب بنچ کے ارکان کو فیصلہ کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔ یہ فیصلہ دو گھنٹے بعد سنایا جائے گا۔ فی الوقت عدالت برخواست کی جاتی ہے۔

(
دو گھنٹے مجلس عدالت پھر آراستہ ہوتی ہے۔فیصلہ سننے کے لیےآنے والوں سے عدالت کا کمرہ کھچاکھچ بھر اہوا ہے۔ تمام منصفین اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے ہیں۔ عدالت کے ترجمان مولانا محمد حسین آزاد نے بھی اپنی نشست سنبھال لی ہے۔)

عدالت: منصفین نے اس مقدمے کے تمام پہلووں کا انفرادی طور پر بھی راتوں کو جاگ جاگ کر مطالعہ کیا ہے اور اجتماعی طور پر بھی اس پر غور کیا ہے۔ اس غور وخوض کے نتیجے میں عدالت متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ
تاریخ کی نظر میں سارہ شگفتہ کو معاشرے نے قتل کیا ہے۔ اس کی زندگی میں شوہر کے روپ میں آنے والے مردوں نے براہ راست اس پر ستم ڈھائے۔ اور اس کے ساتھ محفلوں میں شریک ہونے والے لوگوں نے بھی اس کی زندگی کو عذاب بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ عدالت ان سب کو قتل کے جرم میں شریک سمجھتی ہے۔
سارہ شگفتہ مظلوم معاشرے کی ایک چیخ تھی جو گلیوں اور چوباروں میں سنی گئی۔ جب کوئی شخص تکلیف کی وجہ سے چلا رہا ہو تو اس پر محفل کے آداب لاگو نہیں کیے جاسکتے۔ سارہ کا رویہ خوداختیاری نہیں تھا، یہ اس کے کرب کی ایک اضطراری عکاسی تھی۔ معاشرے کی اس چیخ نے یقیناً بہت سے لوگوں کی ترجمانی کی ہے اور بہت سے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔ یہ چیخ معاشرے کی عام عورت، اور عام مرد کے گلے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے۔ قتل عام انسان کوبھی ستا ستا کر کیا جاتا ہے، مگر اس کی داستان تاریخ کے صفحات پر رقم نہیں ہوتی۔ سارہ شگفتہ کے روپ میں عام انسان کے ابتلاء کی داستان تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔
عدالت ان لوگوں کی مذمت کرتی ہے جو اس مظلوم عورت کے کردار پر شہرت حاصل کرنے یا چسکے لینے کے لیے کیچڑ اچھالتے ہیں۔ خاص کر وہ لوگ جو خود دیندار بن کر اس کو جہنمی ہونے کی سند دیتے ہیں۔
عدالت برخواست ہوتی ہے۔ کمرہ عدالت میں حاضرین کا رد عمل ملا جلا ہے۔ اکثر لوگ فیصلے سے مطمئن ہیں مگر بعض اس پر نکتہ چینی بھی کر رہے ہیں ۔ فیصلہ کچھ بھی ہو میرا کام مقدمہ پیش کرنا تھا۔ ۔ مجھے اطمینان ہے کہ میں نے اپنا کام کر دیا ہے۔

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s